یہ اصل زندگی ہے….

اصغر گونڈوی کا اصل نام اصغر حسین ہے۔ ان کا شمار کلاسیکی دور کے شعرا میں کیا جاتا ہے۔ 1884 میں متحدہ ہندوستان کے ضلع گورکھ پور میں‌ پیدا ہوئے، لیکن ان کا خاندان گونڈہ منتقل ہو گیا تھا جہاں ان کے والد بسلسلہ ملازمت قیام پذیر تھے۔

اصغر گونڈوی کی ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہی ہوئی۔ علم و ادب اور مطالعے کے شوق نے شعر کہنے کی طرف مائل کیا۔ منشی جلیل اللہ وجد اور منشی امیر اللہ تسلیم سے اصلاح لیتے رہے۔

اصغر گونڈوی کو سادہ طبیعت اور پاکیزہ خیالات کا مالک کہا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں حسن و عشق کے مضامین کے علاوہ فلسفہ اور تصوف کے موضوعات پر اشعار ملتے ہیں۔ وہ 1936 میں اس دنیا سے رخصت ہوئے
اصغر گونڈوی کی ایک غزل آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے
جانِ نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے
جنت ہے ایک خونِ تمنا کہیں جسے

اس جلوہِ گاہِ حسن میں چھایا ہے ہر طرف
ایسا حجاب، چشمِ تماشا کہیں جسے

یہ اصل زندگی ہے، یہ جانِ حیات ہے
حسنِ مذاق شورشِ سودا کہیں جسے

اکثر رہا ہے حسنِ حقیقت بھی سامنے
اک مستقل سراب، تمنا کہیں جسے

اب تک تمام فکر و نظر پر محیط ہے
شکلِ صفات معنیِ اشیا کہیں جسے

زندانیوں کو آ کے نہ چھیڑا کرے بہت
جانِ بہارِ نکہتِ رسوا کہیں جسے

سرمستیوں میں شیشۂ مے لے کے ہاتھ میں
اتنا اچھال دیں کہ ثریا کہیں جسے

شاید مرے سوا کوئی اس کو سمجھ سکے
وہ ربطِ خاص، رنجشِ بے جا کہیں جسے

میری نگاہِ شوق پہ اب تک ہے منعکس
حسنِ خیال، شاہدِ زیبا کہیں جسے

دل جلوہ گاہِ حسن بنا فیض عشق سے
وہ داغ ہے کہ شاہدِ رعنا کہیں جسے

اصغرؔ نہ کھولنا کسی حکمت مآب پر
رازِ حیات، ساغر و مینا کہیں جس