خود غرض بھارت کا ایشیا کپ ، ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے جان چھڑانے کیلیے’غریب بورڈز‘کو ڈالرز کا دانہ ڈالنے کا منصوبہ تیار

ود غرض بھارت نے ایشیا کپ اور ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے جان چھڑانے کیلیے ’غریب بورڈز‘ کے سامنے ڈالرز کا دانہ ڈالنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ آئی پی ایل کیلیے ایشیا کپ اور ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ دونوں کو ہی داؤ پر لگانے کا ذہن بنا چکا، اس مقصد کیلیے غریب بورڈز کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی بھی شروع کردی ہے۔
بی سی سی آئی آفیشلز کے مطابق اس وقت یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کرکٹ کھیلنے والی اقوام کو کتنا نقصان ہوا، جب صورتحال بہتر ہوگی تو بھارت چھوٹی ٹیموں کیساتھ زیادہ باہمی میچز کھیلے گا جس سے انھیں زیادہ ریونیو جمع کرنیکا موقع میسر آئیگا، اگلے 12 ماہ کے دوران بھارتی ٹیم کو4 ممالک کا دورہ کرنا ہے، سری لنکا میں 6 محدود اوورز کے میچز شیڈول ہیں، آسٹریلیا میں 4 ٹیسٹ ہونے ہیں، زمبابوے میں 3 محدود اوورز کے میچز کھیلنے جبکہ جنوبی افریقہ میں 3 ٹی 20 میچز شیڈول ہیں۔

بی سی سی آئی کو آسٹریلیا میں رواں برس ٹی 20 ورلڈ کپ کے انعقاد کا امکان ویسے ہی کم دکھائی دے رہا ہے، اس حوالے سے ایک آفیشل نے کہا کیا آئی سی سی سنجیدہ ہے کہ 8 وینیوز پر اکتوبر میں میگا ایونٹ منعقد ہو جائیگا؟ کیا ایونٹ میں شریک دیگر15 ممالک کی حکومتیں اپنے کھلاڑیوں کو وہاں جانیکی اجازت دیدیں گی، آسٹریلیا بھارت کیساتھ دسمبر کی سیریز کے دوران ایک وینیو پر ایک سے زائد ٹیسٹ میچز کا سوچ رہا ہے وہ کیسے اکتوبر میں 8 وینیوز پر ورلڈ کپ منعقد کریگا؟۔
اس وقت بھارتی کرکٹ بورڈ کیلیے ورلڈ کپ اور ایشیا کپ ترجیح نہیں ہیں، اس کیلیے زیادہ اہم آئی پی ایل ہے جس سے وہ ہر ایڈیشن میں تقریباً 2500 کروڑ روپے کماتا ہے، 21-2020ء میں باہمی کرکٹ سے 950 کروڑ روپے کا وینیو حاصل ہونا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ورلڈ کپ میں شرکت سے بھارت سمیت تمام بورڈز کو 60 سے 90 کروڑ روپے حاصل ہوںگے جبکہ بی سی سی آئی اپنے ملک میں ایک میچ سے 60 کروڑ روپے صرف براڈکاسٹر سے کما لیتا ہے، جہاں تک آئی پی ایل کا معاملہ ہے تو اس سے صرف غیرملکی پلیئرز ہی مستفید نہیں ہوتے بلکہ بورڈز کو بھی پلیئرز ریلیز کرنے کے عوض معاوضوں کا 20 فیصد حاصل ہوتا ہے۔
ملتوی شدہ 13 واں ایڈیشن اگر منعقد ہوا تو ایک اندازے کے مطابق غیرملکی کھلاڑیوں کو 240 کروڑ روپے ملیں گے، انکے بورڈز کو 48 کروڑ روپے صرف پلیئرز ریلیز کرنے کی مد میں حاصل ہونگے، اس لیے آئی پی ایل ان تمام بورڈز کے بھی مفاد میں ہے۔ بی سی سی آئی کے ایک اور آفیشل نے کہاکہ ہماری ٹیم کیلیے مختصر وقت میں بہت سے ممالک کا دورہ کرنا ممکن نہیں اس لیے ہم ہوم سیریز کیلیے آنے والی مہمان ٹیموں کو بھی آمدنی میں سے کچھ حصہ دے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیاکہ اس مشکل وقت میں دوسرے بورڈز کے کام آکر بی سی سی آئی ایک بار پھر آئی سی سی میں اپنا اثررسوخ بڑھا سکتا ہے۔