نون لیگ کا عمران خان کو اگست میں ہٹانے کا خفیہ منصوبہ ۔ہارون رشید سازش منظر عام پر لے آئے

پاکستان کسی نے صحافی کالم نویس اور تجزیہ نگار ہارون الرشید نے 92 نیوز پر اپنے ٹی وی پروگرام میں سنسنی خیز انکشافات اور دعوے کیے ہیں میزبان ثروت ولیم کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ پنجاب میں گیارہ سیکرٹری تین کمشنر اور بیس ڈپٹی کمشنر تبدیل ہوں گے چیف سیکرٹری پنجاب اعظم سلیمان کو معتوب نہیں کیا گیا بلکہ سیکرٹری داخلہ بنا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ نئے چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک بہتر آدمی ہیں اور وزیراعلی بازار کے ساتھ بہتر کوآرڈینیشن رکھیں گے گوجرانوالہ ڈیرہ غازی خان ساہیوال کے کمشنرز تبدیل ہونے ہیں بظاہر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے لیکن عثمان بوزدار وہ درخت ہے جو کسی بھی وقت گر سکتا ہے کیونکہ اس کی جڑیں مضبوط نہیں ہیں ۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوازشریف 500ملین ڈالر کی ڈیل عمران خان سے کر کے جا چکے ہیں اور اس سودے اور ڈیل میں مریم نواز کا چپ رہنا حصہ ہے اس لیے وہ پاکستان میں بیٹھی ہیں ڈیل سے عمران خان کی سیاست کا تاثر خراب ہوا ہے یا نہیں لیکن یہ اقتدار کی کشمکش ہے حضرت آدم کے دور میں ہوا تھا جب بھائی نے بھائی کو مار دیا تھا وہ حسد ہی تھا اور کیا جھگڑا تھا ۔انہوں نے کہا کہ اقتدار ایک نشہ ہے شہباز شریف نے خود کہا کہ میرے ساتھ کابینہ بھی ڈسکس کر لی گئی تھی اس حوالے سے بڑی کھلبلی مچی یہ کیا باتیں ہو گئی ہیں کیوں کر دی گئی ہیں لیکن اس میں حیران ہونے والی کیا بات ہے نیچرل ہے اسٹیبلشمنٹ نے بات کرنی تھی دو ہی لوگ تھے عمران خان اور شہباز شریف ۔خود نوازشریف تو نااہل ہو چکے تھے اور انہوں نے ان ہاؤس چینج کا منصوبہ خود مسترد کردیا تھا ۔
ہارون رشید نے کہا کہ ہمارے ملک میں لیڈر بادشاہ ہوتا ہے نواز شریف بادشاہ تھے باقی سب ریایا شہباز شریف بھی رعایا تھے شہباز شریف کی بھتیجی انہیں وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتی اگر افریقہ کے کسی ملک کا وزیراعظم بننا چاہیں تو ضرور بن جائیں ۔
ہارون رشید نے کہا کہ پہلے مارچ کی باتیں ہورہی تھیں اب اگست کی باتیں ہو رہی ہیں سپریم کورٹ کے فل بینچ کے سامنے ریفرنس پیش کیا جائے گا کہ عمران خان کی حکومت ناکام ہوگئی ہے معیشت تباہ ہوگئی ہے ۔
انہوں نے غلام مصطفی کھر کی سیاست کی مثال دی کہ انیس سو باسٹھ سے سیاست میں کر رہے ہیں ساری زندگی گنوا دی صرف چار پانچ سال اقتدار کے مزے لوٹے ۔
شہباز شریف اور مریم نواز کی لڑائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایک محل میں دو بادشاہ نہیں رہ سکتے ۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان پر اے ٹی ایم مشینوں کا الزام لگایا جاتا تھا اور شہبازشریف کی ٹی ٹی حکومت تھی زرداری کی بھی ٹی ٹی حکومت تھی ۔
پنجاب میں تبدیلیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری تبدیل ہوگیا ہے اب گیارہ سیکرٹری اور تین کمشنر تبدیل ہوں گے تبدیل ہونے والوں میں سیکرٹری مواصلات سروسز ایڈیشنل چیف سیکریٹری اسکولز لیبر ہیومن رائٹس زراعت سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز شامل ہیں انہوں نے مزید کہا کہ آئی جی کو بدلنے پر بھی غور ہو رہا ہے پچھلا آئی جی واپس لانے کا خیال ہے لیکن یہ معاملہ بھی زیربحث ہے حتمی فیصلہ نہیں ہوا ۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور قائد اعظم محمد علی جناح کا کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا اگر عمران خان میرے سامنے آکر قائداعظم کا ویژن بیان کر دیں تو میں پانچ لاکھ روپے دوں گا ۔