وفاقی حکومت اپنی کمزوریوں، ناکامیوں پر سے توجہ ہٹانے کے لئے روز ایک نیا شوشہ چھوڑ دیتی ہے : سینیٹر سحر کامران

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور سوشل میڈیا، ریسرچ اینڈ کوآرڈینیشن سیل کی کوآرڈینیٹر سینیٹر سحر کامران نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی کمزوریوں، ناکامیوں پر سے توجہ ہٹانے کے لئے روز ایک نیا شوشہ چھوڑ دیتی ہے۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر آٹا چینی کرپشن اسکینڈل کے ذمہ داران کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر ایسے ہتھکنڈے مجرموں کو بچا نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اور عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے صوبوں کو ان کا حق دینے کی ضرورت ہے مگر وفاقی حکومت سندھ حکومت سے لڑائی میں مصروف ہے۔ سحر کامران نے کہا کہ تبدیلی سرکار صوبوں کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالنے کے بجائے صوبوں کے ساتھ تعاون کر کے آزمائش کی اس گھڑی میں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرے۔ سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ وفاقی حکومت اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر حملہ کرنے کے بجائے چینی، آٹا چوری اسکینڈل میں ملوث کرداروں کو سامنے لائے اور مجرموں کے خلاف فوری کاروائی کرے۔ سینیٹر سحر کامران نے تنبیہہ کی کپ اٹھارویں ترمیم پر حملہ وفاق کو کمزور کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ملک مسائل سے دو چار ہے اور کورونا جیسی خطرناک بیماری کا مقابلہ کر رہا ہے ایسے اقدامات وفاق کو کمزور اور قومی یکجہتی کو متاثر کریں گے یہ وقت تقسیم کا نہیں اتحاد کا ہے۔