محمد مالک اور حامد میر کے خلاف نئی مہم شروع ہوگئی ہے

پاکستان کے دو سینئر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں حامد میر اور محمد مالک کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک نئی پروپیگنڈا مہم شروع ہوگئی ہے

جس میں دونوں کی تصاویر کے ساتھ ان کا بائیکاٹ کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے اور تبصرہ کرنے والوں نے اس مہم میں حصہ بننے والوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کو اصل خطرہ ایسے لوگوں سے ہے لہذا ان کا بائیکاٹ کیا جائے اور ان کی مذمت کی جائے ۔
دوسری طرف محمد مالک اور حامد میر کی حمایت میں بھی سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹ سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں اور انکی حمایت اور دفاع بھی کیا جارہا ہے ۔
کرونا جیسی صورتحال میں پاکستانی میڈیا کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بحث میں الجھ گئے ہیں اور سوشل میڈیا میں زیادہ ہوا دی جا رہی ہے ۔
سنجیدہ صحافتی حلقوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں الجھنے کی بجائے اصل ایشوز پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے کرو نہ کی وجہ سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں حکمرانوں اور سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کی کارکردگی اور رویہ پر زیادہ بات ہونی چاہیے اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم اپنی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے اور ڈاکٹر کی بات سنی پورے ملک کے ڈاکٹر چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ احتیاط کریں گھر پر رہیں اور ہدایات پر عمل کریں لیکن چند مفاد پرست عناصر قوم کو غلط اور لاحاصل بحث میں الجھانے میں مصروف نظر آتے ہیں ۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں لوگ عبادت پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں اور حکومت کا کام ہے کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات جاری رکھے ۔