افسوس قائد اعظم کے بعد آنے والے حکمرانوں نے اس مسئلے پر توجہ نہ دی اور آج ذخیرہ اندوز بہت بڑا مافیا بن چکے ہیں جن کا ذکر عمران خان بار بار کرتے ہیں

ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ انسانی تاریخ کا قدیم مسئلہ ہے۔ جس پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا البتہ دنیا کے کئی ممالک میں سخت قانون سازی کرکے اس دھندے میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دیکر ذخیراندوزی اور سمگلنگ کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے بر وقت اس قومی مرض کی نشاندہی کر دی تھی۔ انہوں نے اپنے 11 اگست 1947ء کے تاریخ ساز پالیسی خطاب میں فرمایا تھا۔ ’’ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری بڑی لعنت ہے، موجودہ تکلیف دہ حالات میں ہمیں مسلسل خوراک کی یا دیگر ضروری اشیائے صرف کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چور بازاری اور ذخیراندوزی معاشرے کے خلاف ایک بہت سنگین جرم ہے۔ جب کوئی شہری ذخیراندوزی کرتا ہے میرے خیال میں وہ بڑے سے بڑے جرم سے زیادہ گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والے لوگ باخبر ذہین اور عام طور سے ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں۔ جب یہ ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں تو میرے خیال میں انہیں بہت بڑی سزا ملنی چاہیے کیونکہ یہ لوگ خوراک اور دیگر ضروری اشیائے صرف کی باقاعدہ تقسیم کے نظام کو کو تہہ و بالا کر دیتے ہیں اور اس طرح فاقہ کشی احتیاج اور موت کا باعث بن جاتے ہیں”۔ افسوس قائد اعظم کے بعد آنے والے حکمرانوں نے اس مسئلے پر پوری توجہ نہ دی اور آج ذخیرہ اندوز بہت بڑا مافیا بن چکے ہیں جن کا ذکر پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان بار بار کرتے ہیں۔

قائداعظم نے 24 اپریل 1943ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کی ذہنیت کے بارے میں دو ٹوک الفاظ میں فرمایا تھا” میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو انتباہ کر دینا چاہتا ہوں جو ہمارا خون چوس چوس کر ایسے نظام کے تحت پلے بڑھے ہیں جو اس قدر خبیث اور اس قدر فاسد ہے جو انہیں اس درجہ خودغرض بنا دیتا ہے کہ ان کے ساتھ معقول بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عوام کا استحصال ان کے رگ و پے میں داخل ہوگیا ہے۔ وہ اسلام کی تعلیم کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ ان لوگوں کی حرص اور خود غرضی نے دوسروں کے مفادات کو اپنے تابع کر لیا ہے تاکہ وہ موٹے ہوتے رہیں۔ ہمارے لوگوں میں لاکھوں ایسے ہیں جنہیں ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں ہے۔ کیا یہ تہذیب ہے۔ کیا پاکستان کا یہ مقصد ہے۔ کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ لاکھوں عوام کا استحصال کیا گیا اور انہیں دن میں ایک بار بھی روٹی نہیں ملتی۔ اگر پاکستان کا نظریہ یہ ہے تو میں ایسا پاکستان نہیں لوں گا‘‘۔ قائداعظم وژنری لیڈر تھے جو مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں نسل در نسل سوچتے تھے اور انہوں نے پاکستانی قوم کو بروقت خبردار کر دیا تھا کہ متحدہ ہندوستان کا نظام عوام کو غلام اور محکوم بنانے کیلئے ہے اور اس نظام کے تحت صرف سرمایہ دار اور جاگیردار ہی ترقی کر سکتے ہیں۔ قائداعظم کے خطاب کا ایک ایک لفظ آج بھی ہمارے سنجیدہ غوروفکر کا متقاضی ہے۔

قائد اعظم کے بعد آنیوالے حکمرانوں کا یہ قومی فرض تھا کہ وہ بانی پاکستان کے فرمودات ان کے نظریات اور تصورات کے مطابق ریاست کو چلانے کیلئے نیا پاکستانی نظام وضع کرتے جس کی بنیاد فلاحی ریاست کے تصور پر رکھی جاتی اور سرمایہ داری اور جاگیرداری کے خاتمے کیلئے انقلابی اصلاحات نافذ کی جاتیں۔ قائد اعظم انگریزوں کے نظام کو خبیث اور فسادی قرار دے چکے تھے مگر افسوس پاکستان میں اسی نظام کو جاری و ساری رکھا گیا۔ جنرل ایوب خان کے دس سالہ دور میں سرمایہ دار اور جاگیردار خاندانوں نے پاکستان کی 95 فیصد قومی دولت پر قبضہ کرلیا جس کے نتیجے میں پاکستان کے عوام اپنے بنیادی انسانی حقوق سے ہی محروم ہوگئے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنے دور حکومت میں پاکستان کے عوام کو بنیادی حقوق دینے کیلئے انقلابی اصلاحات نافذ کیں۔ انہوں نے زرعی اصلاحات کرکے جاگیرداروں کی کمر توڑنے کی کوشش کی اور کلیدی صنعتوں کی نجکاری کرکے قومی دولت اور وسائل کی تقسیم کو منصفانہ بنانے کی کوشش کی۔ ذوالفقار علی بھٹو مثالی لیڈر اور ایڈمنسٹریٹر تھے وہ ریاست کی ایڈمنسٹریشن چلانے کیلئے تحقیقاتی کمیٹیاں اور کمیشن نہیں بناتے تھے بلکہ فوری اقدام کرتے تھے۔ جب ان کو علم ہوا کہ پنجاب حکومت کا صوبائی وزیر انور سمہ آٹے کی سمگلنگ میں ملوث ہے تو انہوں نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے اسے وزارت سے ہٹا دیا ۔ اسی طرح دوسرے دو صوبائی وزیروں بریگیڈئیر صاحب داد خان اور اکبر منہاس کو بھی مختلف شکایات پر برطرف کردیا۔ پاکستان میں مختلف حکومتوں نے ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ پر قابو پانے کیلئے قوانین بنائے مگر افسوس ان پر عملدرآمد نہ کیا جا سکا۔ عمران خان نیک نیتی سے یہ چاہتے ہیں کہ ذخیرہ اندوزوں اور سمگلنگ کرنیوالوں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں اس سلسلے میں انہوں نے آرڈیننس بھی جاری کیے ہیں مگر انکے راستے میں انگریزوں کا دیا ہوا خبیث اور فسادی ریاستی نظام حائل ہے۔ اللہ عمران خان کا حامی اور ناصر ہو اور وہ اپنے نیک ارادوں اور مقدس مشن پر ثابت قدم رہیں۔ تحقیقاتی کمیٹیاں یا اور کمیشن ’’سیاسی بدعت‘‘ ہیں جس کا مقصد عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا ہوتا ہے۔ بیوروکریٹس اس بدعت کے خصوصی ماہر بن چکے ہیں۔

بڑے دکھ اور شرم کی بات ہے کہ مسلمان رمضان المبارک کے مہینے میں اشیاء کی قیمتیں بڑھا کر ناجائز منافع خوری کرتے ہیں جبکہ غیر مسلم کرسمس کے موقع پر اشیاء کی قیمتیں کم کر دیتے ہیں۔ سابق جسٹس طارق جاوید پاکستان اور عوام دوست شخصیت ہیں ان کا خیال ہے کہ ’’ریاست کے سربراہ صدر مملکت کو اپنی گفتگو کے دوران ’’گینگ ریپ‘‘ جیسے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرناچاہئے البتہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صدر مملکت بجلی پیدا کرنیوالی کمپنیوں کی لوٹ مار سے شدید نفرت رکھتے ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ ظلم وستم تو گزشتہ دو سالوں سے بھی جاری ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی مفاد کا تقاضہ یہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں کو کم کیا جائے تاکہ پاکستان کی صنعتیں چل سکیں۔ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور برآمدات میں اضافہ کیا جاسکے‘‘۔ نوائے وقت کے محترم قارئین کو رمضان المبارک کی دلی مبارک باد اللہ کرے یہ مہینہ دنیا کے تمام انسانوں کیلئے رحمت اور برکت والا مہینہ ثابت ہو اور کورونا جیسی موذی آفت سے مخلوق خدا نجات حاصل کر لے-Qayyum-Nizami-Nawaiwaqt