محمد مالک اور حامد میر میرے پاس آئیں آپ کو بتاؤں گا دو نمبر چینل کون سے ہیں اور ان کے مالکوں اور اینکروں نے کیا کیا کیا ہے ۔مبشر لقمان کا چیلنج

پاکستان کے مشہور ٹی وی اینکر اور تجزیہ کار مبشر لقمان نے مولانا طارق جمیل کے معافی مانگنے لکے معاملے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کس بات کی معافی اور کیوں مانگی ہے معافی ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا جھوٹ بولتا ہے اور میں یہ بات ثابت کر دوں گا حامد میر اور محمد مالک میرے پاس آئی میں ان کو بتاؤں گا کون سے دو نمبر چینل ہیں اور ان کے مالکوں اور اینکروں نے کیا کیا کیا ہے ۔
مبشر لقمان نے اس بات پر سخت غصے کا اظہار کیا کہ مولانا طارق جمیل کے کارٹون بنائے جارہے ہیں جملے کسے جارہے ہیں ان کا مذاق اڑایا گیا حالانکہ وہ بہت شریف آدمی ہیں دین کا کام کر رہے ہیں اللہ نے ان کو علم دیا ہے علم پہنچانے کا ہنر بھی دیا ہے اللہ نے انہیں منتخب کیا ہے اس کام کے لیے بنا ایم بی بی ایس تو بہت سے لوگ کرتے ہیں لیکن شفا کسی کسی کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔
مبشر لقمان نے کہا کہ میں تبلیغی جماعت کا رکن تو نہیں ہوں لیکن مجھے ان کی تفصیل بھی نہیں معلوم کہ کیسے شامل ہوتے ہیں اور کیا کام کرتے ہیں لیکن میں اس بات کا قائل ہوں کہ مولانا طارق جمیل کی وجہ سے بہت سے لوگ دین کی طرف آئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہم اینکر بہت باتیں کرتے ہیں لیکن انہوں نے ٹھنڈے دل سے ہمیشہ سنا اور بتایا ہے وہ سیاست میں نہیں آئے مولانا طارق جمیل کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ بلانے والا نواز شریف ہے یا عمران خان یا الطاف حسین اگر کوئی دعا کرانے کے لیے کہتا ہے تو وہ ہاتھ اٹھا دیتے ہیں ۔

جہاں تک میڈیا میں جھوٹ بولنے کی بات ہے محمد مالک میرے دوست ہیں مجھے معلوم ہے کہ کس میڈیا ہاؤس میں مالک کیا کر رہا ہے حامد میر اور محمد مالک سمیت کے ہم سب اینکروں کو بھی معافی مانگنی چاہیے کہ ہماری چڑیا ہماری چوڑیل کسی نہ کسی ذریعہ سے جو خبر لاتی ہے اور جب وہ غلط ہوتی ہے تو معافی کیوں نہیں مانگی جاتی جو باتیں مولانا طارق جمیل کے حوالے سے کی جارہی ہیں وہ اگر کسی کالعدم تنظیم کے حوالے سے کرنی پڑتی تو کیا کوئی بولتا ۔کالعدم جماعتوں کے سربراہان کے بارے میں آئے ذرا بات کرتے ہیں کون ہے جو آکر بات کرے گا ۔
انہوں نے کہا کہ محمد مالک آپ کو کس چینل پر شک ہے کہ وہ دو نمبر نہیں ہے اگر نہیں پتہ تو میرے پاس آئیے میں آپ کو آن آن ائیر بتاؤں گا کے اس کے ملکوں کے بارے میں بتاؤں گا اور اینکروں کا حال سناؤں گا اگر آپ کو شک ہے کہ ہم بڑے نیک لوگ ہیں یا مالکان بڑے نیک لوگ ہیں تو پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور ان مالکان کو جاکر ضرور پکڑی جنہوں نے 6 مہینے سے تنہا نہیں دی اور تنہا دیتے بھی ہیں تو کبھی 20% کاٹ کر کبھی 40فیصد کاٹ کر دیتے ہیں ان کے خلاف بات کرنے کی ہمت نہیں ہے آپ میں ۔
میں تو بات کروں گا چاہے وہ ملک ریاض ہو ثانیہ ملک ہو یا کوئی بھی مالک ہوں ۔یہ کیا طریقہ ہے کہ ایک واٹس ایپ آتا ہے اور چینل بند کر دیا جاتا ہے ۔اس بارے میں تو کسی اینکر کی آواز سنائی نہیں دیتی کیونکہ سب کو بحریہ کے اشتہار چاہیے سب کو بحری سے اپنےکام چاہئیں ۔
مبشر لقمان نے کہا کہ مولانا طارق جمیل نے قادم یہی دین کا کام کر رہے ہیں معافی مانگ کر بڑے ہونے کا ثبوت دیا ہے یہ ان کی شرافت کا ثبوت ہے وہ نہیں چاہتے رمضان کے مہینے میں بات آگے بڑھے ۔
ہم میڈیا والوں کو اپنے جھگڑے آپس میں طے کرنے چاہئیں دوسروں کو اس میں نہیں گھسیٹنا چاہیے آخر میں میں تمام اینکروں کے لیے ایک سوال چھوڑ کر جارہا ہوں کہ نظریہ پاکستان کے نام پر کس نے پلاٹوں پر قبضے کیے ؟