عمران خان کا بہت بڑا چھکا ۔بیک ڈور چینل پر کام شروع۔ بند کمرے میں ملاقاتوں کا نتیجہ ۔

سینئر صحافی تجزیہ نگارصابر شاکر نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بہت بڑا چھکا مار دیا ہے اس حوالے سے بہت جلد بڑی خبر آنے والی ہے پارلیمنٹ میں بیک ڈور چینل پر کام شروع کیا گیا تھا اور بند کمرے میں ہونے والے اجلاسوں اور ملاقاتوں کا نتیجہ نکلنے والا ہے پارلیمنٹ بڑی تبدیلی کے لئے تیار ہو رہی ہے ابتدائی نتائج بہت مثبت ہیں اگر مکمل نتیجہ حق میں آیا تو ایک بار پھر دنیا کو ایک تگڑا پاکستان نظر آئے گا سیاسی طور پر کمزور کرنے کی جو دانستہ یا غیر دانستہ ارادی یا غیر ارادی طور پر کوشش کی گئی تھی

وہ واپس ہونے والی ہے پاکستان ایک مرتبہ پھر سیاسی طور پر مضبوط ملک بننے جارہا ہے تین بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان پی ٹی آئی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان بات چیت شروع ہوچکی ہے اور اس کی نوبت کیوں آئی اور یہ ضرورت کیوں پیش آئی پہلے یہ صرف خواہش تھی اب حقیقت بننے جارہی ہے صابر شاکر نے کہا ہوا کچھ یوں کہ کرونا ایک حادثہ بن گیا ایک عذاب اور آزمائش کی شکل میں سامنے آیا اور اس کے نتیجے میں یہ ضرورت محسوس کی گئی اس سے نمٹنے کے لیے پہلے تو مشکل صورتحال تھی کہ پاکستان کو بطور ریاست اہم فیصلے کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا کوئی آئینی فورم نہیں تھا جہاں بیٹھ کر فیصلہ کر سکیں اب تک جو ہوا وہ ایک گم بازی یا جوگاڑ کہا جاسکتا ہے دنیا میں کہیں بھی اس طرح فیصلے نہیں ہو رہے تھے دنیا میں کہیں اس طرح کی کنفیوژن نہیں تھی جو پاکستان میں دیکھنے میں آئی کہ لاک ڈاؤن ہوگا یا نہیں ہوگا نرم ہوگا یا سمارٹ ہوگا یہ سب کچھ اٹھارویں ترمیم کی بدولت تھا اور اب اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے اوپر نظرثانی کا فیصلہ ہوگیا ہے اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ اس طرح کیا گیا تھا کہ بہت سے محکمہ صوبوں کو دے دیئے گئے تھے اور صوبائی خودمختاری کے نام پر وفاق کی چھتری اوپر سے ہٹ گئی تھی کرو نہ میں سندھ پنجاب اپنے فیصلے کر رہے تھے اسلام آباد کی کوئی حیثیت نظر نہیں آرہی تھی ایوان صدر پریشان تھا صحت کے معاملہ صوبے حل کریں گے لیکن پیسے وفات دے گا عجیب کنفیوژن تھی سیاسی جمہوری آئینی ڈھانچہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا ۔
انتہائی ہنگامی صورتحال میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر اینڈ سی او سی بنایاگیا ہنگامی طور پر فیصلہ کئے گئے اس کے نیچے تمام صوبائی حکومتوں اور انٹیلی جنس اداروں کو بٹھایا گیا ۔
وفاق کہیں نظر نہیں آرہا تھا ایک فیصلہ سن کر رہا تھا دوسرا فیصلہ کوئی دوسرا صبح کر رہا تھا پیسے مرکز دی لیکن مرضی صوبوں کی چلے یہ کیسے ہو سکتا تھا ماضی میں این ایف سی ایوارڈ دیتے وقت بہت بھاری کام کیا گیا وہ بہت ذہین لوگ تھے وفاق کو ڈھیلا ڈھالا کرکے صوبوں کے پاس سارا پیسہ اور فنڈز لے گئے مثال کے طور پر ہزار ارب روپے جمع کئے جائیں تو 800ارب صوبے جاتے ہیں وہ 200ارب سے کہا جاتا ہے کہ ملک چلائیں وفا کا اگر کسی کام کے لیے پیسے مانگے صوبائی خودمختاری آڑے آ جاتی ہے اور اگر پیسے تقسیم کرنے ہوں تو صوبے فورا پیسے لینے آ جاتے ہیں اب 18 ویں ترمیم پر نظرثانی کے لیے موثر بات چیت شروع ہوچکی ہے این ایف سی ایوارڈ پر بھی نظرثانی کی جائے گی سنجیدہ کوششیں شروع ہوچکی ہیں سیاسی جماعتیں بلوچستان میں اور سندھ میں ایم کیو ایم جی ڈی اے مسلم لیگ قاف سمیت بڑی تینوں جماعتوں کے سنجیدہ اور سمجھدار لوگوں کے درمیان رابطے ہوئے ہیں اٹھارویں ترمیم کے جو منفی اثرات تھے ان کو دور کرنے کے لئے نظرثانی کی جائے گی این ایف سی ایوارڈ جسے نیشنل فنانس کمیشن کہتے ہیں جو پورے ملک کی آمدنی کو تقسیم کرتا ہے محصولات کی تقسیم کا فارمولا ہے اس پر بھی رویا کیا جائے گا صورتحال یہ ہے کہ دنیا سے قرضہ لیتا ہے پاکستان یعنی کے وفاق اور لے جاتے ہیں صوبے جب قرضہ واپس کرنا ہو تو اسلام آباد یعنی قرضے واپس کرنے ہیں پاکستان نے استعمال کرنے ہیں صوبوں نے ۔
اب پارلیمنٹ سے خیر کی خبر آنے کے لیے کام شروع ہو چکا ہے بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے پاکستان مضبوط ہو گا