آم کی فصل کی کٹائی کیلئے مقامی لوگوں کو تربیت دیکر کام لیا جائے تاکہ آبادگاروں کے معاشی نقصان کو کم سے کم کرنیکے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو کورونا وائرس سے بچایا جاسکے: شرجیل انعام میمن

حیدرآباد:  حکومت سندھ کی جانب سے حیدرآباد میں کورونا وائرس کے حوالے سے مقررکردہ فوکل پرسن ایم پی اے شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق سندھ میں آم کی فصل اندازاً4لاکھ ایکڑ زرعی اراضی پر مشتمل ہوتی ہے جس کی کٹائی کیلئے ہر سال دیگر صوبوں سے مزدور دیہاڑی پر مزدوری کیلئے آتے ہیں مگر موجودہ کورونا وائرس کی صورتحال کے باعث دیگر صوبوں سے آنے والے مزدور ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاو ٔ کا سبب بن سکتے ہیں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی لوگوں کو تربیت دیکر مذکورہ کام لیا جائے تاکہ آبادگاروں کے معاشی نقصان کو کم سے کم کرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی کورونا وائرس سے تحفظ مہیا کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ڈویزنل کمشنر حیدرآباد کے آفس میں کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ ، ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم احمد شیخ ، ڈی سی حیدرآباد فواد غفار سومرو ، ایس ایس پی حیدرآباد عدیل حسین چانڈیو اور ضلع کے مختلف آبادگاروں سے اجلاس کرتے ہوئے کیا۔

ایم پی اے شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سند ھ میں اندازاً17لاکھ ٹن آم کی کٹائی کیلئے ملک کے دیگر صوبوں سے ایک لاکھ سے زائد مزدور آتے ہیں جن کا موجودہ صورتحال میں سندھ میں آنا ملک میں وائرس کے پھیلاؤ  کا باعث بن سکتا ہے ۔ انہوں نے انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ آبادگاروں کی معرفت ٹھیکیداروں سے رابطہ کر کے انہیں موجودہ صورتحال کی وجہ سے در پیش خطرے سے متعلق آگاہی دیتے ہوئے تجویز دیں کہ وہ دیگر صوبوں سے مزدور طلب کرنے کے بجائے مقامی مزدوروں کو تربیت دیکر ان سے کام لینے کو ترجیح دیں جوکہ موجودہ صورتحال میں مقامی مزدوروں کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے ڈویزنل انتظامیہ کو کہا کہ آج ہی آم کی فصلوں کے ٹھیکیداروں کو طلب کر کے موجودہ صورتحال کے حوالے سے آگاہی دیکر مکمل اتفاق رائے سے کوئی پالیسی تشکیل دی جائے جس پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ کاشتکاروں اور ٹھیکیداروں کے معاشی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس موقع پر ڈویژنل کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ نے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد فواد غفار سومرو کو اس ضمن میں کاشتکاروں سے اجلاس کر کے حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ ڈویژن کے دیگر اضلاع کو بھی تجویز کی گئی پالیسی پر عملدرآمد کا پابند بنایا جائے۔