مولانا طارق جمیل نے معذرت کیوں کی ۔صابر شاکر نے حامد میر اور محمد مالک کو آڑے ہاتھوں لے لیا ۔چور کی داڑھی میں تنکا

وزیراعظم کے احساس پروگرام کی پنڈ ریزنگ کے دوران مولانا طارق جمیل نے جو باتیں کی تھیں ان پر ہونے والی تنقید کے بعد مولانا طارق جمیل تو اپنی بات سے معذرت کر چکے ہیں لیکن میڈیا اور دیگر حلقوں میں بحث جاری ہے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار صابر شاکر نے اس حوالے سے اپنے پروگرام نے محمد مالک اور حامد میر کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ۔

صابر شاکر نے سوشل میڈیا پر اپنے پروگرام میں پہلے تو یہ خبر دی ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ سے جلد بہت بڑی خبر آنے والی ہے خبر پاک رہی ہے اور بہت جلد ماں کرے گی ۔صابر شاکر نے کرونا کی عالمی صورتحال اور پاکستان کی صورتحال پر بھی بحث کی ہے اور اس کے بعد انہوں نے مولانا طارق جمیل کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ بہت نیک آدمی ہیں دعوت دین کا کام کرتے ہیں اللہ کے بہت نیک آدمی ہیں ہم سے زیادہ نمازیں پڑھتے ہیں ہم سے زیادہ تقوی رکھتے ہیں دوسرا موقع تھا کہ انہوں نے دعا کرائی اور نشاندہی کی کہ ہمیں سوچنا چاہیے بطور مسلمان ہم ان مسائل کی زد میں کیوں ہیں ہم نے اللہ کے کون کون سے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے بات سچ ہے ہماری زندگی ہمارا رہن سہن طور اطوار انفرادی سطح پر اور قومی سطح پر وہ نہیں ہیں جو مذہب سکھاتا ہے اس کی جانب انہوں نے اشارہ کیا کہ ہماری خواتین بے لباس ہوتی جارہی ہیں بے حیائی بڑھتی جارہی ہے غلط ٹریک پر ہم چل رہے ہیں جھوٹ بہت بڑی برائی ہے اور پھر انہوں نے کہا کہ میڈیا جھوٹ بولتا ہے یہ بات انہوں نے عالمی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے کہیں صرف پاکستان کے حوالے سے نہیں کہی لیکن ہر جگہ میڈیا جھوٹ بولا جاتا ہے صابر شاکر نے کہا کہ دو تین لوگوں نے اس معاملے میں بہت خوب بنایا ہے انہیں زیادہ تکلیف ہوئی ہے آپ مولانا طارق جمیل کی بات سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن پہلے اپنے آپ میں وزن ہونا چاہیے اپنا دامن صاف ہونا چاہیے تھا مولانا طارق جمیل نے جاوید چوہدری کے پروگرام میں آکر معذرت بھی کرلی لیکن محمد مالک نے حامد میر کو بلایا اور ایسے بات کی ایسے لگا کہ ان لوگوں کو خاص تکلیف ہوئی ہے آپ مولانا سے ہزار اختلاف کر سکتے ہیں

لیکن ان کا تقوی ان کی نماز دیکھیں تو وہ ہم سے بہت بہتر ہیں اس میں کسی کو شک نہیں ہے میڈیا ٹائیکون کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ تو جو چاہے بولے اور کہیں لیکن ان کے بارے میں کوئی دوسرا بات نہ کرے صابر شاکر نے کہا کہ اگر مجھے اور میڈیا کو یہ اختیار ہے کہ ہم اپنی بات کر سکتے ہیں اپنی رائے دے سکتے ہیں کالم لکھ سکتے ہیں ٹی وی پر پروگرام کرسکتے ہیں ٹویٹ کر سکتے ہیں تو پھر یہ اختیار مولانا طارق جمیل یا کسی اور کے پاس کیوں نہیں کہ وہ اپنی رائے دے سکے محمد مالک اور حامد میر نے بہت زیادہ رگیدا ہے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا تھا سسلین مافیا اور جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا تھا گارڈ فادر ۔تو سچ بات یہ ہے کہ یہ لوگ صرف سیاست میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں سیسلین مافیا اور گاڈفادر موجود ہے اور پھر یہ لوگ اوپر یار کر مل جاتے ہیں ۔
صابر شاکر نے کہا کہ بالکل میڈیا میں رشوت لی جاتی ہے پیسے چلتے ہیں پیسا تقسیم کیا جاتا ہے یہ بات صحیح ہے میڈیا آنرز میں بھی پیسے تقسیم ہوتے ہیں یہ بات بھی صحیح ہے اگر ہمارے انٹیلیجنس ادارے اور گورنمنٹ فیصلہ کرلیں کہ بے نقاب کرنا ہے تو یقین کریں آپ کو ایسے ایسے نام ملیں گے کہ آپ تصور بھی نہیں کرسکتے ۔
صابر شاکر نے کہا کہ یہ پانامہ تھا جس میں پیسہ چلا بہت پیسا چلا وکلاء تحریک میں جسٹس کی بحالی کے لیے پیسہ چلا بہت چلا ۔ہمارے یہاں لوگوں کی رائے بدلنے کے لئے ذہن بنانے کے لئے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے رشوت براہ راست یا بالواسطہ طور پر دی جاتی ہے صابر شاکر نے کہا کہ مولانا طارق جمیل نے معذرت کر لی کیونکہ وہ بڑے آدمی ہیں اگر مولانا طارق جمیل معذرت نہ کریں اور ٹی وی پر آکر کچاچٹھا کھولنا شروع کر دیں تو بہت سے لوگ بے نقاب ہو جائیں گے ہمیں تو کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔بے شمار لوگوں نے کوئی برا نہیں منایا لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ چور کی داڑھی میں تنکا ہوتا ہے ۔

ایک زمانہ تھا کہ میڈیا ٹائیکون سمجھتے تھے کہ ہم جب چاہیں حکومت گرا سکتے ہیں جب چاہیں حکومت بنا سکتے ہیں اب یہ زمانہ بدل گیا ہے ریاست کا موڈ کچھ اور ہے اس لئے میں ایسے لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں کے لفافہ کلچر بند کر دیں اچھے لوگوں سے اچھا کام لیں واویلا کرنا بند کر دیں ۔