پیرا میڈیکل اسٹاف کی جانب سے موصول شکایات و ناانصافی کی متعدد شکایات پر پاکستان پیپلز پیرا میڈیکل اسٹاف کے مرکزی صدر امیر حسین شاہ کا مطالبہ

دنیا بھر میں محکمہ صحت و تعلیم کو عزت و وقار دے دیکھا جاتا ہے جب کہ بد قسمتی سے ہمارے یہاں ان شعبوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا..
موجود حالات میں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کاوشوں کو دنیا کا ہر فرض سراہتے ہوئے انکی حوصلہ افزائی کر رہا ہے
جب کہ سندھ کے پیرا میڈیکل اسٹاف مایوسی و بے چارگی کا شکار ہیں..
پیرا میڈیکل اسٹاف کی خدمات کے بنا ڈاکٹر یا نرس اپنے فرائض انجام نہی دے سکتے…
مریض کو وہیل چیئر سے لے کر بیڈ پر منتقل کرنا, مریض کے کپڑوں سے لے کر انکے چادر بستر دھونا جب کہ ٹیسٹ کے لیۓ خون نکال کر انکا ٹیسٹ کرنا پھر ایمرجنسی میں بنا یار جانے کہ اس مریض کو کون سی بیماری لاہک ہے انکے ٹانکے لگانا صفائی کرنا آپریشن تھیٹر ہو یا ٹی بی ڈیپارٹمنٹ xray یا الٹراساؤنڈ دھوبی گاٹھ یا گائنی وارڈ ہر ڈیپارٹمنٹ میں پیرا میڈیکل اسٹاف کی خدمات یقیناً قابل ستائش ہیں…
جب کہ پیرا میڈیکل اسٹاف کے ساتھ گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل نا انصافی کا مظاہرہ ہو رہا ہے اور یہ انتہائی تشویش ناک ہے…

پیرا میڈیکل اسٹاف کا نہ ہی سروس اسٹرکچر منظور ہوا نہ ہی آج تک رسک الاؤنس کے حوالے سے کوئی عملی اقدام دیکھنے میں آیا جب کہ موجودہ حالات کے پیش نظر جہاں دوسرے صوبوں میں ایک سے دو اضافی تنخواہیں پیرا میڈیکل اسٹاف کو بطور رسک الاؤنس دی گئیں اور سندھ کے پیرا میڈیکل اسٹاف کی تنخواہوں سے رقم کاٹ لی گئی…
بنا سیکورٹی کٹس کے کام کرنے والے کم تنخواہوں پر عظیم خدمات دینے والے پیرا میڈیکل اسٹاف آج مایوسی میں مبتلا ہیں…
وزیر اعلیٰ سندھ سید مرا علی شاہ صاحب
وزیر صحت سندھ محترمہ عذرا پیچوہو صاحبہ
سے درخواست ہے کہ
پیرا میڈیکل اسٹاف کو فوری کاٹی جانے والی رقم واپس کردی جاۓ اور بطور رسک الاؤنس انہیں بھی دوسرے صوبوں کی طرح دو اضافی تنخواہیں دی جائیں…
پیرا میڈیکل اسٹاف کا سروس اسٹرکچر فوری منظور کیا جاۓ…
اور ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس بقیہ 30% والا وعدہ پتا کیا جاۓ تاکہ سندھ بھر کے پیرا میڈیکل اسٹاف کو یہ یقین ہوجاۓ کہ حکومت وقت انکے ساتھ کھڑی ہے اور اس گھڑی میں انکی خدمات کا ثمر دیتے ہوئے سراہ رہی ہے….