جناح ہسپتال میں خودکشی کرنے والے شخص کا کورونا ٹیسٹ منفی آگیا

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں قائم آئیسولیشن وارڈ سے چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے والے شخص کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آگیا۔
ہسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ 37 سالہ فواد عباسی کو وائرس کی ممکنہ علامات ظاہر ہونے پر اتوار کی شب کراچی کے علاقے لانڈھی سے جناح ہسپتال لایا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ خودکشی کرنے والا شخص مبینہ طور پر منشیات کا عادی تھا۔
ڈاکٹر سیمی جمالی کے جاری کردہ بیان کے مطابق مریض کو غنودگی کے عالم میں ہسپتال لایا گیا تھا بعدازاں اسے ہوش آیا تھا جبکہ مذکورہ شخص کا رویہ بھی غیر معمولی تھا۔متاثرہ شخص کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ مریض کا سینے کا ایکسرے کیا گیا تھا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مریض ممکنہ طور پر وائرس سے متاثر تھا چنانچہ اسے ہسپتال میں کووِڈ 19 کے مریضوں کے مختص وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھاہسپتال انتظامیہ کے مطابق مریض نے اپنے کپڑے اتار کر ہسپتال کی بلڈنگ میں گھومنا شروع کردیا تھا ساتھ ہی عملے کو دھمکی بھی دیں۔

مریض کے قابلِ اعتراض رویے پر اسے تیسری منزل پر بند کردیا گیا تھا جہاں اس نے لوہے کی جالی اور دروازوں کو نقصان بھی پہنچایا اور صبح 6 بج کر 58 منٹ پر کھڑکی سے کود گیا۔
جس کے نتیجے میں اس کے سر پر شدید چوٹ آئی جسے فوری طور پر شعبہ حادثات لے جایا گیا تاہم علاج کے دوران وہ دم توڑ گیا۔
بعدازاں ہسپتال ڈاکٹر سیمی جمالی نے اس بات کی تصدیق کی کہ خودکشی کرنے والے شخص کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا۔
اس سے چند روز قبل لاہور کے علاقے غازی آباد میں علاقہ مکینوں کی جانب سے کورونا وائرس کا مریض کہلائے جانے پر عمر رسیدہ شخص نے خودسوزی کر لی تھی۔
پولیس کے مطابق 68 سالہ حنیف احمد دمے کے مریض تھے تاہم چند لوگ انہیں کورونا وائرس کا مریض کہہ رہے تھے۔
سانحے کے روز حنیف کی حالت تشویشناک ہوگئی تھی اور انہوں نے دمے کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کی شکایات کی تھی تاہم چند پڑوسیوں نے ایک جیسی علامت کی وجہ سے انہیں کورونا وائرس کا کیس بتایا۔