روس: کانفرنس کال کے دوران خاتون ڈاکٹر کا خوفناک اقدام

ماسکو : روس میں سینئر خاتون ڈاکٹر نے اس وقت خودکشی کی جب اسے بتایا گیا کہ اس کے اسپتال میں کرونا وائرس کو مریضوں کو داخل کیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ افسوس ناک واقعہ روس کے شہر ماسکو میں پیش آیا جہاں ایک ڈاکٹر نے اپنے میڈیکل اسٹاف کےلیے حفاظتی سامان کی کمی کے باعث کانفرنس کال کے دوران 50 فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگاکر خودکشی کی کوشش کی۔

ڈاکٹروں اور نرسز نے دعویٰ کیا ہے کہ 47 سالہ ڈاکٹر یلینا دو بچوں کی ماں ہیں، جنہوں انتظامیہ کی کرونا مریضوں کو اپنے اسپتال میں داخل کرنے پر اعتراض تھا کیونکہ اسپتال میں میدیکل اسٹاف اور ڈاکٹروں کےلیے حفاظتی سامان کی قلت ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون ڈاکٹر پانچویں منزل سے گرنے کے بعد انتہائی نگہداشت وارڈ میں زندگی اور موت کی جنگ لڑرہی ہیں، ڈاکٹروں نے ان کے بچنے سے متعلق گفتگو کرنے سے انکار کردیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت متاثرہ ڈاکٹر ریجنل وزیر صحت بورس نیمک سے کانفرنس کال پر بات کررہی تھی کہ اچانک ان کے دفتر کی کھڑی سے کود گئیں۔

رپورٹ کے مطابق ان کے اسپتال میں کرونا مریضوں کے لیے 80 بستر لگائے گئے تھے جس پر انہیں اعتراض تھا کہ میڈیکل اسٹاف کے پاس حفاظتی سامان کی قلت ہے، لہذا ان کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔

ضلعی وزیر صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں کو رکھنے کےلیے حامی بھری تھی۔

خیال رہے کہ روس میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 80 ہزار 900 کا ہندسہ عبور کرچکی ہے جن میں سے 2300 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی 747 تک پہنچ گئی ہے