وسیم بادامی نے کراچی کا ایسا کون سا واقعہ سنایا کہ سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے

رمضان نشریات کے دوران وسیم بادامی نے اے آر وائی چینل پر مختلف واقعات بیان کرتے ہوئے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ۔کرو نا سے پیدا شدہ صورتحال سے متعلق واقعہ سناتے ہوئے وسیم بادامی نے بتایا کے ہمارے اپنے ملک پاکستان کے پیارے شہر کراچی کا واقعہ ہے ایک شخص اپنے بوڑھے والد کو ٹیسٹ کے لیے اسپتال لے گیا پہلے تو ٹیسٹ کے لیے ہسپتال کے دھکے کھانے پڑے پھر اسپتال میں ٹیسٹ ہوگیا اور ٹیسٹ مثبت آگیا والد کو اسپتال میں داخل کر لیا گیا اور پورے فیملی ممبرز کو گھر میں کرنطینہ کردیا گیا ۔گھر والے سب بہن بھائی باہر نہیں نکل سکتے تھے ٹیلی فون آیا کہ مریض کی حالت خراب ہو رہی ہے لیکن گھر میں سے کوئی بھی باہر نہیں جا سکتا تھا ان کو گھر میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی پھر فون آیا کہ مریض کا انتقال ہوگیا ہے

لیکن گھر والے تدفین میں شرکت نہیں کرسکے اب آپ سوچیے انسانیت پر کیسا وقت آگیا ہے ۔
وسیم بادامی نے امریکہ کا ایک واقعہ سنایا کہ وہاں پر ایک بزرگ جب موت کو بالکل قریب سمجھ کر ڈاکٹروں سے کہہ رہا تھا کہ مجھے میرے گھر والوں سے ملا دو تو گھر والوں نے ملنے سے انکار کر دیا کہ کہیں انہیں بھی بیماری نہ لگ جائے ۔
اب آپ سوچیے اس کو دنیا میں کیا کیا ہو رہا ہے ۔
وسیم بادامی نے ایک ماہ کا واقعہ بھی بتایا جس کے دو بیٹے ہیں اور دونوں بیٹے ماں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے تیار نہیں ماں کے لیے کرائے پر الگ مکان لے کر دیا ہے کرایہ وقت پر دے دیتے ہیں تاکہ مالک مکان وہاں سے مکان خالی نہ کرا لے اور ماں کو واپس ہمارے پاس نہ بھیج دے ۔ماں نے بتایا کہ ایک دن بیٹے نے کہا کہ آپ صرف اپنا ہی سوچتی رہتی ہیں ہمارا بھی سوچا کریں ۔بیٹا یہ بات روانیمی کر کے آگے بڑھ گیا اور میں وہیں کھڑی سوچتی رہ گئی یہ کیا کیا گیا ہے بھلا ماں بچوں کا نہیں سوچے گی تو کس کا سوچے گی ۔ماں نے بتایا ایک دن بیٹے کی آواز اونچی ہوگی پہلے میں نے اس کو ٹوپا پھر خاموش ہوگئی یہ سوچا کہ کہیں بات آگے نہ بڑھ جائے وسیم بادامی نے بتایا کہ ماں سے پوچھا بات آگے بڑھنے سے کیا مراد ہے تو ماں نے کہا کہیں بیٹے کا ہاتھ مجھ پر نہ اٹھ جائے اس ڈر سے خاموش ہوگئی لیکن ڈر یہ نہیں تھا کہ اس کا ہاتھ اٹھ گیا ہر اس بات کا تھا کہ اس نے یہاں مجھ پر ہاتھ اٹھایا تو روز محشر پر اس کا حساب ہوگا وہ اس کو سزا ملے گی اس لیے میں خاموش ہوگئی میرا بیٹا بھی ایسی غلطی نہ سرزد گھر بیٹھے جس کی سزا اس کو محشر میں ملے ۔