ریاست مدینہ اور قائد اعظم کے حوالے سے عمران خان کی باتیں فریب ہیں ۔ہارون رشید عمران خان پر برس پڑے

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ہارون الرشید نے وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست مدینہ اور قائد اعظم کے حوالے سے باتیں کرنا انہیں زیب نہیں دیتا ۔قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ عمران خان کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا قائداعظم تاریخ کی نادر اور نایاب شخصیات میں سے ایک تھے جب کہ عمران خان قائد اعظم کے وژن پر عمل درآمد تو دور کی بات ان کا ویژن میرے سامنے بیان بھی نہیں کرسکتے انہیں قائداعظم کا ویژن معلوم ہی نہیں ہے میں چیلنج کرتا ہوں آئی میرے سامنے اور قائداعظم کا ویژن بیان کریں اگر یہ لوگوں نے مان لیا تو میں پانچ لاکھ روپے دینے کے لئے تیار ہوں ۔مجھے یقین ہے عمران خان کو قائداعظم کے بارے میں کچھ نہیں پتا ۔
پہلی بات ہے قائداعظم کی شخصیت ۔قائداعظم پر کبھی جھوٹ بولنے کا الزام تک نہیں لگا ۔قائد اعظم پر کبھی ایک روپے کی خیانت کا الزام تک نہیں لگا ۔قائداعظم نے کبھی کوئی ایسا وعدہ نہیں کیا جسے پورا نہ کیا ہو ۔
کہاں قائداعظم اور کہا ں عمران خان۔
دوسری بات قائداعظم کی سیاست ۔قائداعظم نے کبھی کوئی فیصلہ بغیر مشاورت کے نہیں کیا ۔قائد اعظم کی کابینہ میں کسی کی ضرورت نہیں تھی کہ اس طرح کا کوئی چہرہ شامل ہوتا جس طرح کے لوگ عمران خان کی کابینہ میں بیٹھے ہیں ۔
قائداعظم سے پوچھا گیا کہ کافی یا چائے تو انہوں نے کہا وزیروں سے کہیں گھر سے چائے پی کر آئیں اور جس نئی کافی یا چائے پینی ہے گھر جا کر پی لے ۔

ایک مرتبہ ایک وزیر دیر سے آئے تو کابینہ کے اجلاس میں انہیں کرسی نہیں دیگی کھڑا رکھا گیا ۔
قائداعظم نے تصور دیا مسلم آرکیٹیکچر مسلم ہسٹری ۔موسیقی اور ہمارے ہیروز ۔

قائداعظم کا بھی غیبت نہیں کرتے تھے مخالفین کو جواب نہیں دیتے تھے جب کہ عمران خان کا میڈیا سیل اوف توبہ اللہ اکبر ۔قائداعظم کے سامنے لیڈی ماؤنٹ بیٹن اور نہرو کے خطوط لائے گئے تو انہوں نے ہاتھ کا اشارہ کرکے منع کردیا ۔
ادھر عمران خان کا میڈیا سیل ہے توباتوبا اگر آج میں تنقید کرو تو ہزار لوگ سوشل میڈیا پر کل مجھے گالی دیں گے ہر اس جنرل اس کو گالیاں دیتے ہیں جو ان کی باتوں سے اختلاف کرے ۔
کیا عمران خان سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا ہے ایک دن کہہ دے کہ ہارون رشید کرپٹ ہے ؟
میں طلعت حسین اور رؤف کلاسرہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا لیکن جانتا ہوں وہ کرپٹ نہیں ہیں ۔
قائداعظم میں صوفیا جیسی شان تھی ان کا دیکھنا بلند ہے کہ سر اٹھا کر دیکھو تو ٹوپی نیچے گر جائے ۔
علامہ اقبال جنہیں دنیا مسلمانوں کا رہنما کہتی ہے انہوں نے خود کو قائداعظم کا سپاہی قرار دیا ۔

عمران خان جو جدید فلاحی ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں اگر بن جائے تو مجھے ضرور دکھائیے گا ۔باتیں کرنے سے کیا ہوتا ہے ۔
باتیں تو میں وہ سب کر سکتا ہوں جو صوفیاء کرام کرتے تھے لیکن میں کیا صوفی بن جاؤں گا یا ان کے پیروکاروں میں بھی نہیں گنا جاؤنگا ۔
انسان کا عمل دیکھا جاتا ہے ۔دیکھ لیں عمران خان کی کابینہ میں کون کون بیٹھا ہوا ہے تین شوگرملوں والا ۔کل تک جہانگیر بڑا پارتھا شریف تھا آج کرپٹ ہو گیا ہے ۔عثمان بوزدار کو سی ایم بنانے والا ۔

قائداعظم نے تو کبھی خود ٹکٹ تک تقسیم نہیں کیا تھا مداخلت نہیں کرتے تھے پارلیمانی پارٹی ٹکٹ دیتی تھی ۔
عمران خان کیا ہر وقت ریاست مدینہ ریاست مدینہ کی بات کرتے رہتے ہیں حضرت داتا گنج بخش کہہ گئے تھے کہ کم ازکم امام حسن چاہیے ریاست مدینہ کے لیے ۔ان کے بعد تو ملوکیت تھی۔

عمران خان نے کیا کیا ہے ہاں اچھا کامیاب آدمی ہے شوکت خانم ہسپتال بنایا نمل یونیورسٹی بنائیں ورلڈ کپ جیت کر دیا ۔ان کا ایک گورنر ہے کہتا ہے عمران خان پہلا ایماندار حکمران ہے ۔میں پوچھتا ہوں کیا خواجہ ناظم الدین بے ایمان تھا قائد اعظم لیاقت علی خان چندریگر ان لوگوں نے دولت بنائی تھی اگر بنائی تھی تو کہا ہے وہ دولت ؟
کیا سکندر مرزا اور سہروردی نے دولت بنائی تھی کہاں ہے وہ دولت؟