درباری کون؟ مولانا یا میڈیا

دہسار ملک ۔ جرمنی
نوکر کی تے نخرہ کی
چاکر کی تے چوہڑا کی

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حنبلی اسلام کو اس کے گھر میں دفن کر کے اس پر ڈسکو بنا دیا۔ حرمین شریفین کے سارے اماموں کی بولتی سے ایک لفظ نہیں پھوٹا کہ ان کو اپنے ساتھ امام احمد بن حنبل والی نہیں کروانی تھی۔ وظیفہ خور کا ساری دنیا میں ایک ہی اصول ہے۔

پہلے مولوی کا ٹبر پالنے والے کی “ودھائی ہو” پھر نوکری کی ہدایات پر عمل درآمد۔

کیا مولانا طارق جمیل ان سے بڑے درباری ہیں؟

طارق جمیل صاحب مانا کہ کسی کے پے رول پر نہیں ہیں لیکن پیٹ تو ان کے ساتھ ان کی زبان سے کہیں زیادہ بڑا لگا ہے – ایسے لوگ نوکری پیشہ نہیں بلکہ فری لانسر ہوتے ہیں – یہ کسی ایک دربار کے نہیں ہوتے بلکہ جس دربار میں ہوتے ہیں اسی کے ہوتے ہیں –
آج ان کے لیے ان کے عقیدت مند ان کی میڈیا سے معافی پر تاویلوں کے پہاڑ کھڑے کر رہے ہیں – حالانکہ “Dam it Bark at Ham” صاحب سے چودھری کی شان میں “Slip of Tongue” ہو گئی تھی تو جواب میں “Slap on Butt” لازم تھا۔

جن سے موصوف سالہا سال نہ صرف پیسے وصول کرتے رہے ہیں، بلکہ مفت میں اپنی منہ کے اندر والی چار انچ کی قصیدہ گوئی والی چربی کی مارکیٹنگ بھی کرواتے رہے ہیں ، ان سے معافی نہ طلب کرنا ، رہتی سہتی گنگا بہتی میں ننگے اشنان کے مترادف تھا – اگر ہمت ہے تو کہہ دیں کہ ٹیلی ویژن پر اسلام کی خدمات بلا معاوضہ کرتے ہیں اور جس جس چینل پر اسلام کو بلا معاوضہ بیچا ہے، وہاں سے سند لے لیں تو راقم غیر مشروط محترم کے پیر چاٹے گا۔

ہم بے نام سماجیوں کو آپ کے میڈیا کے خلاف بیانات پر ہرگز کوئی اعتراض نہ تھا وہ میڈیا کے چودھری جانیں یا ان کے وظیفہ خور میراثی۔

ہمارا آپ پر مقدمہ سماج کے ان مظلوموں کا ہے، جو میڈیا یعنی آپ کے چودھریوں کی بالواسطہ کفالت کرتے ہیں۔
مولانا صاحب کیا آپ نے معافی مانگی ان باتوں پر
“میرے ملک کی بیٹیوں کو کون نچوا رہا ھے”
قوم کی نصف سے زیادہ آبادی کو “بے حیا” کہنے پر
قوم کو بلا امتیاز “جھوٹا” اور “بے ایمان” کہنے پر

مولانا یہ وہی لوگ ہیں جوآئے روز آپ کے “رب اور رسول” پر جھوٹی اور گھڑی ہوئی تہمت پر آپ کو مارجن دیتے ہیں – آپ سے بہتر تو وہ اپنی اور اپنے بچوں کی بھوک کے ہاتھوں جسم فروشی پر مجبور عورت ہے۔ وہ کسی کا دل نہیں دکھاتی – اپنی ضرورت پوری ہونے پر اپنے جذبات اور ضمیر کا مزید استحصال نہیں کرتی کہ وہ حریص نہیں ہوتی۔ لیکن آپ تو مذہب فروشی میں بھی نہ بھرنے والا شکم ہیں۔

ہم آپ پر لعنت نہیں بھیجتے اور وہ بھی بے شمار۔ کیونکہ ہم آپ کو انسان مانتے ہیں اور صرف اتنا کہتے ہیں

نوکر کی تے نخرہ کی
چاکر کی تے چوہڑا کی
Pakistan24.tv