کراچی ٹرانسپورٹ کا ہنگامی اجلاس ۔یکم مئی کی بجائے 6 مئی کو گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا اعلان ۔حکومت امدادی پیکج کا اعلان کرے

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر سید دلشاد حسین شاہ بخاری کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا

جس میں سندھ ایئرکنڈیشن بس ایسوسی ایشن نے بھی شرکت کی آل اس کے بعد سید شاہد حسین شاہ بخاری نے بتایا کہ ایک ماہ سے زیادہ ہمیں سندھ حکومت کے ساتھ احمد کرتے ہوئے ہو گیا ہے ناگہانی آفت کے سلسلے میں بدھ کو بچاتے ہوئے ہم نے حکومت کے حکم پر بسیں منی بسیں رکشے کھڑے کر رکھے ہیں جبکہ تاجروں اور مل مالکان کو ایس او پی کے تحت کام کرنے کی اجازت مل چکی ہے فیکٹریوں میں کانٹریکٹ پر ایس او پی کے تحت گاڑیاں چلنا شروع ہوگئی ہیں ہمارا وفد وزیر

ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ سے ملاقات کرکے ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کی صورتحال سے آگاہ کرچکے ہیں
کے پچاس سال والی صورتحال نہیں ہے جب لوگوں کے پاس چالیس چالیس پچاس پچاس گاڑیاں ہوتی تھی اب تو ٹرانسپورٹر قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوتا ہے ہر مہینے کس دینی ہوتی ہے جبکہ ڈرائیور اور کنڈکٹر روزانہ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں اور اجرت لیتے ہیں ماہانہ تنخواہ نہیں ہوتی اور ٹرانسپورٹ کے مالکان اتنے امیر نہیں ہیں کہ گھر سے رقم نکال نکال کر انہیں کھلاسکیں صورتحال سنگین ہو چکی ہے اس لیے حکومت سے پیکج کی اپیل کر رہے ہیں کرونا وائرس کے ساتھ حکومت کے ساتھ مل کر مقابلہ کرنا ہے لیکن جو حکومت آئینی جمہوری اور شرعی ہوتی ہے وہ فلاحی مملکت جسے قائداعظم محمد علی جناح نے بنایا اس ملک کے حکمرانوں کا فرض ہے کہ قائداعظم کے حکم کے مطابق کام کریں 72 سال بعد بھی بدقسمتی سے ہم فلاحی ملک نہیں بن سکے لیکن اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں ہے ہماری فوج ہماری ایجنسیاں ہمارے حکمران سب محب وطن ہیں لیکن ہمارے اکثر حکمران سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوتے ہیں وہ امیر ہیں ان کو مزدور محنت کش کا احساس کم ہوتا ہے ایلیٹ کلاس کے لئے یہ باتیں تکلیف دی ہو سکتی ہیں لیکن یہی سچ ہے کراچی میں چھیالیس سال سے نمائندگی کر رہا ہوں ڈرائیوروں کا حال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے وزیراعظم عمران خان سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ لاک ڈاؤن پرنظرثانی کریں ان کی باتوں سے حوصلہ ملا ہے غریب کو ۔وزیراعلی مراد علی شاہ بھی مہربان ہیں ان سے بھی دست بدستہ درخواست کرتا ہوں

کہ غریبوں کا خیال رکھ کر تمام باتیں طے کی جائیں ہم نے یکم مئی کو ٹرانسپورٹ چلانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتی پالیسی کے مطابق قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اب ہم پانچ تاریخ تک گاڑیاں سڑکوں پر نہیں لائیں گے اور چھ تاریخ کو گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا اعلان کرتے ہیں لیکن اس دوران حکومت ہمارے لئے امدادی پیکج کا اعلان کرے ہماری شروع دن سے یہ سوچ رہی ہے کہ قانون کو کبھی ہاتھ میں نہیں لینا ہمارے کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ حکومت ہمارا احساس نہیں کر رہی نہ امدادی پیکیج دے رہی ہے نہ ہمارے ساتھ اچھا رویہ رکھا ہوا ہے تاجروں کو آن لائن کاروبار کرنے کی اجازت ہے چھوٹے تاجروں کے ساتھ نرم رویہ ہے لیکن اگر کچھ نہیں کیا جا رہا تو ٹرانسپورٹرز کے لیے کچھ نہیں کیا جارہا یہ بڑی زیادتی ہے ہمارے اراکین کا کہنا تھا کہ بخاری صاحب آپ ہمارے بڑے ہیں ہمیں منع کرتے ہیں ہم آپ کی بات سن کر چپ ہو جاتے ہیں ہفتہ ہو گیا ہے کہ گاڑیاں چھ تاریخ کو روڈ پر آئیگی وزیراعلی پیکیج کا اعلان کریں اگر اس طرح لاپرواہی برتی گے ہمارا احساس نہیں کریں گے تو ہمارے ڈرائیور کنڈیکٹر مجبور ہوجائیں گے 6مئی کو سڑکوں پر آنے پر ۔ہم نے کبھی حکومت کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار نہیں کیا یہ ہماری اپنی حکومت ہے تصادم ہو بھی نہیں سکتا ہونا بھی نہیں چاہیے نہ پولیس کے ساتھ نہ حکومت کے ساتھ نہ ایجنسیوں کے ساتھ لیکن خدارا مراد علی شاہ صاحب اور عمران خان صاحب آپ ہمارے ملک کے بڑے ہیں آپ ہمارے بچوں کا خیال کیجئے اور ہمیں فاقوں سے بچائے اگر ہم گاڑیاں چلا نہیں سکتے حالانکہ ہم ایس او پی کے تحت گاڑیاں چلانے کے لئے تیار ہیں تو پھر کم از کم ہمارے لئے پیکیج کا اعلان کریں مجھے پیسے نہ دیں اپنے کسی وزیر کو مختصر کریں جو شناختی کارڈ دیکھ کر اصل ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو اپنے ہاتھوں سے پیسے تقسیم کرے یہ بات ہمارے لیے قابل قبول ہوگی اور آپ کو دعائیں بھی دیں گے اگر ایسا نہ ہوا تو پھر وہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہیں اس میں بہت قربانیاں دینا ہوگی لیکن چھوٹے بچوں کی خاطر کیا کریں سب کریں گے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ آپ نے موٹر وہیکل ٹیکس میں 25 فیصد معافی کا اعلان کیا ہے یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے آپ ایک سال کا موٹر ویکل ٹیکس معاف کریں کراچی میں سی این جی اور چنگ چی رکشہ چل رہے ہیں وہ چھ اور آٹھ مسافروں کو سفر کرا رہے ہیں پولیس اور ٹریفک پولیس اور لوگ سب دیکھ رہے ہیں وہاں کرونا وائرس کا رول کہا گیا میں یہ نہیں کہتا کہ ان کا روزگار بند کر دی لیکن دلیل اس لیے دے رہا ہوں کیا آپ خود وزیراعلی ہاؤس سے باہر نکلے سادہ کپڑوں میں آ کر دیکھیں کہ لوگ آپ کی حکومت کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں بڑے شاپنگ مال مارکیٹ میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ کھڑے ہیں نماز پہنا ہوا ہے نہ سینیٹ ایز رہے نہ آپس میں فاصلہ رکھا ہوا ہے لوگ دیکھتے ہیں تو ہم سے پوچھتے ہیں کہ پھر ہمارا قصور کیا ہے ساری ناانصافی ہمارے لئے کیوں ہم گاڑیاں کیوں نہیں چلا سکتے یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر نہیں چلے گا مہربانی کرکے آپ اس کو روکے یا نہ روکے ہیں آپ کا فیصلہ ہے لیکن ہمیں گاڑی چلانے کی اجازت دی ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم سینیٹر بھی استعمال کریں گے ماسکو استعمال کریں گے ایس او پی کا خیال بھی رکھیں گے اور ساری احتیاط کریں گے اگر نہ کر سکے تو دوبارہ ہماری گاڑیاں بند کر دیجئے گا لیکن ہمارے پیٹ کا بندوبست کریں عوام کے ووٹ سے آئے ہیں اس لیے عوام کو جواب دے ہیں جمہوریت کا اصول ہے عوام کے لئے عوام کے ذریعے ہم ایسی کوئی بات نہیں کرنا چاہتے جس سے آپ پریشان ہو لیکن آپ ہماری پریشانی کا احساس کریں ۔
رپورٹ وحید جنگ جیوے پاکستان ڈاٹ کام