میرے انمول بلاگر

میرے انمول بلاگر
(میاں طارق جاوید)
ہم بھی عجیب مخلوق ہیں چھوٹی چھوٹی خوشیاں انجوا ئے کر نہیں سکتے ،چلے ہیں معاشرے کو سدھارنے ،بد قسمتی سے آج کی ہماری- نسل جس کو چار لائنز لکھنا نہیں آتی وہ فیس بک پر دانشوروں کا وہ بےہودہ طبقہ پیدا ہو گیا ہے کہ بس
عقلمندی اور دانشوری تو ان پر ختم ہے اور تو اور وہ بلاگر ز جو ٹھرے،
پاکستان میں بد قسمتی سے بد تمیزی،
،بد اخلاقی، بد تہذیبی، گالم گلوچ، کو پروان چڑھانے میں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ہماری سوسائٹی اور ہم سب کا کہیں نہ کہیں ہا تھ ضرور ہے

آپ کون ہیں ؟
کیا کرتے ہیں ؟
کیا تعلیم ہے ؟
کیا شوق ہیں؟
کوئی پوسٹ کیوں کرتے ہیں ؟؟
کیا مصروفیات ہیں ؟؟؟
سیا ست کو کیا جانتے ہیں ؟؟؟
ملکی نظام کو کیسے دیکھتے ہیں؟
کیا آپ حلال کھاتے ہیں ؟؟؟
یا آپ کے گھر حرام کی کمائی آتی ہے ؟؟؟
کو ئی آپ کو جانے بغیر آپ کی کسی تحریر یا پوسٹ پر تبصرہ کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہو ئے اپنی بکواس اور اپنی گٹھیا نسل کا پتہ دیتے ہیں
اب رہی بات بلاگز اور بلاگر ز کی تو آپ کو اندازہ ہو ہی جاتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے یا اس کے پیچھے کیا مقاصد اور کون لوگ کام کر رہے ہیں ہیں
بد قسمتی سے ہمارے ہاں صاحب لوگوں خصوصا بوٹ والی سرکار کو ایک بڑے ہوٹل لی بیکری سے کیک پہچانے والوں کو بھی دانش ور اور “”سینئر صحافی”” بنا دیا گیا ہے
پنجابی میں کہتے ہیں
ذات دی کوڑھ کرلی تے چھتیریا نو جپھے
پاکستان کا اخلاقی دیوالیہ نکالنے والوں کہ جب اپنے گربانوں اور گھرانوں تک جب کسی کا ہاتھ جاتا ہے تو وہ بہ تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں پھر ان کو اخلاقیات یاد آ جاتی ہیں پھر مذہب سے لیکر احادیث بھی اپنی باری پر یاد آ ہی جاتی ہیں

“چراغ سب کے بھیجیں گے””
ایوب خان سے لاکھ اختلاف ہو سکتا ہے مگر وہ غیرت مند شخص ایوب کتا کے نعروں کے جواب میں اقتدار چھوڑ گیا یہاں تو لوگ اپنی بات سے صبح ہوتے ہی مکر جاتے ہیں جو رات 100 کیمرون کے سامنے کرتے ہیں
بات کسی اور جانب ہی چل نکلی ،آج ایک فیس بکی” دانشوری ” غلط بات کر کے بھی کہا کہ تم کو پتہ نہیں کہ میں بلاگر ہو ں تو مجھے حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہو ہوئی کہ چلو ہم اس مخلوق کی زیارت سے محروم رہ کر مرحوم ہونے سے بچ گئے ،ایک تو بلاگر اور سے معاشرے کا درد مگر کسی کی چھوٹی سی خوشی کو اپنی خود ساختہ دانشوری کی بھینٹ چڑھا کر میں بلاگر ہوں کی ڈھونڈ بھی ۔
یار جن کو کپڑے پہننے کی تمیز نہ ہو
جن کو بڑے چھوٹے کی تمیز ہو وہ معاشرے کو کیا درس دیں گے
اصل میں مسلہ یہ ہے کہ جن کے گھروں میں حرام کی کمائی بجاتی ہے وہاں ایسی بے ہودہ چیزیں ہی جنم لیتی ہیں
“یہ تقریر گزشتہ ایک گھنٹے سے اپنے ایک سینئر صحافی کی فون پر سم ریا ہوں ستم یہ کہ وہ تو اپنی بھڑاس نکال چکے مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ جس سوسائٹی میں سب ٹھیک نہ ہوسکتا ہو وہاں جو ٹھیک ہو اسکا بھی بیڑا غرق کر دیا جائےتو ایسی مخلوق ہی پھر پیدا ہو گی ،فیض ،جالب ،احمد ندیم قاسمی،ساغر صدیقی، یا منٹو تو اب جنم لے نہیں سکتے
ہم آج بھی اس بد قسمت معاشرے میں زندہ ہیں جہاں گزشتہ 72 سالوں سے بڑی جانفشانی سے جھوٹ کاشت کیا جا ریا ،جہاں پاکستان کی اشرف المخلوقات بہتری کی بجائے اپنی ضروریات پوری کرنے اور اپنی اناوں کی تسکین کیلئے فساد فی العرض سے بھی باز نہیں آتی، ایسے میں اشرف المخلوقات کی فیکٹریوں سے ایسے بے ہودہ بلاگر، میراثی دانشور پیدا نہیں ہونگے تو اور کیا ہو گا
باقی اپ سوچیں کہ تنقید برائے اصلاح کیلئے تو قائد اعظم بھی آج کے دور میں فیس بک یا کسی ٹی وی چینل پر کوئی اچھا پیغام دیتے تو جیالہ بریگیڈ، یوتھیا بریگیڈ،متوالہ بریگیڈ، متحدہ بریگیڈ، موم بتی مافیا،اور سول سوسائٹی کے نام پر سب اپنے ہتھیاروں سے لیس ہو کر ،اپنے اپنے پنجرے جھاڑ کر اپنی اپنی بکواسیات کے ساتھ شروع ہو جاتے کیونکہ اب سیاست میں جو سبق دیا گیا ہے وہ صرف اور صرف اپنے اپنے لیڈر کا دفاع بھلے وہ بکواس ہی کرے ،
بیشک وہ جرمنی کو جاپان سے ملا دے
حضور اس ملک خداداد، اس معاشرے، اور ہم سب پر رحم فرمائیں، یہ تقریبا 25 کروڑو لوگ اب مزید تجربات کے متحمل نہیں ہو سکتے،اب ان میں مزید سکت نہیں کہ آپ کے تجربات کی بھینٹ چڑھ سکیں۔ہم پر یہ بھی احسان عظیم ہو گا کہ فیس بک بریگیڈ کو بند کر دیں ،یہ جو آپ نے جعلی اور میراثی قسم کے دانشور پیدا کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے یہ بھی بند کر دیں تاکہ اس آزاد مملکت کی آزاد فضائوں میں مائیں خود اچھے دانشور پیدا کر سکیں، اور 20 سال بعد پھر کوئی فیض ،کوئی جالب ،کو ئی فراز پیدا ہو سکے ورنہ اس جھوٹ زدہ معاشرے میں موجود آپ کی فیکٹریوں سے تو ایسے لوگ ہی پیدا ہونگے جو خود کو تو سنبھال نہیں سکتے کہتے ہیں میں بلاگر ہو ں
ویسے کسی سیانے کا قول ہے کہ”” گھٹیا کو عزت اور کتے کو کھیر ہضم نہیں ہوتی ”
آپ سمجھ تو گئے ہوں گے