ساکران ،ٹھٹھہ اور گھاروسے غیرمعیاری ,مضرصحت اور زیریلے کیمیکل ملے پانی سے بھرے ٹینکروں کو کراچی میں داخلے سے روکا جائے

ایم ڈی واٹربورڈ اسداللہ خان نے آئی جی سندھ پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ساکران ،ٹھٹھہ اور گھاروسے غیرمعیاری ,مضرصحت اور زیریلے کیمیکل ملے پانی سے بھرے ٹینکروں کو کراچی میں داخلے سے روکا جائے ،

انسانی صحت کیلئے خطرناک پانی فروخت کرنے والے ہائیڈرنٹس کا قلع قمع کیا جائے ،انسانی جانوں سے کھیلنے والے افرادکو قانون کی گرفت میں لایا جائے ،آئی جی سندھ پولیس کے نام ایک مکتوب میں ایم ڈی واٹربورڈ نے کہا ہے کہ سماج دشمن عناصرچند ٹکوں کی خاطرشہریوں کی زندگیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حب کے علاقہ ساکران ،ٹھٹھہ اور گھاروسے ٹینکروں کے ذریعے کراچی میں پانی کی فروخت میں ملوث ہیں ،ان علاقوں میں قائم غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے ذریعے جوہڑوں،نالوں او ر دیگر ذرائع سے مضر صحت پانی ٹینکروںمیں بھر کر کراچی میں فروخت کیا جارہا ہے،زہریلے کیمیکل ملے پانی سے بھرے ٹینکرزر منگھو پیر ، موچکو، معمار اور گھارو تھانوں کی حدود سے شہر میں داخل ہوتے ہیں ،انتہائی مضر صحت اور کیمیکل ملے پانی کے ٹینکر شہر کی سڑکوں پر باآسانی فروخت ہورہے ہیں،زہریلے کیمیکلز والے پانی کی فروخت واٹر بورڈ خصوصاً سندھ حکومت کی کرونا وائرس کے خلاف جاری کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے،شہر میں کرونا وائرس کی موجودگی میں مضر صحت پانی کی فروخت مزید بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ واٹربورڈ شہریوں کو فلٹر اور کلورین کی مناسب مقدر ملاپانی فراہم کررہا ہے واٹربورڈ کے ہائیڈرنٹس پر بھی کلورین ملاپانی ٹینکروں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے اس کے علاوہ واٹربورڈ کرونا سے متعلق جاری صوبائی حکومت کی ہیلتھ ایڈوائزری پر سوفیصد عملدرآمدرکررہا ہے ، واٹربورڈ کے فلٹر پلانٹس،پمپنگ اسٹیشنز ہائیڈرنٹس پر حکومتی احکامات پرمن وعن عمل کیا جاتا ہے ،واٹربورڈ کی لیباریٹریز 24گھنٹے فعال ہیں اور اس مقصدکیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ہر گھنٹے پانی کے نمونوں کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے ،ان حالات میں چند سماج دشمن عناصر کی جانب سے یہ مکروہ دھندھا واٹربورڈکی تمام تر کوششوں کو ثبوتاژ کررہا ہے ،انہوںنے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس جانب توجہ دی جائے اور غیرمیعاری وزہریلے کیمیکل ملے پانی کی شہر میں ٹینکروں کے ذریعے آمد اور فروخت بند کرائی جائے