چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی صدارت میں ٹڈی دل کے حوالے سے اجلاس۔

ٹڈی دل کے خطرے کے پیش نظر 30 مقامات پر کیمپ، 180 لوگوں پر مشتمل 57 ٹیمیں بنائی گئے ہیں۔

ایس او پیز پر عملدرآمد نا کرنے پر سپر اسٹور سیل کئے ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ کی کراچی انڈسٹریز فورم کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

کراچی (25 اپریل 2020) چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت ٹڈی دل کے حوالے سے سندھ سیکریٹریٹ میں اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں سیکریٹری زراعت عبدالرحیم سومرو، ڈی جی زراعت ہدایت اللہ، ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے، سمیت پاکستان آرمی اور ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کے ڈائریکٹر محمد طارق خان سمیت پاکستان آرمی اور ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کے افسران نے شریک کی۔ اجلاس میں ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کے افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹڈی دل سے دنیا کے 60 ممالک متاثر ہیں۔ ٹڈی دل ایران سے سندھ میں مئی کے 15 تک داخل ہوسکتا ہے اور اس دفع فصل کےلئے گزشتہ سال سے بھی زیادا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کے سندھ میں 30 مقامات پر کیمپ بنائے جائیں گے۔ 180 لوگوں پر مشتمل 57 ٹیمیں بنائی گئے ہیں۔ ہر ٹیم میں محکمہ زراعت اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے افسران شامل ہونگے۔ ایک لاکھ لیٹر پیسٹیسائیز سے ایریل اسپرے جب کے 25 ہزار لیٹر پیسٹیسائیڈ سے بوم اسپرے کیا جائے گا۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے حکومت سندھ تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ جہاز اسپرے اور مینیوئل اسپرے کے لئے پیسٹیسائیز کی خریداری کا عمل شروع کیا جائے۔ انہونے کہا کے ٹڈی دل بھی ایک ایمرجنسی ہے جس کو صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں بھی رکھا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اسپارکو سے ہاٹ اسپاٹ کا ڈیٹا بھی لیا جائے۔ اجلاس میں سیکریٹری زراعت نے بتایا محکمہ کو بجٹ اور اسپرے کے لئے گاڑیاں درکار ہیں جس پر چیف سیکریٹری سندھ نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں یہ بریفنگ دی جائے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ زراعت کے 250 ملازمین کو ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن سے ٹریننگ کروائی جائے گی جس کے بعد محکمے کے ملازمین ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے سروی اور اسپرے مہم میں شامل ہو سکے گے۔ مزید براں چیف سکریٹری نے کراچی انڈسٹریز فورم کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ جو انڈسٹریز ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کریں گے انکے خلاف ایکشن کیا جائے گا، یہ بات چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ سے کراچی انڈسٹریز فورم کے 6 رکنی وفد نے ملاقات میں کی ملاقات میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد عثمان چاچڑ، کمشنر کراچی افتخار شالوانی، سیکریٹری انڈسٹریز اور محکمہ لیبر کے افسران موجود تھے۔ ملاقات میں کراچی انڈسٹریز فورم کے وفد مطالبہ کیا کے سپلائی لائن انڈسٹریز کھولی جائے۔ انہونے کہا کہ جن انڈسٹریز کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے ان کی سپلائی لائن کو بھی کھولنے کی اجازت دی جائے اور ایک کامرس کے لئے بھی اجازت دی جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے وفد کو کہا کہ سپلائی لائن انڈسٹریز کھولنے کے مطالبے کو وزیر اعلیٰ سندھ کے اجلاس میں رکھا جائے گا۔ انہونے کہا کے ای کامرس ایک بہت بڑا شعبہ ہے اس کی ایس او پیز بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ انہونے کہا کہ تمام انڈسٹریز کو ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ حکومتِ سندھ نے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کراچی میں کئی سپر اسٹور سیل کئے ہیں۔ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کے جن صنعتوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے انکی جاتی کردہ حکم نامے کے تحت کاغزات کی ویری فکیشن محکمہ لیبر اور محکمہ انڈسٹریز کریں گے جس کے بعد محکمہ داخلہ سے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا،