حالات کے پیش نظر حکو مت کو مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں

حالات کے پیش نظر حکو مت کو مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں ۔ صوبائی وزیر اطلاعات
ڈاکٹرز کے مشوروں اور علماء کر ام کی تائید سے اقدامات کر رہے ہیں ۔ سید ناصر حسین شاہ

کراچی۔25اپریل: صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے ہم مشکل اور تلخ فیصلے اپنی خوشی سے نہیں کر رہے لیکن موجودہ صورتحال میں جبکہ کورونا ایک خطرناک وباء کی صورت میں دنیا بھر میں اپنی ہلاکت خیزیاں دکھا رہا ہے اور طبی ماہرین کے واضح بیانات ہیں کہ ابھی اس وباء کا خطرناک وقت آنے والا ہے اور مئی کے شرو ع اور درمیان میں یہ وباء مزید اپنے پنجے گاڑنے والی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وباء کو کوئی علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا اس سے بچائو کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ احتیاط کی جائے اور بلا وجہ گھروں سے نہ نکلیں اور ہر طرح کے اجتماعات سے اجتناب کریں اس وجہ سے حکومت سندھ نے علماء کرام سے مشاورت کی اور ان کی ہدایات کی روشنی میں یہ قدم اٹھایا کہ رمضان المبارک میں بھی اجتماعات سے اجتناب کیا جائے اور علماء کرام سے مشاورت کی روشنی میں تراویح کی نماز کو گھروں پر ادا کیا جائے یہ فیصلے علماء کرام کی ہدایات کی روشنی میں لئے جارہے ہیں اور موجودہ صوتحال میں شرعی طور پر بھی جائز ہیں کہ ہم اس وقت کو احتیاط سے گذاریں اور اس وباء کو پھیلنے سے روکا جائے ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اسی طرح سے کاروباری سرگرمیوں کو بھی محدود طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا اور اس کے اوقات کو بھی کم سے کم رکھا گیا ہے اور اس طرح کے ایس او پیز جاری کئے گئے ہیں کہ لوگوں کے ہجوم اور بھیڑ سے بچا جائے اور کاروبار کو آن لائن اور دوسرے طریقوں سے جاری رکھا جائے اور جیسے جیسے اس بیماری کی شدت کم ہوگی تو بتدریج مشاورت سے کاروبا ر مزید کھولے جائیں گے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پورے ملک کے ڈاکٹرز نے پریس کانفرنسز کر کے لوگوں کو آگاہی دی کہ اگر اجتماعات کو نہ روکا گیا تو یہ بیماری کنترول سے باہر ہوجائے گی اور ڈاکٹرز بھی اپنی خدمات انجام دینے سے قاصر ہوجائیں گے ۔مساجد کے سلسلے میں جو صدر پاکستان کے ساتھ علماء کرام کے ساتھ مل کر جو فیصلہ کیا وہ بھی موجودہ صورتحال میں بدلا جاسکتا ہے جس کی صدر ملکت نے بھی ٹویٹ کے ذریعے واضح کیا کہ اگر اس فیصلہ میں تبدیلی لانی پڑی تو حکومت اس میں تبدیلی لائے گی اسی وجہ سے حکومت سندھ کو یہ فیصلہ لینا پڑا کہ مساجد جس طرح کھلی ہیں اسی طرح کھلی رہیں گی اور جو متعین لوگ ہیں وہ اسی طرح نماز ادا کریں اور باقی لوگ اپنے گھروں میں عبادات ادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے عوام سے اپیل ہے کہ وہ ان فیصلوںپر پابندی کے ساتھ عمل کریں ۔ تاکہ آنے والے دنوں کے خطرات سے بچا جائے اور امید ہے کہ رمضان کے آخر میں صورتحال بہتر ہوجائے اور ہم اپنی عبادات کو پچھلے سالوں کی طرح ادا کریں ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور اس وباء پر قابو پانے کے کے لئے سب کو مل کر چلنا ہوگا۔
ہینڈ آﺅٹ نمبر