فرنٹ لائن پر مقابلہ

ایک چھوٹا سا پیغام، پانچ وقت نماز باجماعت مساجد میں پڑھنے والے بھائیوں کے لیے۔
نماز جمعہ کے لیے جائیں، مساجد میں اعتکاف میں بیٹھیں۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں، کورونا وائرس آپ کی عبادات کا لحاظ کرتے ہوئے آپ سے دور رہے گا۔ ہمارے جید علمائے کرام نے پورے پاکستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ آئیں خود کو سعودی عرب، ایران اور دیگر مسلم ممالک سے زیادہ پاکستان کو مسلم ملک ثابت کریں، آئیں ہم دنیا کو بتائیں کہ سعودی عرب جہاں عمرے کی ادائیگی بند ہو گئی، مسجد نبوی اور مسجد الحرام کو بند کر دیا گیا، وہاں ہم اب بھی اپنے عقیدے سے اتنے مخلص ہیں کہ کورونا جیسی وبا بھی ہمیں زیر نہیں کرسکتی، جبکہ خود یہ عالم دین اور مفتی صاحبان گھروں پر نماز ادا کر رہے ہیں۔ اس وائرس نے بڑی بڑی دنیا کی طاقتوں کو زیر کر دیا، لیکن ہم سیسہ پلائی دیوار بن کر اس کے سامنے کھڑے ہوں گے، کہ آ بیل مجھے مار، اور بیل مجھے کیوں مارے گا؟ بیل کو پتا ہے کہ یہ تو اشرف المخلوقات ہیں اور اوپر سے مسلمان ہیں۔ نا شد دو شد۔ اس طرح وائرس آپ کو تنگ نہیں کرے گا۔
علمائے کرام کا کہنا تھا کہ مساجد میں پانچ وقت نماز باجماعت ہوگی اور لوگ اعتکاف میں بھی بیٹھ سکتے ہیں، بس فاصلہ رکھیں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ وہ قوم جو ٹریفک سنگلز کا خیال نہیں رکھتی، کورونا وائرس کے باعث ملی چھٹیوں میں سی ویو پر پکنک مناتی ہے، وہ مساجد میں کیا ڈسلپن دکھائے گی؟ ہمارے وہ ڈاکٹرز، پیرامیڈکس جو کورونا وائرس سے فرنٹ لائن پر مقابلہ کر رہے ہیں، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر صرف اپنی نہیں، اپنے گھر والوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، وہ بھی ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہو گئے کہ خدا کے لیے یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ اِس وبا سے کیسے لڑنا ہے۔ یہ فیصلہ علمائے کرام کو نہیں کرنا۔

پاکستان میں پہلے چھیالیس دن میں پانچ ہزار کیسز سامنے آئے اور پھر صرف اگلے بارہ دنوں میں پانچ ہزار کیسز کا سامنے آنا، اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ کورونا بے قابو ہو رہا ہے لیکن ہم اپنی انتہا پسند سوچ کو ترک کرنے کو تیار نہیں۔ پہلے ہی اسلام کے نام پر ہمیں دنیا میں دہشت گرد ڈکلیئر کرا دیا ہے، اب بےوقوف ڈکلیئر کروا کر چھوڑیں گے۔ اسلام ہمارا فخر ہے، اس کو تو مذاق نا بنائیں۔
وزیر اعظم عمران خان یہ بات واضح کہہ چکے ہیں کہ 15 سے 25 مئی تک کا عرصہ پاکستان کے لیے خطرناک ترین ہو سکتا ہے۔ تمام صوبوں کے وزرائے اعلی بھی یہی کہہ رہے ہیں، یہی بات وزیر اعظم کے معاون خصوصی ظفر مزرا کہہ چکے ہیں، یہی بات سندھ اور پنجاب کی وزیر صحت کہہ رہی ہیں۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجود بھی ہمارے علما اور پی ٹی آئی کے رہنماوں کا یہ کہنا کہ مساجد میں بیس نکاتی ایس او پیز کو فالو کیا جائے، کیا یہ درست ہے؟ کیا ہمارے پاس دوسرے ممالک کی مثالیں نہیں؟ ایران، ترکی، مصر، سعودی عرب مساجد کے حوالے سے واضح فیصلہ کر چکے ہیں کہ تراویح اور نماز گھروں میں ادا کریں۔ یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی حالات دیکھ کر اگر ہم آنکھیں بند کرنا چاہتے ہیں تو یہ بالکل ایسا ہے کہ جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرتا ہے۔

یہ وہ وائرس ہے جس نے پوری دنیا کو بریک لگا دیا ہے، جس نے ہر انسان کو اس ڈر میں مبتلا کر دیا ہے کہ کہیں یہ وائرس اُن پر حملہ آور تو نہیں ہو چکا؟ وہ وارئرس جس نے لاشوں کے انبار لگا دئے، قبرستانوں میں مردوں کو دفنانے کی جگہ نہیں، نرسز لاشیں گِن گِن کر تھک گئیں، سپر پاور اس کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ اتنی ساری مثالوں کے بعد بھی اگر ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ نماز مساجد میں پڑھنے سے کورونا وائرس مزید پھیلے گا تو پھر آفریں ہے۔ وہ لوگ جو پورے دن میں ایک وقت کی نماز نہیں پڑھتے، وہ بھی مساجد میں نمازوں پر پابندی کے خلاف ہیں۔ اُن سے کوئی یہ پوچھے کہ جب یہ مساجد کھلی تھیں تو آپ نے تو تب ان کو ویران کردیا۔ اب آپ کس بات کی ضد لگا کر بیٹھے ہیں؟ مساجد بند ہونے سے فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ اب جمعے کو بھی مساجد خالی ہوں گیمجھے ایسا لگتا ہے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے جو سلوگن ہم سُن رہے ہیں کہ کورونا سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے، لوگوں نے شاید اس کا مطلب غلط لے لیا، کورونا سے لڑنے کا مطلب بے فکر ہوکر گھروں سے باہر نکل کر پارٹیاں کرنا نہیں، بلکہ اس سے لڑنے کا مطلب ہے کہ گھروں میں بیٹھیں اور مقابلہ کریں۔ اور خدا کے لیے کورونا سے ڈریں، کیونکہ یہ جان لیوا وائرس ہے۔ مگر ہم تو اس سے ڈرنے کو تیار نہیں۔ اس وائرس سے لڑنے کے لیے اِس سے ڈرنا ضروری ہے، تو اِس سے ڈریں۔ آپ ڈریں گے تو گھروں میں رہیں گے۔ آپ لوگوں کی بہادری ہم سب پر بھاری پڑ رہی ہے-
Sehrish Mansur