چیئرمین Nepra اور مشیر خزانہ توجہ فرمائیں!

چیئرمین Nepra اور مشیر خزانہ توجہ فرمائیں!

موجودہ ملکی حالات میں صنعتوں کو رواں دواں رکھنے کیلئے حکومتی تعاون کی شدید ضرورت محسوس کی جاسکتی ہے۔ ملک میں ہر طرف بندش کی خبریں آرہی ہیں اور حکومت اسمیں صنعتوں کو کچھ ریلیف دے کر بر آمدی صنعتوں اور کچھ دوسری انڈسٹری کو کھولنے کی اجازت دے رہے ہیں تاکہ صنعتی پیہہ جو کہ رک گیا تھا ایسے کسی صورتحال کر کے معیشت کو بہتر کیا جاسکے اور اپنی صنعتوں کو حکومت مالی تعاون کرنے کیلئے قرضہ جوکہ کم شرح سود پر ہونگے اسکے لئے اسٹیٹ بینک سے اقدامات کرچکی ہیں ان حالات میں Karachi Electricجو کہ کراچی میں سپلائی کا ذمہ دار ہے اسکی Regularاتھارٹی Nepraہے۔
March 2020کے صنعتی صارفین کے بلوں میں 18/-روپے فی یونٹ کا اضافی بل جو کہ KEنے July 2019سےDec. 2019کے بلوں میں 3/-روپے فی یونٹ Industrial Support Package(ISPA)نام پر کٹوتی کر کے بل ارسال کئے تھے۔ پہلے March 2020کے بل میں ان چھ مہینوں کی ریلیف کو یکمشت چارج کر کے بل ارسال کئے تھے پھر تاجر تنظیموں اور صنعتی تنظیموں کی توجہ دلانے پرMarch 2020کے بلوں کو دوبارہ صحیح کر کے بھیجا گیاجس میں ISPAچارج نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن آج تک اس مسئلہ کو حل نہیں کیا گیا۔
KEنے April 2020کے بلوں میں پھرISPAچارج کر کے بھیج رہا ہے Packageہمیشہ ایک ریلیف ہوتا ہے جو کہ صنعتوں کو دیا جاتا ہے تاکہ انکی مالی معاونت کی جائے اور اسکی وصولی کا بھی طریقہ کا بہت ہی آسان کیا جاتا ہے۔
ایک عام اصول یہ ہے کہ اگرPackageکسی بھی حوالے سے دیا جاتا ہے جیسے کہ اسٹیٹ بینک نے ملازمین کو تنخواہ دینے کیلئے قرضہ کی سہولت دی ہے اسکا مارک اپ بہت ہی کم رکھا ہے اور اسکی ادائیگی کا طریقہ بھی آسان اور مدت کا تعین بھی زیادہ دیا ہے۔
KEنے چھ مہینہ 3/-روپے فی یونٹ ریلیف چھ مہینہ کے بلوں میں دیکر دو مہینے کے بعد ان چھ مہینے کے ریلیف کو یکمشت دو مہینے کے بعد چارج کردیا گیا یعنی دوسرے الفاظوں میں KEنے چھ مہینے کمیٹی ڈالی اور پھر یکمشت ادائیگی کا نوٹس دے دیا۔
اصولی طور پرکوئی بھی Packageہو اسکی مدت جتنی بھی ہو جیسے کہ KEکے بل 6مہینے کے ہیں اسکی ادائیگی کا طریقہ 6مہینے کے ریلیف کو چھ سالوں میں وصول کیا جاتا ہے۔ ورنہ یہ کوئی ریلیف نہیں ہوا بلکہ صنعتی صارفین پر بوجھ ہوگیا موجودہ حالات جوCoronaکی وجہ سے مشکلات میں چل رہے ہیں ادائیگی کے طریقہ کار کے تعین کو ان حالات کو مد نظر رکھ کر کرنا چاہیےISPAکی وصولی کو فی الحال موخر کیا جانا چاہیے اور جب ملکی حالات صحیح ہو پھر ایک مہینہ کے ISPAکو ایک سال میں وصولی فارمولا دینا چاہیے چونکہ ISPAجن کو بھی دیا گیا ہے وہ آپکے یعنی KEکےConsumerنئے نہیں ہے اور نہ ہی وہ کہیں جارہے ہیں اس لئے اس مسئلہ کو مستقل طور پر حل کیا جانا ضروری ہے۔تاکہ صنعتکار جو کہ اس وقت مشکل میں ہیں ان کی مدد کی جاسکے۔
ملک میں اس وقت معیشت کے جوحالات ہیں وہ اس قابل نہیں ہیں کہ ان پر کوئی اضافی بوجھ ڈالا جائے اور نہ ہی اس مسئلے کو با ر بار بلوں میں چارج کر کے ذہنی کوفت میں مبتلا کیا جائے۔ فی الحال ISPAکی ادائیگی کو کم از کم حالات کی درستگی تک موخر کیا جائے۔ موجودہ ملکی حالات کا صحیح ہونے کا ٹائم پریڈ ڈنیا میں کوئی بھی نہیں دے رہا ہے۔جبکہ اس کا دورانیہ دسمبر2020تک دیکھ رہے ہیں ہمارا ملک بھی اس Corona Virusمیں گھرا ہوا ہے اور اگر دنیا کی بات کو مد نظر رکھیں اور حالات نارمل 2020دسمبر تک ہو بھی جائیں پھر جو آٹھ سے نو مہینہ کی بندش کی نقصان پورا کرنے کے لئے مزید ایک سال درکار ہوگا اور بین الاقوامی حالات معیشت کے حوالے سے کیا نقشہ ہوتا ہے پھر بھی صحیح صنعتوں میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
چیئرمین صاحب سے گذارش ہے کہISPAکے بلوں کے چارج کے حوالے سے پالیسی ترتیب دی جائے کہ جب حالات نارمل ہوجائے پھر اسکے چارج

کا طریقہ واضح کیا جائے، ہر مہینہ بلوں میں چارج کر کے پھر اسکی وصولی موخر کی جائے یہ مناسب نہیں ہے بلکہ صنعتکاروں کو اضافی دباؤ دینے کی بات ہے جو کہ اس وقت Coronaکی وجہ سے بہت زیادہ مشکل میں ہیں تنخواؤں کی ادائیگی کیلئے اسٹیٹ بینک ریلیف دے رہا ہے اسی صورت میں KEکو بھی اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔صنعتکاروں اورKEکا تعلق ٹوٹ نہیں رہا ہے کہKEاپنا دباؤ بڑھانے کی کوششوں میں لگی ہوئی اس روشن کو بدلنا ہوگا۔
Haroon-Hassan-Fatta-