گورنر ہاؤس مری کو جب عوام کے لیے کھولا گیا تو لگژری لائف اسٹائل دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے ۔

گورنر ہاؤس مری کو جب عوام کے لیے کھولا گیا تو لگژری لائف اسٹائل دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے ۔عام لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کے ٹیکسوں سے جمع کیے گئے خزانے سے کس طرح لگژری لائف اسٹائل اپنائے گئے ہیں

یہ سب کچھ ایسے دور میں ہورہا تھا جب لوگ بنیادی سہولتوں کو ترس رہے تھے اور دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے تھے تو ان کے حکمران مری کے گورنر ہاؤس کیسے عالیشان گیسٹ ہاؤسز میں کروڑوں روپے کے اخراجات سے زندگی گزار رہے تھے اور اپنے لمحات کو حسین بنا رہے تھے صرف رینوویشن پر 7 کروڑ روپے خرچ ہوئے تو اندازہ لگا لیجئے کہ سالانہ بجٹ کیا ہوگا

ایک غریب ملک میں جہاں لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کروڑوں لوگ غربت دہ ہیں وہاں حکمران عالیشان زندگی گزار تے رہے دراصل یہ انگریزوں کے چونچلے تھے جس نے غلاموں کا پیسہ لوٹ کر یہ حال کیا لیکن انگریز کے چلے جانے کے بعد حکومت کرنے والوں نے بھی بے دریغ انداز سے قومی خزانے کا مال خرچ کیا اور عوام کا خیال نہیں کیا لوگ یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا ایک غریب ملک کے حکمران اس طرح کے عالیشان

طرز زندگی کے متحمل ہو سکتے تھے کیا ان کے دل میں خوف خدا نہیں تھا کیا وہ بھول گئے کہ روز محشر انکا حساب ہوگا ؟