نجیب ہارون کا استعفیٰ آخر کیا ماجرا ہے؟

نجیب ہارون کا استعفیٰ
آخر کیا ماجرا ہے؟
تحریر : سہیل دانش

میرے لیے خبر حیران کن تھی کیونکہ میں تو شاید کچھ اور سننے کی توقع کررہاتھا ۔ کئی ماہ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ مجھے وقت گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوسکا ۔ تعلق برادرانہ ہو یادوستانہ ۔ اقتدار کے ایوانوں میں تاک جھانک اور میل ملاپ میری عادت کا حصہ نہیں رہا۔ اس لیے وقت اور حالات کے تیور اور پس منظر کا کوئی عکس میرے ذہن میں نہیں تھا۔ قدم سے قدم ملا کر چلنا کسے کہتے ہیں۔ یہ میں نے عمران خان ، ڈاکٹر عارف علوی اور نجیب ہارون کے مابین باہمی اعتماد اور ارادت کودیکھ کر جانا تھا۔ ڈاکٹر علوی سے پہلی ملاقات نجیب ہارون کے گھر ہوئی پھر یہ دوستی اور اپنائیت کے رشتے میں تبدیل ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب بڑی مرنجاںمرنج شخصیت کے مالک ہیں۔ اس لیے اس وقت ان کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ عمران خان سے نجیب ہارون کا تعلق شیر و شکر والا تھا۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے، چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے نئے نئے ذاویوں سے راستہ بنانے کی منصوبہ بندی ۔ کڑے وقتوں کے ساتھی کراچی کے مخصوص حالات میں پارٹی کی تنظیم کے لیے صبر آزما مشاورت اور جدوجہد میں نجیب ہارون اپنے لیڈر ے کے ساتھ ساتھ تھے۔ اسی زمانے میں جب عمران خان کراچی آتےتو ڈاکٹر علوی اور نجیب ہارون ہی ان کے میزبان ہوتے تھے۔ یوں سمجھ لیں کہ اس وقت تحریک میں نجیب ہارون اور ڈاکٹر علوی کا عمران سے وہی رشتہ اور کردار تھا جیسے پیپلز پارٹی کے ابتدائی دنوں میں مبشر حسن ،غلام مصطفی کھر اور رسول بخش تالپور کا تھا جیسے پی پی کی صف بندی میںمعراج محمد خان، جے اے رحیم اور مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ کا تھا۔ پھر میرا تعلق نجیب ہارون سے بڑے بھائی کی طرح کا ہے۔ ان کے چھوٹے بھائی سلمان میرے عزیز دوست تھے۔ وہ آج کل امریکہ کی ریاست ڈیلاس میں کینسر کی بیماری کے نامور ڈاکٹر ہیں۔ 37 سال پہلے نجیب بھائی سے میری پہلی ملاقات انہی کے گھر پر ہوئی تھی ۔ پھر اس میں محبت کی مہک شامل ہوگئی۔نجیب ہارون نے این ای ڈی سے گریجویشن اورمریکہ کی ممتاز یونیورسٹی سے ایم ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہی انہوں نے حقیقی معنوں میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔
اس سفر میں وہ مجھے کام کے حوالے سے دھن کے پکے شخص نظر آئے۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ صرف عقل اور محنت لوگوں کو بڑا بناتی ہے۔ میں ان کی شخصیت کا احاطہ اس طرح کرسکتاہوں کہ انہوںنے ناکامی پر کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ غلطی پرپشیمان نہیں ہوئے اس سے سیکھا اور کبھی وقت ضائع نہیں کیا۔ عمران سے ان کا نظریاتی رشتہ بھی دیکھااور جذباتی بھی ۔ انہیں معلوم تھا کہ عمران نے جس راستے کا انتخاب کیاہے کراچی کے اس وقت حالات میں ان کے لیے پر خطر بھی ہے او رمشکل بھی۔ لیکن انہوںنے جرات اور استقلال سے نہ صرف عمران کا ہاتھ تھامے رکھا بلکہ کراچی میں تحریک انصاف کی صف بندی میں ہر اول دستے کا کام کیا ۔ دوسری طرف اپنی محنت اور لگن سے اپنی کنسٹرکشن کمپنی’’ پرنسپل بلڈرز‘‘ کو ایک برانڈ بنادیا لہٰذا ان کی کمپنی سے منسوب ہرپروجیکٹ پائیداری اور کنسٹرکشن کے حوالے سے مثالی بنایا گیا اور وہ بہت جلد کراچی میں کنسٹرکشن بزنس کے ہرکولیس بن کر ابھرے جب عمران برسر اقتدار آئے تو مجھے یقین تھا کہ عمران خان نے انتخابی مہم میں جن 50 لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا اس کی تکمیل میں وہ نجیب ہارون کو اہم ذمہ داریاں دیں گے۔ جن کے پاس ویژن بھی تھا اور دور اندیشی بھی۔ جن کے پاس منصوبہ بندی کی خداداد صلاحیت بھی ہے اور جو عوام سے کے گئے کمٹ منٹ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اس کا درد رکھتے ہیں اور کچھ کرنے کی اہلیت بھی ۔
لیکن نہ جانے پھر کیا ہوا جبکہ یہ تو عمران کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں نجیب بھائی اور پیراگون کے برادرم آفتاب صدیقی جیسے ہنر مند ساتھیوں کی معاونت حاصل تھی جو ان کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ناقابل یقین کارکردگی دکھا سکتے تھے۔
نجیب ہارون کی شخصیت کے بے شمار رنگ ہیں ۔ عمران خان کا کرکٹ کیرئیر گواہ ہے کہ وہ نئے نئے موتی تلاش کرنے میں جوہری تھے۔ پھر وہ نجیب ہارون جیسے ہیرے کو کیسے گنو ا سکتے ہیں۔ خانصاب جب آپ سے بہتر کون جان سکتاہے کہ اگر عثمان بزدار آپ کے لئے وسیم اکرم ہوسکتا ہے تو پھر نجیب ہارون بھی جاوید میانداد سے کم نہیں۔شہر قائد آپ کا دیرینہ ساتھی تو ’’ایوان صدر‘‘ پہنچ گیا۔ تو دوسرے کے چہرے پر مایوسی اور لہجے میں شکوہ اور ملال کیوں ہے؟ آپ جیسے کھرے اور سچے انسان کے لیے مشکل اور اندھیرے دنوں کی فیلنگ اور خوشگوار اورروشن دنوں کے احساس میں فرق نہیں ہونا چاہیئے۔