بی جے پی اور آر ایس ایس چانکیائی سوچ کے حامل ہیں، وہ کسی اخلاقی قدر پر یقین نہیں رکھتے

تاریخ کے طالب علم ٹیکسلا میں 375 قبل مسیح میں پیدا ہونے والے اس شخص کے نام سے واقف ہیں جسے ’’چانکیہ‘‘ کے نام سے جانا چاہیے۔ چانکیہ کو بہت سے تاریخ دان سیاسی اور ریاستی امور کے ماہر اور ایک فلسفی کے طور پر جانتے ہیں۔ چانکیہ دراصل قدیم ہندوستان کا میکاولی تھا۔ میکاولی اور چانکیہ کی فکر میں اس بات پر اتفاق ہے کہ انسانی کے باہمی تعلقات ہوں یا حکمرانوں اور رعایا کا رشتہ، دیانت کام نہیں آتی۔ چانکیہ کا مشہور قول ہے کہ ’’ کسی بھی شخص کو بہت زیادہ دیانتدار نہیں ہونا چاہیے، سیدھا درخت سب سے پہلے کاٹا جاتا ہے، دیانتدار افراد کو سب سے پہلے سزا دی جاتی ہے‘‘۔ انگریزی زبان میں چانکیہ کے ان الفاظ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے ’’ Honest people are screwed first ‘‘۔ چانکیہ ریاستی اور بین الاقوامی امور میں بد دیانتی اور مکر و فریب کی پالیسی کا پرچارک ہے۔ قدیم اور جدید ہندوستان میں اسے اپنی فکر کی وجہ سے ہمیشہ پذیرائی ملتی رہی ہے۔ اس خطے میں اسے ایک پولیٹیکل فلاسفر اور سٹریٹجک امور کا ماہر سمجھا جاتا رہا ہے۔

بھارت کے سابق سیکورٹی ایڈوائزر شیو شنکر مینن نے ،جو پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر بھی رہ چکے ہیں، بھارتی وزیراعظم اور حکومت کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ سٹریٹجک معاملات میں چانکیہ کے فلسفہ سے رہنمائی حاصل کریں۔ دوسرے الفاظ میں ریاستی اور سٹریٹجک معاملات میں دیانت داری سے کام نہیں لیا جا سکتا۔ دیانتداری چانکیہ کے نزدیک گھاٹے کا سودا ہے۔ ریاستی امور اور سفارتکاری میں فریب سے کام لیا جانا چاہیے۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت کو وزیر اعظم عمران خان نے جرمنی کی نازی حکومت کے مماثل قرار دیا ہے لیکن موجودہ بھارتی حکمران عملاً چانکیہ اور میکاولی کی سوچ پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ فریب اور جھوٹ ان کا پسندیدہ حربہ اور ہتھیار ہے۔ جسے وہ بڑی ڈھٹائی سے استعمال کر رہے ہیں۔


کرونا وائرس ایک عالمی وبا ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ 25 لاکھ سے زیادہ افراد کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ کم و بیش ڈیڑھ لاکھ لوگ موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ بھارتی حکمران کرونا وائرس کو ہی سیاسی پراپیگنڈہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور اس بیماری کا علاج کرنے کی بجائے اس کے ذریعے اپنے ہی ملک کے لوگوں میں نفرتوں کے بیج بو رہے ہیں۔ کانگرس کی لیڈر سونیا گاندھی نے بالکل صحیح کہا ہے کہ بی جے پی کی حکومت ’’Communal Virus ‘‘ پھیلا رہی ہے یعنی وہ مختلف طبقوں میں نفرت اور عناد کو ہوا دے رہی ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے بھارت میں کرونا وائرس کے پھیلائو کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالی ہے خاص طور پر تبلیغی جماعت کو اس وائرس کے پھیلائو کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ بھارت میں تبلیغی جماعت کے کرتا دھرتا رہنمائوں اور کارکنوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ معاملہ یہاں تک محدود نہیں ہے۔ بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے لیڈر اور کارکن کرونا وائرس کی وبا کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز سلوک کر رہے ہیں۔ ہندو دکان دار مسلمانوں کو اشیائے خورد و نوش فروخت کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اتر کھنڈ کی سرکار نے تو اذان پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ مسلمانوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔

مسلمانوں کیخلاف مودی اور اس کے چیلوں نے ایک عرصہ سے مذموم مہم شروع کر رکھی ہے اور اب اس مہم کو انتہا تک پہنچا دیا گیا ہے۔ چانکیہ کے ان چیلوں نے مسلمانوں کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔ بھارتی حکومت کی اس حرکت کا اقوام متحدہ نے بھی نوٹس لیا ہے اور مودی سرکار کو خبردار کیا ہے کہ وہ کرونا کی وبا کو اقلیتوں اور مختلف قومیتوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کیلئے استعمال کرنے سے باز رہیں۔ حال ہی میں بھارتی خفیہ ادارے را کے ایما پر جاپان کے ایک انگریزی اخبار میں مضمون لکھا گیا ہے جس میں اس وبا کے پھیلائو کی ذمہ داری چین پر ڈالی گئی ہے۔ یہی نکتہ نظر امریکہ کا بھی ہے کہ دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلائو کی ذمہ داری چین پر ہے۔ اس مضمون میں پاکستان کو بھی معتوب ٹھہرایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ بھارت میں کرونا وائرس لاہور میں ہونے والے تبلیغی اجتماع سے پھیلا۔ دراصل چین اور پاکستان نئی دہلی میں حکومت کرنے والے چانکیہ اور میکاولی کے پیروکاروں کو بہت کھٹکتے ہیں، ان دونوں کی دوستی ان کی نیند اڑا رہی ہے۔

دنیا جانتی ہے کہ بیماریاں کسی خاص قوم کا طبقے یا نسل کی وجہ سے نہیں پھیلتیں، یہ بیماریاں درحقیقت مختلف قسم کے وائرس اور جراثیم پھیلاتے ہیں اور یہ کسی بھی ملک سے پھیل سکتی ہیں مثلاً ایڈز افریقہ سے پھیلی، ایبولا وائرس افریقہ سے آیا۔ کیا دنیا افریقہ پر ان بیماریوں کا الزام دھر کے افریقی ممالک کا بائیکاٹ کر دے؟ ہندوستان کی موجودہ حکومت ایک میںصوبے کے تحت پاکستان کو بدنام کر رہی ہے اور یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ پاکستان وائرس زدہ لوگوں کو بھارت میں جان بوجھ کر داخل کر رہا ہے تا کہ یہ وائرس وہاں پھیلے۔ اس معاملے میں بھارتی میڈیا تو ہر اخلاقی حد سے گزر چکا ہے اور انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان کیخلاف ایسا پراپیگنڈہ کر رہا ہے جسے دنیا کا کوئی ذی ہوش شخص ماننے کیلئے تیار نہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس چانکیائی سوچ کے حامل ہیں، وہ کسی اخلاقی قدر پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ سفارتکاری اور بین الاقوامی تعلقات میں بھی جھوٹ اور مکر و فریب کے حربے استعمال کر رہے ہیں لیکن انھیں نازی جرمنی کے گوئبلز کا انجام یاد رکھنا چاہیے جس کا یقین یہ تھا کہ جھوٹ کو اتنا پھیلائو کہ سچ لگنے لگے اور جھوٹ پھیلانے والا خود بھی اس پر یقین کر لے۔