کورونا کے سائے میں کرکٹ میدان آباد کرنے کی منصوبہ بندی، آئی سی سی نے گائیڈ لائنز کی تیاری شروع کردی

کورونا کے سائے میں کرکٹ میدان آباد کرنے کی منصوبہ بندی، آئی سی سی نے گائیڈ لائنز کی تیاری شروع کردیں۔ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی نے کورونا وبا کے دوران کرکٹ کے میدان آباد کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے اور محفوط واپسی کیلیے گائیڈ لائنز تیار کی جانے لگی ہیں۔ آئی سی سی میڈیکل کمیٹی کھلاڑیوں اور آفیشلز کی صحت کیلئے رہنما اصول وضع کرے گی، بورڈز اراکین کو باہمی سیریز میں اطلاق پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی میڈیکل کمیٹی محفوظ ماحول میں کھیل کی واپسی کیلیے گائیڈ لائنزتیار کرنے پر کام شروع کرچکی ہے، جمعرات کو چیف ایگزیکٹیو کمیٹی کی ٹیلی کانفرنس میں میڈیکل ایڈوائزری کمیٹی کے چیف پیٹر ہارکورٹ کو بھی کورونا وائرس کے اثرات پر روشنی ڈالنے کیلیے مدعو کیا گیا تھا۔

آئی سی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہارکورٹ نے اس میٹنگ میں بھی کرکٹ کی واپسی کیلیے رہنما اصولوں کی تیاری پر زور دیا، وائرس کا خطرہ بدستور موجود اور حوالے سے کوئی بھی فیصلہ آسان نہیں ہوگا، گائیڈ لائنز میں پلیئرز کی تیاری سے لے کر حکومتی پابندیوں تک کو مدنظر رکھا جائے گا، اگرچہ ابھی یہ کام ابتدائی مرحلے میں ہے مگر اس میں پلیئرز کے مخصوص وقت تک قرنطینہ شامل ہے۔

دوسری جانب کورونا وائرس کے حالیہ بحران کے دوران ’’شجر ممنوعہ‘‘سمجھی جانیوالی بال ٹیمپرنگ کو قانونی قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے ،عالمی وبا کے نتیجے میں سرخ گیند پر لعاب کے روایتی استعمال میں مشکلات کے پیش نظر چمک برقرار رکھنے کیلئے مصنوعی مادوں کا سہارا لیا جائیگا ۔ تفصیلات کے مطابق کرکٹ کے منتظمین کورونا وائرس بحران کے باعث اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ بال ٹیمپرنگ کو قانونی درجہ دے دیا جائے تاکہ طویل فارمیٹ کے میچوں میں امپائرز کی زیر نگرانی سرخ گیند کو چمکانے کیلئے مصنوعی مادوں کا سہارا لیا جا سکے کیونکہ موجودہ حالات میں روایتی انداز سے گیند کو چمکانے کیلئے لعاب کا استعمال ممکن نہیں رہا ۔
آئی سی سی کی میڈیکل کمیٹی نے آئندہ عرصے میں کھیل کی بحالی سے قبل یہ اہم ایشو اٹھایا ہے کہ ٹیموں اور ان کے باؤلرز کیلئے موثر انداز سے گیند کو چمکانے کے متبادل راستے اپنائے جائیں تاکہ روایتی اور ریورس سوئنگ باؤلنگ کی حوصلہ افزائی کی جا سک