فرانسیسی شیف نے ریسٹورنٹ کھانے سے متعلق بڑا دعویٰ کر دیا

یرس: فرانس کے ایک ٹاپ کے شیف نے لاک ڈاؤن کے دوران گھر اور ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کا موازنہ کرتے ہوئے بڑا دعویٰ کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کے ایک بڑے شیف نے دعویٰ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے دوران ریسٹورنٹ میں کھانا کھانا گھر میں کھانے سے زیادہ محفوظ ہے۔

شیف آلین ڈوکاس کا کہنا تھا کہ چھوٹی مارکیٹوں میں جانے والے لوگ کرونا وائرس کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں، کیوں کہ وہاں لوگوں کی بھیڑ رہتی ہے اور لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں، اس کے علاوہ خریدی جانے والی چیزوں کو سب ہاتھ لگا رہے ہوتے ہیں
خیال رہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر پوری دنیا میں ریسٹورنٹس بند کیے جا چکے ہیں، تاہم کئی ایسے بھی ہیں جو پارسل آفر کر رہے ہیں، شیف ڈوکاس کے 7 ممالک میں 34 ریسٹورنٹس چل رہے ہیں، اور انھیں 17 مشلین اسٹارز بھی مل چکے ہیں۔

شیف ڈوکاس نے کہا کہ ریسٹورنٹ میں کھانا زیادہ بہتر ہے، کیوں کہ ریسٹورنٹس میں گھر سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی ان کے دعوے کا نوٹس لے لیا ہے اور امکان ہے کہ 2 اور 20 جون کے درمیان ریسٹورنٹس کو پھر سے کھولنے کی اجازت مل جائے، کیوں کہ موجودہ بندش ریسٹورنٹس کے لیے تباہ کن ہے۔

خیال رہے کہ کیفے اور ریسٹورنٹس فرانسیسی ثقافت کا اہم ترین حصہ ہیں، لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے گزشتہ 6 ہفتوں سے لاک ڈاؤن کے باعث بند پڑے ہیں۔ ادھر فرانس میں 22,614 افراد وائرس کا شکار ہو کر مرچکے ہیں جب کہ کیسز کی تعداد 1 لاکھ 61 ہزار سے زائد ہو چکی ہے