ڈاکٹر سیمون ہرلیولیز کے معاملے نے میڈیکل کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے

انڈیا کے جنوبی شہر چنئی میں کووڈ 19 سے متاثرہ ڈاکٹر کی موت کے بعد عام لوگوں نے اس کی تدفین کی مخالفت کی۔
کورونا کی وجہ سے ہلاک ہونے والے کسی شخص کی تدفین کے خلاف احتجاج کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔
چنئی کے سیمون ہرلیولیز نیورولوجسٹ تھے۔ وہ کووڈ 19 کا شکار ہوئے اور ان کی موت ہوگئی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہ کس کے رابطہ میں آئے جس کی وجہ سے انھیں انفیکشن ہوا۔ایک نیورولوجسٹ ہونے کی وجہ سے وہ کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج نہیں کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے بیرون ممالک کا سفر بھی نہیں کیا تھا۔ وہ مارچ کے پہلے ہفتے میں کولکتہ گئے تھے اور یہ اپنے شہر سے باہر ان کا آخری دورہ تھا۔
ڈاکٹر سیمون ہرلیولیز کو اپریل کے اوائل میں چینئی کے اپالو ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان میں کورونا کی علامات تھیں۔ ان کی موت کے دن ہی ان کی لاش کو تدفین کے لیے ان لواحقین کے حوالے کردیا گیا۔
انھیں چینئی کے کلپاک قبرستان میں سپرد خاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن جلد ہی سب کچھ قابو سے باہر ہو گیا۔سیمون ہرلیولیز کے ساتھی ڈاکٹر پردیپ نے کہا ‘ہم ابھی انھیں دفنانے پر تبادلہ خیال کر ہی رہے تھے کہ اچانک قبرستان کے باہر ایک بھیڑ جمع ہونا شروع ہوگئی۔ ہم میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ انھیں کیسے اطلاع ملی کہ ہم ڈاکٹر سیمون ہرلیولیز کو دفنانے آئے ہیں۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ اتنا بڑا ہجوم اتوار کی رات اچانک جمع ہوجائے۔’
لوگوں نے پتھراؤ کیا
پردیپ کا کہنا ہے کہ بھیڑ میں 100 سے زیادہ افراد موجود تھے۔ انھوں نے کہا ‘اس کے بعد یہ طے کیا گیا کہ انھیں چینئی کے انانگر میں دفن کیا جائے۔ ان کی اہلیہ، بیٹا، چینئی کارپوریشن کے افسر، ایمبولینس ڈرائیور اور کچھ ڈاکٹرز بھی وہاں موجود تھے۔’

پردیپ کے مطابق ‘چونکہ ہمیں ان کی تدفین کے لیے 12 فٹ گہرا گڑھا کھودنا تھا لہذا ہم نے جے سی بی مشینوں سے کھودنا شروع کیا۔ ابھی صرف 15 منٹ گزرے ہوں گے کہ اچانک 50-60 افراد جمع ہوگئے اور انھوں نے ہم پر پتھر پھینکنا شروع کردیے۔ ہماری طرف سے ہر شخص کو اس سے چوٹ پہنچی۔
‘ایمبولینس ڈرائیور کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ کارپوریشن کے افسران کو بھاگنا پڑا اور اپنی جان بچانا پڑی۔ لوگ لگاتار پتھر پھینک رہے تھے۔‘
ڈاکٹر سیمون ہرلیولیز کو ابھی تک دفن نہیں کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر پردیپ ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ کسی اور جگہ گئے جہاں وہ ڈاکٹر سیمون ہرلیولیز کو دفن کر سکیں۔
چونکہ ایمبولینس ڈرائیور کے سر سے خون نکل رہا تھا اس لیے وہ پہلے کلپاک سرکاری ہسپتال گئے۔ ریاست کے محکمہ صحت کے لوگوں کو اس معاملے سے آگاہ کیا گیا۔ جلد ہی پولیس بھی پہنچ گئی۔
ساتھی ڈاکٹر کو قبر ہاتھ سے کھودنی پڑی
پردیپ نے پوچھا کہ ‘کیا آپ نے اپنے ہاتھوں سے کسی کے لیے قبر کھودی ہے؟ میں نے ڈاکٹر سیمون ہرلیولیز کے لیے یہ کام کیا ہے۔ اس کے بعد ہم نے انھیں دفن کردیا۔ یہ کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔’
صحت کی خدمات سے وابستہ افراد اس واقعے سے بری طرح لرز اٹھے ہیں۔ میڈیا میں گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک ماہر وائرولوجسٹ ڈاکٹر بھاگیا راج نے ایک ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والے اس ناروا سلوک پر اپنے غم کا اظہار کیا ہے۔
نیلور کے ایک ڈاکٹر کو بھی دفنانے میں مشکلات پیش آئیں
یہ واحد معاملہ نہیں ہے۔ نیلور سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر جو اپالو میں کووڈ 19 کا علاج کر رہے تھے، گذشتہ ہفتے ان کی موت ہوگئی۔
نیلور کے ڈاکٹر کے لواحقین قرنطینہ میں تھے اور وہ لاش کو دفن کرنے والے افسران کے ساتھ تعاون کر رہے تھےجب ان کی لاش کو امباٹور قبرستان لایا گیا تو آس پاس کے شہریوں نے اہلکاروں پر حملہ کر دیا اور انھیں مجبوری میں لاش وہاں چھوڑنی پڑی۔
ڈاکٹروں کی آخری رسومات پر تنازع کیوں؟

بعد میں انھیں شہر میں ایک اور جگہ دفن کیا گیا۔ ریاست کے سکریٹری برائے محکمۂ صحت بیلا راجیش نے میڈیا کو بتایا کہ ایسا کوآرڈینیشن میں خرابی کی وجہ سے ہوا ہے اور ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔
لیکن ڈاکٹر سیمون ہرلیولیز کے معاملے نے میڈیکل کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پیر تک تمل ناڈو میں کووڈ 19 کے باعث لگ بھگ 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم ایسے تنازعات صرف ڈاکٹروں کے جنازے میں ہی سامنے آئے ہیں۔
پردیپ کا کہنا ہے کہ ‘جب ڈاکٹر کی موت ہوجاتی ہے تو یہ خبر بن جاتی ہے اور لوگوں کو ان کی آخری رسومات کا علم ہو جاتا ہے۔ لوگوں کا قصور نہیں ہے۔ حکومت کو لوگوں میں شعور پیدا کرنا چاہیے۔’
ریاستی وزیر صحت سی وجے بھاسکر نے میڈیا کو بتایا ‘ہم ڈاکٹروں کی دیکھ بھال کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ جو لوگ ان معاملات کے ذمہ دار ہیں انھیں گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا جائے گا۔’
’عام لوگوں کی غلطی نہیں‘
فیڈریشن آف گورنمنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر سندریشن نے کہا ‘ہم صرف عام لوگوں پر الزام نہیں لگا سکتے۔ جب کسی ڈاکٹر کی موت کورونا سے ہوجاتی ہے تو کم از کم ضلعی انتظامیہ کے عہدیدار کو ان کی آخری رسومات یا تدفین کے پروگرام میں موجود رہنا چاہیے اور ان کا احترام کرنا چاہیے۔ اس سے مقامی لوگوں میں اعتماد پیدا ہوگا ۔اس کے علاوہ راتوں کو لاشوں کی تدفین سے روکنا چاہیے۔ یہ کام دن میں ہونا چاہیے۔ اس طرح کی سرگرمی سے لوگوں میں شک پیدا ہوتا ہے۔’

ان کا کہنا ہے کہ ‘جب تک وبا ختم ہو کر حالات معمول پر نہیں آتے ہمیں اس وقت تک غیر ہنگامی بیماریوں کا علاج بند کرنا چاہیے۔ یا تو وہ کووڈ مریضوں کا علاج کریں یا گھر میں رہیں۔ ہنگامی علاج میں شامل تمام صحت کے کارکنان کو مناسب پی پی ای یعنی حفاظتی لباس پہننا چاہیے۔‘
غیر ہنگامی علاج کو روکا جائے
چنئی سائکائٹرک سوسائٹی کی ڈاکٹر شیو بالن نے کہا ‘نیلور کے ڈاکٹر اور ڈاکٹر سیمون ہرکیولیز دونوں کووڈ کے مریضوں کا علاج نہیں کر رہے تھے۔ لیکن دوسرے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے بھی ڈاکٹروں کے کورونا سے متاثر ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ ایسی صورتحال میں تمام ڈاکٹروں کو پی پی ای ملنا چاہیے۔’
تمل ناڈو ٹرانسپلانٹ سرجری ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اے جوزف جیسے ڈاکٹر سوشل میڈیا کا استعمال کر کے لوگوں میں بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ مردہ جسم سے یہ وائرس نہیں پھیل سکتا۔
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ ڈاکٹروں کی آخری رسومات کے خلاف کیوں ہیں؟ نیز ان لوگوں کو پہلے سے ہی کیسے معلومات حاصل ہو رہی ہیں؟ کیا ریاستی حکومت اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتی؟مرلی دھرن کاشی وشواناتھ – بی بی سی تامل سروس۔