مشکلات میں گھرے رہنے کے بعد تھائی لینڈ سے واپس آنے والے شمون عباسی اور مایا خان سے خصوصی بات چیت

پروازیں بند ہوجانے کی وجہ سے کئی ہفتے تک تھائی لینڈ میں پھنسے رہنے کے بعد پاکستان واپس آنے والے مشہور اداکار شمون عباسی اور نامور میڈیا پرسنیلٹی مایا خان صحت نصرت حارث نے خصوصی گفتگو کی اور ان کو درپیش آنے والی مشکلات ان پر گزرنے والے پریشان کن لمحات اور ان کے حوصلے اور دیگر پاکستانیوں کا حوصلہ بڑھانے کے حوالے سے ان کے جذبے پر کھل کر بات چیت کی ان کی کوششوں جذبے حوصلے اور اقدامات کو سراہا اور ان سے آگاہی حاصل کی کہ کس طرح وہ مختلف ملکوں میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی مدد کے لیے اقدامات کر رہے ہیں ۔

نصرت حارث سے ہونے والی یہ خصوصی گفتگو جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے قارئین کے لیے خصوصی طور پر یہاں پیش کی جارہی ہے شمون عباسی اور مایا خان دونوں ہی اپنے اپنے شعبے میں زبردست شہرت کی حامل شخصیات ہیں اور پاکستان سے محبت اور پاکستان کا نام دنیا میں روشن کرنے کے حوالے سے ان کی خدمات اور کردار ہے اب کرونا کے انتہائی مشکل وقت میں یہ بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی رہنمائی کے لیے بہت اہم خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
نصرت حارث کا کہنا جس طرح فرنٹ لائن وارءیرز اپنا کام انجام دے رہے ہیں اور وہ پاکستانی ہیرو ہیں خاص طور پر جو اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل عملہ ہے ان کی بہادری کو سلام کرنا چاہیے ۔جبکہ اس مشکل صورتحال میں جو لوگ پاکستان سے باہر مختلف ملکوں اور شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں ان کے بارے میں سوچ کر بھی جھرجھری سی آ جاتی ہے ۔

شمون عباسی نے بتایا کہ تھائی لینڈ میں 21 لوگ تھے ہم لوگ 21 مارچ کے بعد وہاں سے جہاز بند ہونے کی وجہ سے پھنس گئے تھے پہلے کہا گیا کہ چار فیل کو فلائٹ ملے گی پھر چار تاریخ کی بجائے آٹھ اپریل کی تعریف آئی وہ بھی گزر گئی پھر کہا گیا 11 اپریل کو واپسی ہوگی پھر 16 اپریل کو کہا گیا اس دوران20 لوگوں کے ساتھ مجھے رہنا اور ان کے ساتھ ان کا کھانا پینا اور انکے ضروریات کے انتظامات کرنے پروڈکشن ہاؤس کی ذمہ داری بن گئی تھی لوگوں کا نفسیاتی مسئلہ تھا کہ کب گھر جائیں گے خطرہ تھا کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی کچھ ہوا تو باقی لوگوں کا کیا ہوگا ۔
نصرت کے سوال پر شمون عباسی نے بتایا کہ ہم لوگ تھائی لینڈ کے ایک پہاڑی علاقے میں تھے جو بینکاک سے چار پانچ گھنٹے کے فاصلے پر ہے یہ ایک صاف ستھری جگہ ہے وہاں فورسٹ ہے پہاڑ تھے شہری افراتفری نہیں تھی اس لیے رہنا آسان تھا لیکن میں محسوس کر رہا تھا کہ لوگ نفسیاتی طور پر ڈاؤن ہونے لگے تھے کچھ لڑکے دو تین دن تک کمروں سے باہر نہیں آئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ بہت روتے رہے ہیں پاکستان میں سب کے گھر والے پریشان تھے کسی کی بیوی کسی کی بہن کسی کے گھر والے پوچھتے تھے کب آئیں گے میں نے سب کو حوصلہ دیا کہ ضرور گھر چلے جائیں گے پھر ہم نے ویڈیوز بنانا شروع کی تاکہ پارٹیز تک اپنا مسئلہ پہنچا سکیں ان کو مخاطب کرکے ہم نے ویڈیوز شیئر کی ۔
شمون عباسی نے بتایا ہے کہ وہاں پر ایک ایمبولینس کے ساتھ ایک ٹیم ایسی تھی جو ہمارا خیال کرتی تھی اور ہمیں چیک کرتے رہتے تھے ہماری دیکھ بھال کرتے تھے ۔

وہاں اور بھی پاکستانی پھنسے ہوئے تھے اس ہوٹل میں بیس لوگ اور تھے اور تھائی لینڈ میں ڈھائی سو کے قریب پاکستانیوں کا ہم سب کا آپس میں رابطہ ہوگیا تھا وہ لوگ ہم سے پوچھتے تھے کہ اگر آپ کو پاکستان لے جانے کا انتظام ہوا تو ہمارا کیا ہوگا کیا آپ ہمیں بھی ساتھ لے کر جائیں گے میں ان کو حوصلہ دیتا رہا کہ دیکھیں جہاز آئے گا تو ہم سب جائیں گے اور پھر میری کوشش تھی کہ اب میں صرف اپنے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے کوشش کرو سب کی آواز بنوں اور سب کے لئے میں بات پہنچاؤ ہوٹل میں ہم چالیس لوگ تھے ان میں بچے بھی تھے اور چھوٹے بچے بھی تھے ان کے لیے کھانا پینا کپڑے منگواکر صفائی کا انتظام کرنا ۔یس اب ہم نے کیا اور ہوٹل والوں نے بھی ہمارا ساتھ دیا عملے نے کہا کہ آپ بہت صفائی کا خیال رکھ رہے ہیں میں کہنا چاہوں گا کہ مایا خان نے اس عرصے میں ایک بہن کی طرح ہمارا ساتھ دیا ۔
وطن واپس آنے کے بعد ہم نے ایک لسٹ بنائیں اور ہم نے یہ سوچا کہ کیا چیلنج ہے کہ اس طرح لوگوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ ان علاج میں کیا کرنا ہے مایا خان نے کہا کہ دراصل لوگوں کو گائیڈنس چاہئے لوگوں کو گائیڈ کیا جائے بتایا جائے کہ کس طرح وہ واپس آ سکتے ہیں مختلف ملکوں اور شہروں میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو واپس آنے میں ٹائم لگے گا ہم نے لوگوں کو گائیڈ کیا ہے اور ہم نے ایک پیج بنایا ہے
OPRM
اس پیج پر ہم فیس بک کے ذریعے لوگوں کو گائیڈ کر رہے ہیں لوگ اپنا مسئلہ بتا سکتے ہیں بے دھڑک ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں تاکہ ہم ان کی رہنمائی کرسکیں ان کے لیے آواز بن سکیں ۔
شمون عباسی اور مایا خان نے کہا کہ پاکستان میں لوگ مل جل کر اپنے اپنے علاقے میں اگر کھانے پینے کی ذمہ داری اٹھا لیں تو کوئی بھوکا نہیں رہے گا اپنے علاقے کو سب بہتر طریقے سے جانتے ہیں صرف دو ہوٹل خلوالی وہاں کھانا بنوائی اور اپنے علاقے میں تقسیم کردیں ہم اسی طرح لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ وہ اپنے علاقوں میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں سب کچھ مشکل وقت میں حکومت کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے خود اپنے طور پر کوشش کرنی چاہیے واپس آکر اپنے یہی پیج بنایا اور لوگوں کو رابطے کی پلیٹ فارم فراہم کی کراچی لاہور اسلام آباد اور اپر جہاز آرہے ہیں وہاں پر ہم نے کوشش کی اپنے طور پر تین شہروں میں ٹیمیں بنائی ہیں اور لوگوں سے گزارش کی ہے کہ اگر دس دس لوگوں کا یا پانچ لوگوں کا کھانا بھی تیار کرکے بیچ سکتے ہیں تو بھیجیں کیوروسٹی نے بتایا کہ جب پاکستان واپس آیا تو ہمیں اندازہ تھا کہ 24 گھنٹے بعد پھر جائیں گے لیکن ہمیں پانچ دن تک کرنتینہ میں رہنا پڑا ہوٹل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں کھانا پینا بھی مشکل ہو جاتا ہے مسافر وطن واپس آکر زیادہ پریشان ہو رہے ہیں ۔

نصرت حارث نے پوچھا کہ یہ سب کچھ آپ اپنے طور پر کر رہے ہیں اپنی مدد آپ کے تحت کر رہے ہیں یا کوئی حکومتی مدد آپ کو ملی ہے اور اگر کوئی مخیر حضرات یا جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں اس کار خیر میں جوڑنا چاہیں رمضان کا مہینہ ہے تو وہ کس طرح آپ کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں ۔
شمون عباسی اور مایا خان نے کہا کہ ابھی تو ہم لوگ ہیں اور اللہ کی مدد ہے ۔دراصل ہم حکومت کے لیے مسائل اور مشکلات بڑھانا نہیں چاہتے اپنے طور پر کام کر رہے ہیں اللہ مدد کر رہا ہے اور لوگ حصہ ڈال سکتے ہیں ہم نے بنا دیا ہے لیکن اس صرف فیس بک پر بیٹھ کر باتیں کرنے سے مسائل حل نہیں ہوسکتے عملی اقدامات کے لیے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا ہوگا ہم اپنی آواز استعمال کر رہے ہیں جہاں تک پیغام پہنچا سکتے ہیں پہنچایا ہے ہم نے ایک طرز پروگرام شروع کیا ہے ایک احساس پروگرام شروع ہوا ہے دبئی میں کام کر رہے ہیں دبئی میں رزق ٹیم ایک گھرانے تک پہنچی تو انہوں نے چار دن سے کھانا نہیں کھایا تھا لوگ پریشان ہیں لوگ کس سے کہیں بات کرتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں سفید پوش لوگ کسی کے آگے بات نہیں کرتے ہاتھ نہیں پھیلاتے انکا کمی پہنچنا ہوگا نصرت حارث آپ کا پروگرام جہاں جہاں دیکھا جاتا ہے لوگ آپ کو دیکھتے ہیں یا پڑھتے ہیں ان سے بھی ہماری گزارش ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی مدد کے لیے خود آگے بڑھیں دنیا کے مختلف ملکوں میں پچاس ساٹھ ہزار پاکستانی لوگ پھنسے ہوئے ہیں جو وطن واپس آنا چاہتے ہیں لیکن ان کو واپس آنے میں وقت لگے گا لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ کتنا پریشر ہے فی الحال ان کو واپسی کیلئے ٹکٹ نہیں مل رہے انہیں پتہ نہیں ٹکٹ کیسے ملیں گے ہم ان کی رہنمائی کر رہے ہیں وہ اپنے سفارتخانے اور قونصل خانے سے رابطہ کریں ان لائن فارم تلاش کرکے بھری پاکستان کا سفارت خانہ اور قونصل خانہ ان سے خود رابطہ کرے گا کیونکہ پریشر زیادہ ہے اس لئے رابطہ کرنے میں داخل ہو رہی ہے لیکن رابطہ ضرور ہوگا آسٹریلیا اور یوکے سے اکثر لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے یو اے ای نزدیک ہے وہاں ہمارا رابطہ تھا اس لئے رس ٹیم زیادہ سرگرم رکھی ہوئی ہے جو راشن اور کھانا پہنچا رہی ہے لیکن آسٹریلیا اور یوکے میں ہماری ٹیم نہیں ہے پھر بھی لوگوں سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
مایا خان نے کہا کہ یہ وقت ہے اپنے یقین کو مضبوط کریں اللہ پر بھروسہ رکھیں رزق کا وعدہ اللہ نے کر رکھا ہے اس مشکل صورتحال میں ہمیں اللہ کی طرف واپس آنے کا موقع ملا ہے بیرون ملک جو لوگ پھنسے ہوئے ہیں وہ ہم سے رابطہ رکھ سکتے ہیں او پی آر ایم فیس بک پے ہمارا پیج ہے اس سے زیادہ شیئر کریں اس پر رابطہ کریں یہ ایک تحریک کے طور پر آگے بڑھ رہی ہے یہ کسی کا ذاتی ایجنڈا یا ذاتی مفاد نہیں ہے سب مل جل کر ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں آپ بھی اس طرح بن سکتے ہیں شمون عباسی نے کہا کہ تھائی لینڈ میں جو ہمارا سفارتخانہ تھا وہاں پر حکام نے کافی مدد کی اور گائیڈ بھی کیا لیکن وہ مشکل وقت تھا جو گزر گیا اب ہمیں مل جل کر ان لوگوں کے لئے سوچنا چاہیے جو مختلف ملکوں میں پھنسے ہوئے ہیں ان کے پاس پیسے نہیں ہیں ان کو واپسی کا ٹکٹ چاہیے اور یہاں آکر ہوٹل دیکھنا جات چاہیے یہاں آکر کھانا اور راشن چاہیے ہوگا دبئی میں بہت سے لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں آخر میں نصرت حارث نے کہا کہ شمون عباسی اور مایا خان آپ کا بہت شکریہ آپ بہت نیک کام کر رہے ہیں اللہ آپ کو کامیاب کرے میں آپ کو مبارکباد بھی پیش کرتی ہوں اور یقین دلاتی ہوں کہ ہم مل جل کر اس میں کام کریں گے اور میڈیا کے لوگوں کا تعاون بھی آپ کو شامل حال رہے گا ۔