غریب پڑھ گیا : جھاڑو لگوا لو

وسی بابا کہتا ہے طبقاتی جنگ کے پیچھے پڑتے ہو تو قارئین بھاگ جاتے ہیں‘ پر میں کیا کروں روز ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جو مجھے کہتا ؛فرض کفایہ ادا کرو۔ پارس طالب نے غربت میں آنکھ کھولی‘ غریب باپ کو مشقت اور پھر اس مشقت سے حاصل ناکافی آمدن پر روتے دیکھا۔ طے کیا تعلیم حاصل کر کے گھر کی حالت بدل ڈالے گی۔ کالج کی فیس ادا نہیں کر سکتی تھی‘ جہالت سے بھرے ماحول میں کالج جانا کون سا آسان تھا‘ روز آنے جانے کا کرایہ تھا نہ کوئی اسے ہر روز اپنے پہرے میں کالج لانے لے جانے کے قابل۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کورسز سے مدد لی اور فرسٹ ڈویژن میں ایم اے اسلامیات کر لیا۔ دیہی علاقوں میں جن بچیوں کو کوئی رہنمائی میسر نہیں وہ ایم اے اسلامیات یا ایم اے اردو کو ترجیح دیتی ہیں۔ وہاڑی زرعی شہر ہے۔ کپاس کی بہت بڑی منڈی ہے۔ عرصہ تک چھوٹی موٹی نوکریاں کیں۔ پرائیویٹ سکول والے دو تین ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں دیتے تھے ان پیسوں سے کیا غربت دور ہوتی اور غریب پارس طالب کیا اپنے قدموں پر کھڑا ہوتی۔ ادھر ادھر دھکے کھانے کے بعد منڈی میں جھاڑو دینے کا کام ملا۔ سکول میں پڑھانے کے معاوضے سے زیادہ اجرت مل جاتی ہے۔

خادم حسین کو میں اس کے بچپن سے جانتا ہوں۔ اوکاڑہ میں اس کے والد ایک سرکاری سکول میں استاد تھے۔ کئی نسلوں کو پڑھانے کے بعد وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ خادم حسین کے سر پر گھر کی ذمہ داری آ پڑی۔ وہ انٹرمیڈیٹ میں تھا۔ بی اے پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ ہر جگہ نوکری کی درخواست دی۔ اوکاڑہ شہر کے ایک گورنمنٹ سکول میں درجہ چہارم کی ملازمت مل گئی۔ خادم حسین نے محنت جاری رکھی۔ اوپن یونیورسٹی سے ایم فل کر لیا۔ کوئی ٹیچر چھٹی پر ہو تو خادم حسین اس کی جماعت کو پڑھا دیتا ہے لیکن اس کا اصل کام وہی ہے‘ درجہ چہارم کے ملازموں والی خدمات بجا لانا۔ پچھلے سال کسی علاقے سے خبر آئی تھی ایک نوجوان ٹیچر سکول میں طبیعت خراب ہونے پر مر گئی۔ بیس بائیس سال کی بچی اپنے گھر کا واحد سہارا تھی۔ سکول انتظامیہ نے معمولی معاوضے پر ملازم رکھا تھا۔ مالکان نے اسے یکایک ملازمت سے جواب دیا تو وہ اپنی ٹانگوں پرکھڑی نہ رہ سکی۔ اس کے گھر کے مسائل اس قدr سنگین تھے کہ وہ مستقبل کی فکر میں گری اور جان دیدی۔ اس خبر پر سوشل میڈیا میں خوب شور ہوا۔ سکول انتظامیہ نے اپنی سفاکیت کے بدلے چند ہزار لواحقین کو تھمائے اور معاملہ ٹھپ-عمران خان نیا پاکستان بنانے نکلے تھے۔ دو سال ہوئے نیا پاکستان احتساب‘قرضوں اور اب کورونا کے شیطانی چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ وہ جو منصوبہ بناتے ہیں ان کے ماتحت اس کا رخ مراعات یافتہ طبقات کی طرف غیر محسوس انداز میں موڑ دیتے ہیں۔ بسوں میں بی اے پڑھے لوگ آلو کی ٹکیاں بیچتے تھے‘ ایم اے انگریزی رکشہ چلاتے تھے‘ وہ اب بھی ٹکیاں بیچ رہے ہیں اور رکشے کے پیچھے ایم اے انگریزی کا اشتہار لگائے گھوم رہے ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم محروم لوگوں کی پسماندگی میں اضافے کا باعث ہے اس لئے بالادستوں کو اس سے فوائد مل رہے ہیں۔

یہ ظلم ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ بچہ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتا ہے اور آخر اتائی بن جاتا ہے۔ اکانومسٹ بننے کی دوڑ اسے کسی مل یا دفتر میں کلرک سے آگے نہیں جانے دیتی۔ یہ پاکستانی نظام تعلیم ہے جو روپے کے بدلے خواب فروخت کرتا ہے۔ آپ کے پاس رقم ہے تو جو چاہیں بن جائیں۔ ڈاکٹر‘ انجینئر‘ پائلٹ۔ امیر لوگ اپنے بچوں کے لئے مہنگی تعلیم خریدتے ہیں اور پھر انہیں اہم عہدوں پر تعینات کراتے ہیں۔ غریب آدمی کو موقع نہیں دیا جا رہا کہ وہ جائز‘ قانونی اور سماج دوست طریقے سے اپنی کلاس کو تبدیل کر سکے۔
جب اس کی تعلیم مدد نہیں کر پاتی تو وہ غیر قانونی شارٹ کٹ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ سوشو اکنامک ترقی کے لئے ہمارا عمل‘ سوچ‘ طرز زندگی اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا زیادہ اہم ہے۔ کسی شخص کی حالت اس کے پیشے‘ تعلیم‘ آمدن اور سماج میں اس کی حیثیت سے اچھی یا بری ہوتی ہے۔ مختلف سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے بچے مختلف سکولوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وہ مختلف قسم کا نصاب پڑھتے ہیں‘ سکول کو مختلف اوقات میں چھوڑتے ہیں۔ غریب گھرانوں کے بچے کئی بار شاندار نتائج دیتے ہیں مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کامیابی میں سکول یا خاندان کا کردار کیا ہو گا۔ پاکستان پر جن طبقات کی گرفت ہے وہ غریب گھرانوں کے بچوں کا راستہ روکنے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ وہ ان محنتی اور لائق بچوں کو اپنے خاندان کی حالت بدلنے کی جدوجہد میں مدد فراہم کرنے کو تیار نہیں۔ ہم نے بہت سے مشاہد حسین دیکھے‘ کشمالہ طارق دیکھیں جو سیاسی میدان میں آگے بڑھنے کے لئے دولت مند سیاستدانوں کی منشی گیری اور تابعداری کرتے ہیں۔ اسحاق ڈار بننے کے لئے نواز شریف کی غلامی کرنی پڑتی ہے‘ راجہ پرویز اشرف بننے کے لئے مخدوم امین فہیم کا بریف کیس اٹھانا پڑتا ہے اور پھر آصف علی زرداری کی بلا مشروط وفاداری۔

سیاست ہی کیوں کاروبار‘ دینی تنظیموں میں شرکت فلاحی کردار‘ تعلیمی حیثیت‘ سب کے لئے بالادست طبقات کی سرپرستی درکار ہوتی ہے۔ ستم ہے کہ امراء کے غالب ‘ فیض‘ احمد فراز بڑے شاعر کہلاتے ہیں۔ غربا کے نظیر‘ ساحر لدھیانوی اور حبیب جالب پر کوئی مقالہ نہیں لکھواتا۔ یہ تفریق اور امتیاز بہت گہرا ہے۔ صف بندی بہت گھنائونی ہے۔ہمارے ایک دوست ہیں‘ امریکی یونیورسٹی سے نفسیات میں پی ایچ ڈی کی۔ مسیحی مبلغ ہیں۔ انہیں ایل ایل بی کا شوق چرایا‘پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں داخل ہوئے۔ عاصمہ جہانگیر لیکچر لے رہی تھیں۔ تمام طلبا سے تعارف کرانے کو کہا موصوف کی باری آئی تو کھڑے ہوئے۔ اپنا نام بتایا‘ پھر اپنی تعلیم بتائی۔ اس کے بعد بتایا کہ میں ایک خاکروب کا بیٹا ہوں جسے آپ’’چوہڑا‘‘ کہتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر اور تمام طلباء اس جرات پر ششدر رہ گئے۔ پارس طالب جیسے طلبا کے بستے میں توقعات اور اچھے دنوں کی آس کا وزن ہوتا ہے‘ وہ لباس‘ جوتے اور کھیل کود سے نظر چرا کر چلتے رہتے ہیں۔ ایسے یکسو لوگوں پر منزل کے عین سامنے دروازہ بند کر دیا جائے تو وہ کیا کریں؟
بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو-Ashraf Sharif