والدہ کی میت کو غسل دینے والی لڑکی خود بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئی واقعہ ہسپتال کے عملے کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا،

والدہ کی میت کو غسل دینے والی لڑکی خود بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئی، واقعہ جناح ہسپتال کراچی کے عملے کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا، لڑکی سمیت تمام اہل خانہ کو قرنطینہ کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے جناح اسپتال میں خاتون کی لاش کورونا رپورٹ کے بغیر ورثاء کو دینے کا انکشاف ہوا ہے ۔

خاتون کی تدفین کے بعد کورونا رپورٹ مثبت آگئی۔ڈپٹی کمشنر مٹیاری نے گھر کے 6افراد کو آئسولیشن منتقل کردیا ہے۔جن میں خاتون کو غسل دینے والی عورتیں بھی شامل ہیں۔ مریضہ کی بیٹی اور غسل دینے والی خاتون کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ جبکہ مریضہ کے گھر اور 2 کالونیوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کو جناح اسپتال کی غفلت سے متعلق آگاہ کرنے کیلئے خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ صوبے بھر میں جان لیوا کورونا وائرس کے 287 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔اپنے ویڈیوپیغام میں مراد علی شاہ نے کہاکہ صوبے میں کورونا وائرس سے ہفتہ کو مزید 3 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 78 ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ میں مریضوں کی مجموعی تعداد 4232 ہوگئی ہے جبکہ کورونا کی3352 مریض زیر علاج ہیں۔
کورونا کے 2599 ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کورونا کے 2146 مریض گھروں میں زیرعلاج ہیں، کورونا کی767مریض آئسولیشن سینٹرز اور439 اسپتالوں میں ہیں۔صوبے میں ہفتہ کو30مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو جا چکے، کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 802 ہوگئی ہے۔کراچی میں کورونا کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع وسطی میں 32، ضلع شرقی میں 57، ضلع جنوبی میں 79، ضلع غربی میں 18، ملیر میں 5 اور کورنگی میں 5 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
صوبے کے حوالے سے کورونا کی تفصیلات بتاتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ لاڑکانہ میں کوروناکے 17، حیدرآباد میں 13، شکار پور میں 11، سکھر میں 7 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ گھروں میں رہیں، جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں، اپناخیال رکھیں، آپ کی زندگی ہمیں بہت عزیز ہے۔مراد علی شاہ نے کہاکہ وہ ڈاکٹرز، پولیس، رینجرز اور ریونیو کے عملے کا شکرگزار ہیں کیونکہ یہ ادارے مریضوں اور عوام کی بہتری کے لیے کام کرتے ہوئے کورونا کا شکار ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو ادارے یا افراد مریضوں اور عوام میں کام کررہے ہیں وہ اپنا خاص خیال رکھیں۔