ہزاروں ٹرک میں پاکستانی تاجروں اور ایکسپوٹرز کا مال بارڈر پر پڑے ہونے کی وجہ سے شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے : میاں انجم نثار

صدر ایف پی سی سی آئی میاں انجم نثار نے کہاکہ چمن، طورخم اور گولارچی میں پاک افغان باہمی دوطرفہ تجارت جمود کا شکارہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کر تے ہوئے کہاکہ کوروناوائرس کی وبا کی وجہ سے بارڈر بند کر دیئے گئے تھے جبکہ حکومت پاکستان کی طر ف سے اس ماہ پاک افغان بارڈر کھول دیا گیاتھا لیکن بارڈر حکام صرف ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلقہ کارگو ٹرکوں کو افغانستان جانے کی اجازت دے رہا ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہاکہ پچھلے کئی روز سے ہزاروں ٹرکوں میں پاکستانی تاجروں اور ایکسپوٹرز کا مال بھی بارڈر پر پڑا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستانی تاجروں اور ایکسپورٹر کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بارڈر کھلنے کے باوجود بھی پاکستانی ایکسپورٹر ز کے مال کو افغانستان جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے صرف افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت تمام کارگوز کو افغانستان جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
 

انجم نثار نے مزید کہاکہ پاکستانی ایکسپورٹرز کا افغانستان کے لئے بارڈر پر موجود مال کسی اور ملک بھی نہیں بھیجا جا سکتا کیونکہ تاجروں نے ان اشیا ء کی تمام ادائیگیاں بشمول ایڈوانس انکم ٹیکس اور EDF چارجز بنکوں میں لاک ڈاؤں سے پہلے جمع ہی کرا چکے ہیں۔ انہوں نے منتبہ کیا کہ بارڈ ر پر موجود پاکستانی تاجروں کا مال جلد خراب ہونے والے اشیا ء پر مشتمل ہے جن میں چاول، سبزیاں، انڈے، دوائیں، جانور وں اور پولٹری فیڈز، چھوٹا چوزہ، پینٹ اور دیگر متفرق اشیا ء ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان نے تاجروں کی سہولت کیلئے پاک افغان دوطرفہ باہمی تجارت اور پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ دونوں کیلئے بارڈر کھولے ہیں لہٰذا پاکستانی تاجروں اور ایکسپورٹرز کے مال کو بھی ہنگامی بنیادوں پر افغانستان منتقل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے علاوہ پاک افغان باہمی تجارت میں بھی پیش رفت ہو جوکہ فی الوقت جمود کا شکا ہے۔
انجم نثار نے کہاکہ کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤں شروع ہوا توایران اور افغانستان کی باہمی تجارت ایک دن کیلئے بھی بند نہیں ہوئی جبکہ پاکستانی ایکسپورٹرز شدید مشکلات کا شکا ر ہے اور پاک افغان باہمی تجارت مکمل بند ہے جو کہ معیشت کیلئے ایک دھچکہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مشیر تجارت پاکستان رزاق داؤدز نے یقین دلایا تھا کہ پاکستان افغان بارڈر ہفتہ میں پانچ دن آپریشنل رہے گا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ بارڈر پر متعلقہ حکام کو فوری نوٹیفیکشن جاری کرئے اور انہیں حکم دے کہ وہ پاکستانی اشیا کو بھی افغانستان منتقل کرنے کی اجازت دیں۔