’’جھوٹے‘‘ میڈیا کی چھتری تلے بیٹھ کر ’’سچ‘‘ کی تلاش اور تراش میں ٹیلی تھون تھیوری

یہ کورونا ماضی کا قصہ تو یقیناً ہو جائے گا مگر بہت کچھ بدل جائے گا، اس تبدیلی میں کچھ جان سے جائیں گے اور کچھ مال سے، کسی کو کلورو کوین ایسے لڑ چکی ہوگی جیسے کوکین، اور کچھ کلورو کوین جیسے دیگر ہیرے جواہرات یعنی وینٹی لیٹرز، ٹیسٹ کٹس، ماسک، رتھرو سین، سینی ٹائزر وغیرہ کئی خاک نشینوں کو فلک بوس بنا چکے ہوں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے میراتھن یکایک سو میٹر کی دوڑ بن گئی اور سو میٹر کی دوڑ نے کئیوں کو میراتھن زندگی سکھا دی۔ مگر سوچئے تو، کوئی سوچ بھی بدلی کہ کوئی سلیبرٹی اسٹیٹس مین بن گیا ہو؟ کوئی بیٹا اس بحران میں لخت جگر اور کوئی میاں محبوب اور بیوی ہم درد و ہم نوا بن گئی ہو؟ کوئی ہمسایہ مسیحا اور کوئی ’شریکا‘ شریک حیات بن گیا ہو؟ کوئی ڈاکٹر مسیحا اور ڈاکو عابدین کی صف میں کھڑا ہو گیا، شاید کوئی تعلیم فروش رہبران و زاہدان کا سچا روپ بن گئے ہوں؟ بحرانی تواریخ بتاتی ہیں کہ رت کا بدلنا رویوں کے بدلنے کو کشید کرتا ہے! یوں بناؤ کتنے لوگوں کا مقدر بنا اور بگاڑ کی بھینٹ کتنے چڑھے؟

مؤرخ لکھے گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے حکمران اپنے ملک کیلئے ویلفیئر کا تو سوچتے رہے مگر ایران سے فلسطین اور کشمیر تک کا انہیں خیال آیا نہ اسپیس دی۔ ایران کب سے عالمی معاشی لاک ڈاؤن، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر عرصہ دراز سے ظالم لاک ڈاؤنز اور بریک ڈاؤنز کا سامنا کر رہے ہیں مگر اس کورونا قیامت میں بھی امریکا اور اقوام متحدہ کو ان کے درد کا احساس نہ ہوا، زخم رستے ہی رہے بھرے نہیں، عین کورونا قیامت کے شباب پر مودی ازم ایک الگ کورونا وائرس بن کر بھارتی اقلیتوں، کشمیریوں اور لائن آف کنٹرول کے ایکو سسٹم کے لئے مہلک بنا رہا۔

ایک طرف اس عالمی وبا نے عالمی برادری کو گلوبل ویلیج کے باسی تو ثابت کیا وہ ایسے کہ وبائیں پہلے بھی پھوٹتی رہیں، ایک ایک صدی میں دو دو بار بھی مگر وہ ریجنل رہیں یا مخصوص براعظموں تک محدود رہیں لیکن جب بات گلوبل ویلیج تک پہنچی تو دوستی و دشمنی اور سیاست و ریاضت کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع دکھائی دیا۔ کسی نے اسے بایولوجیکل وار کے مترادف قرار دیا اور کسی نے نئی دنیا، نئے بلاک اور نئے اکنامک سینٹر ابھرنے کا عندیہ دیا۔ ان افواہوں اور امکانات کو دیکھ کر ترقی یافتہ ممالک سے ترقی پذیر ممالک تک اپنی قومی اور بین الاقوامی سیاست کا رخ متعین کرتے رہے۔ مگر خطوں اور بلاکوں کی اجارہ داری اور اٹھان و اڑان سے لمحہ بھر بھی ایسا نہیں لگا کہ کوئی ایتھوپیا ترقی پذیر ہو سکتا ہے اور کوئی ترقی یافتہ سیاسی و معاشی طور پر نیست و نابود ہو جائے گا۔

فلاحی و رفاہی ریاستوں کا انداز کوچہ و بازار سے علاقائی سطح تک وہی باہمی ربط و باہمی امداد والا رہا، امریکا و برطانیہ و چین و فرانس میں تحقیق رہی تو سویڈن و ناروے و ڈنمارک میں مثالی شائستگی دکھائی دی۔ بھارت میں اقلیتوں کو ناکوں چنے چبوانے کے دریچے کھلے رہے اور پاکستان میں نیب کے عیب اور حکومتی تعصب کا سورج پورے آب و تاب سے چمکتا رہا، ضد والوں کی ضد، یوٹرن والوں کے یوٹرن، پولیس والوں کی ’پولیسی‘ اپنی اپنی شاہراہ پر گامزن رہی، اور بیورو کریسی کی آٹو کریسی پر وہی بہار اور شادابی تھی جو اس کا طرہ امتیاز ہے ازل سے۔

ایک نیک ارادے کے ساتھ ہم ’’جھوٹے‘‘ میڈیا کی چھتری تلے بیٹھ کر ’’سچ‘‘ کی تلاش اور تراش میں ٹیلی تھون تھیوری اور تجربہ کا رنگ جمایا، اس کاوش سے وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ کیلئے 2ارب 76کروڑ روپے بھی حکومتی دست مبارک تک پہنچ گئے۔ اس کثیر رقم میں جمعرات کے روز ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی احساس ٹیلی تھون سروس کے ذریعے 55کروڑ 75لاکھ روپے شامل ہیں۔ اس سے قبل محترم وزیراعظم یا حکومت نے اکیلے مہم چلا کر بھی دیکھ لیا مگر وہ بہاریں نہ لوٹ کر آ سکیں جو قبل از وزیراعظم ہوا کرتی تھیں، بے موقع دیارِ غیر میں بسنے والوں سے بھی گزارش کر دیکھی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام کو بدل کر بھی دیکھا مگر وہ کچھ نہ مل سکا جس کی امید تھی۔ توقع تھی کہ اس کورونا کیفیت میں، جسے ماہرین آنے والے دنوں میں مزید مشکل قرار دے رہے ہیں، حکومت میڈیا تعصب، سیاسی نفرت اور اقتداری تکبر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے سازگار ماحول فراہم کرے گی مگر ایسا ہوا نہیں حکومت خود ہی منصف اور خود ہی نیب بننے کا تاثر اپنے سنگ ایسے مضبوطی سے جوڑے ہوئے ہے جیسے جمہور کا نہیں آمر کا زمانہ ہو۔ مثلاً کسی صحافی نے از راہ الفت ٹیلی تھون نشریات میں کہہ دیا اپوزیشن بھی سنگ اور ہم رنگ ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا مگر وزیراعظم اس سوال کو ناپسندیدہ جان کر نظر انداز کر سکتے تھے تاہم انہوں نے دو ٹوک کہہ دیا کہ پھر لوگ شاید فنڈز ہی نہ دیتے۔ آہ! کون نہیں جانتا کہ سندھ میں لوگوں نے پیپلز پارٹی کو حکومت اور پورے ملک میں نون لیگ کو لاکھوں ووٹ ان حالات میں دیے جب سب ان کے الیکشن کے سامنے دیوار بنے کھڑے تھے۔ تمام تر مینجمنٹ کے باوجود یہ حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔ جانے کیوں سندھ کی عمدہ اینٹی کورونا حکمت عملی اور چشم بینا کو حکومت نے اپنے سر پر سوار کر رکھا جس کا اظہار وزیراعظم کی باتوں سے ’احساس‘ ٹیلی تھون میں بھی ملا۔ سرکار اس بحران میں اسٹیٹس مین بنیں، ’مخالف برائے مخالف‘ نہیں! ٹرمپ، مودی اور خان کچھ دیر سیاست چھوڑ کر، کاش جنوبی کوریا کی ٹریسنگ اور ٹیسٹنگ سے کچھ سیکھتے جنہوں نے پیسوامیونٹی، ہرڈامیونٹی یا فلیٹ کرو کی سوچ سے زیادہ ڈرائیو تھرو اور واک ان کو بڑھوتری دے کر کورونا کے خلاف سب سے کامیاب جنگ لڑی ہے۔اللہ ملت کو محفوظ رکھے، بہرحال کورونا وائرس اس حکومت کا بڑا ’میک اپ‘ کر گیا اور کرے گا، ورنہ تبدیلی کے نعرے وہی پرانے نکلے، وہی پرانی بوتل پر نیا لیبل، جو ہم اپنی آنکھوں سے 1947ء سے دیکھ رہے ہیں لیکن ہم جمہوری سپنے دیکھنے والے ہیں، آمریت ہو یا کورونا، یہ سب قوم کو مار نہیں سکتے۔ آپ سیاست کرو یا کچھ اور، حسن ظن اور سپنے ہمیں مرنے نہیں دیتے!
Naeem-Masood-Jang