یادوں کے جھروکوں سے

یادوں کے جھروکوں سے

عابد حسین قریشی

(۲)

پنجاب یونیورسٹی لاء کالج اولڈ کیمپس اور نیو کیپمس سے جُڑی ہوئی خوشگوار یادیں

پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں داخلہ اور اولڈ کیمپس ہاسٹل میں کمرا کی الاٹمنٹ کے بعد اپریل 1978 میں کالج کی پرانی بلڈنگ نزد اورینٹل کالج میں کلاسسز شروع ہوئیں۔ ہاسٹل میں سیالکوٹ کے ہی ایک دوست خواجہ شمایل احمد جو بعد ازاں پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری رہے اور فیڈرل سیکرٹری کے عہدہ جلیلہ سے ریٹائر ہوے کی ہمسائیگی میسّر آئی۔ لاء کالج ہاسٹل کی بھی اپنی روایات تھیں۔ کامن روم میں امرتسر ٹی وی پر چلنے والا گانوں کا پروگرام چتّرہار ہو یا وقتی بجلی کی بندش کا معاملہ جو یک زبان ہو کر نعرہ زنی ہوتی اور جن کلمات کا غلغلہ بلند ہوتا اس کالم کے صفحات انکا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ پنجاب کی تمام تر جاگیردارانہ شان و شوکت، سیاسی گُرو اور متفکّر و پریشان دانشور گویا یہاں ہر طرح کا ماحول مسیّرتھا۔

پھر اچانک دسمبر 1978 میں ہمیں بتایا گیا کہ لاء کالج اب نیو کییمپس میں نو تعمیر شدّہ بلڈنگ میں شفٹ ہو رہا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ کالج ہاسٹل کے ماحول اور پھر شام کو انارکلی کی مٹر گشت اور رونقیں کھو جانے کا غم کالج کی شفٹنگ یا پڑھائی پر اسکے اثرات سے کہیں ذیادہ تھا۔ جنوری 1979 میں نیو کییمپس میں باقاعدہ کلاسسز کا اجراء ہو گیا۔ کچھ عرصہ بذریعہ یونیورسٹی بس اولڈ کیمپس اور نیو کیمپس کے درمیان آنا جانا رہا۔ لیکن یہ کچھ مشکل نظر آتا تھا۔ کیونکہ اس ذمانہ میں وزئیٹنگ پروفیسر جو زیادہ تر سنیئر وکلا ہوتے۔ انکی پیشہ وارانہ مصروفیات کے باعث لاء کالج میں کلاسسز سات بجے صبح لگتی تھیں۔ ابھی سورج بھی طلوع نہیں ہوتا تھا کہ ہمیں کلاس روم پہنچنا پڑتا۔ لہٰذا دیگر دوستوں خصوصاً میاں آصف، خواجہ شمایل، جاوید گوندل اور چوہدری صداقت کے مشورہ سے نیو کیمپس شفٹ کرنے کا سوچا۔ اللہ بھلا کرے میرے عزیز دوست اور کزن خالد فاروقی کا جو جیالوجی میں ڈگری کے لیے آخری دن وہاں گزار رہے تھے۔ انہوں نے مہربانی کر کے اپنا کمرا نمبر 317 ہاسٹل نمبر 1 میں مجھے الاٹ کرادیا اور خود آسٹریلیا پی۔ایچ۔ڈی کے لیے چلے گئے بلکہ وہیں سیٹل ہو گئے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہ ہے کہ ان دنوں نیو کیمپس کا ہاسٹل نمبر 1 سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کا گڑھ اور اسلامی جمعیت طلبا جو یونیورسٹی کی ایک موثّر قوّت تھی کی سرگرمیوں کا مرکز و محور تھا۔ یہاں بڑا مزیدار وقت گزرا کیونکہ کافی دوست اسی ہاسٹل میں شفٹ ہو گئے تھے۔ نیو کیمپس کی شامیں بڑی حُسین ہوتی تھیں۔ نہر اس وقت کافی شفاف پانی رکھتی تھی۔ اور لڑکے لڑکیاں اس میں کشتی رانی کرتے بھی نظر آتے تھے۔ شام کو شاپنگ سنٹر اور نہر کی طرف چہل قدمی تقریباً مذہبی رسومات کی طرع لازم و ملزوم تھے۔

کالج میں نئ بلڈنگ تو خوبصورت تھی مگر ابھی کچھ بے سروسامانی کا عالم تھا۔ مگر اپنے وقت کے بہترین منتظم پرنسپل شیخ امتیاز علی کی اعلی انتظامی صلاحیتوں کی بدولت ان تمام مسائل پر جلد ہی قابو پالیا گیا۔ ان دنوں یونیورسٹی لاء کالج میں رش بھی کچھ ذیادہ ہوگیا کیونکہ حمایت اسلام لاء کالج جسے لاہور لاء کالج بھی کہتے تھے اسے بھی یونیورسٹی لاء کالج میں ضم کر دیا گیا۔ اب پورے پنجاب میں ملتان کو چھوڑ کر ایک ہی لاء کالج تھا۔ ان دنوں لاء دو سالوں میں ہو جاتا تھا۔ پہلے سال کو ایف۔ای۔ایل اور دوسرے سال کو ایل۔ایل۔بی کہتے تھے۔ تقریباً چھ چھ سیکشن بنا دئیے گئے تھے۔ ہمارے سیکشن “A” میں تقریباً پندرہ لڑکیوں کے علاوہ پچاس کے قریب “مرد” بھی تھے۔

جہاں سیالکوٹ میں بڑے مخلص، محنتی اور قابل اساتذہ میسّر آئے جن میں ملک مروت حسین، ملک دلاور حسین، چوہدری لال دین احمد، نذیر احمد آسی، وُدود قریشی، پروفیسر اصغر سودائی اور پروفیسر یوسف شامل ہیں وہاں لا کالج میں بھی بہت ہی باکمال اور نامور اساتذہ میسّر آئے۔ ذدا چشم تصّور سے دیکھتا ہوں تو اپنی قسمت پر نازاں ہوتا ہوں کے کیسے کیسے عظیم لوگوں سے اکتسابِ فیض کیا۔ پرنسپل شیخ امتیاز علی قانون شہادت پڑھا رہے ہیں۔ تو معروف فوجداری وکیل اعجاز بٹالوی ضابط فوجداری اور اعلی روایات کے امین عابد حسن منٹو لاء آف ٹارٹس پڑھا رہے ہیں۔ بہت ہی پر جُوش نوجوان ڈاکٹر علامہ طاہر القادری اسلامک لاء پڑھاتے ہوے ایک سحر طاری کیے ہوے ہیں۔ پھر کچھ نامور وکلا جو ہمیں پڑھاتے پڑھاتے عدالت عالیہ لاہور کے جج بنا دئیے گئے۔ ان میں جسٹس رستم ایس سدھوا، جسٹس آفتاب فرخ، جسٹس چوہدری عارف اور پھر ضابط دیوانی کے ماہر جسٹس عامر رضا خان باوجود ہائی کورٹ کے جج بننے متواتر لاء کالج میں کلاسز لیتے رہے۔ایسے کمٹڈ لوگ اب کہاں۔

اس ادارہ میں صرف عظیم اساتذہ ہی نہ تھے بلکہ طالب علموں میں بھی ایک سے بڑھ کر ایک نابغہ روزگار شخصیت تھی۔ جنہوں نے یہاں سے فارغ التحصیل ہو نے کے بعد مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

جب ہم ایف۔ای۔ایل میں تھے تو ھم سے سنیر کلاس یعنی ایل۔ایل۔بی میں جو لوگ اس وقت زیر تعلیم تھے چند ایک کے نام حافظہ کے زور پر اور کچھ کے نام لاء کالج ہاسٹل کی ڈائریکٹری دیکھ کر یاد آ رہے ہیں۔ جن میں سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار، سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مامون رشید شیخ، سابق جسٹس شبّر رضا رضوی، سابق آئی۔ جی پولیس ذولقار چیمہ، سابق آی۔جی احسن محبوب، سینیر بیوروکریٹ فیڈرل سیکرٹری ندیم اشرف، کلکٹر کسٹم امتیاز احمد خان، سابق پراسیکوٹر جنرل احتشام قادر، بڑے ہی ہونہار سابق رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ اور موجودہ چیف کمشنر انفارمیشن پنجاب محبوب قادر شاہ، معروف مزاحیہ شاعر زاہد فخری، سینیر بیوروکریٹ اسلم حیات۔

مگر جوڈیشل افسران کی ایک لمبی لسٹ ہے جو اس وقت ہم سے ایک سال سینیر تھے اور سبھی سیشن جج بن کر ریٹائر ہوئے۔ ان میں محبوب قادر شاہ کے علاوہ شوکت اقبال احمد، مہر محمّد نواز، الطاف مہار، جواد عابد بیگ، مرحوم شیخ عابد حسین، چچا افتخار احمد خان، چوہدری ظفر اقبال، معروف قانون دان احمد نواز رانجھا، سیّد شجاعت علی ترمذی، ظفراللہ تارڑ اور سیّد حامد حسن شاہ شامل تھے۔ سی۔ایس۔ایس کر کے فارن سیکرٹری کے عہدہ تک پہنچنے والے مراد علی میرے ضلع سیالکوٹ سے جن کا تعلق تھا وہ بھی اس لسٹ میں شامل تھے۔ اور پھر اپنے دو دوست سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی سے چوہدری احمد ذولفقار حیات جو کہ میرے سول جج بننے کا محرّک بنے اور صغیر سپال جو کہ امریکہ میں ہی مستقلاً آباد ہو چکے ہیں۔

اپنے ایف۔ای۔ایل کے چھ مختلف سیکشنز کا احاطہ کرنا زرا مشکل ہوگا اسلیے میں صرف اپنے “A” سیکشن کے چند نمایاں لوگوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ہمارے “A” سیکشن میں صرف 50/55 میل طالب علموں میں سے شعبہ عدل میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے اور اعلیٰ انسانی اقدار کے امین سپریم کورٹ کے موجودہ جسٹس قاضی محمّدامین، لاہور ہائی کورٹ سے گذشتہ برس ریٹائر ہونے والے نرم دم گفتگو گرم دم جستجو ایک درد دل رکھنے والے جسٹس انوار الحق، ایک نہایت قابل اور پروفیشنل وکیل جو تھوڑا عرصہ ہائی کورٹ کے جج بھی رہے ذولفقار علی بخاری، سابق سینیر بیوروکریٹ فیڈرل سیکرٹری سیف اللہ چٹھہ، سابق آئی۔جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا، ہمدم دیرینہ ریٹائرڈ ایڈیشنل آئی۔جی کے۔پی۔کے پولیس میاں محمّد آصف جو میرے لاء کالج میں داخلہ کے معجزانہ طور پر محرک بنے اور جو ایک دانشور لکھاری اور اعلی منتظم پولیس آفیسر کی شہرت رکھتے ہیں۔ انکے نہایت خوبصورت اور دلآویز سفر نامے “حج دید امید کا موسم”اور سفر امریکہ پر “اپنوں کے درمیان” شائع ہو کر شہرت پا چکے ہیں۔ بڑے با خبر صحافی اور یاروں کے یار مقصود بٹ بھی ہمارے کلاس فیلو ہیں۔ سیاست میں بھی ہماری کلاس اتنی تہی دامن نہ تھی۔ پاکپتن سے دو تین مرتبہ منتخب ہونے والے ایم۔این۔اے سردار منصب ڈوگر، گوجرانوالہ سے زاہد پرویز مرحوم اور گوجرہ سے سجاد چیمہ جو اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے پہلے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

اور آخر میں عدلیہ کی ایک لمبی لسٹ ہے جو “A” سیکشن نے پیدا کی۔ اس خاکسار کے علاوہ نہایت شریف النفس سابق رجسٹرار صلاح الدین، خوش گفتار موجودہ لاء سیکرٹری پنجاب نزیر احمد گجانہ، دانشور جج امجد پرویز، جمال و جلال کا حسین امتزاج تنویر میر، نہایت حلیم طبع اور کم گو چوہدری امتیاز احمد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدوں پر پہنچ کر باعزت ریٹائر ہوئے۔ پھر تین دوست ہمارے کلاس فیلو سول جج بننے کے بعد جوانی میں ہی ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ جن میں چوہدری محمّد انور نمک منڈی والے، چوہدری شریف احمد خان برادر چوہدری کبیر احمد خان سینیر پی۔سی۔ایس آفیسر اور نہایت خوبصورت اور دل نواز راولپنڈی کے خالد رشید جو بھرپور جوانی میں گجرات کے قریب ایک حادثہ کی نذر ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو غریق رحمت کرے۔ انکے علاوہ شگفتہ مزاج اور بزلہ سنج ریاض چوپڑا، غلام عباس، محمّد اشفاق، مختار احمد گوندل بھی بطور جوڈیشل افسران مختلف حثیتوں میں اپنے فرائض بخوبی انجام دے چکے ہیں۔ سیالکوٹ کے مشہور وکیل اور سابقہ ممبر پاکستان بار کونسل ایم۔ اظہر چوہدری اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سابق صدر عارف چوہدری بھی “A” سیکشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر کوئی نام رہ گیا ہو تو معزرت خواہ ہوں۔

لاء کالج کا دو سال کا تعلیمی کیلنڈر اڑھائی سال پر چلا گیا کہ اس دوران سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کی سزائے موت پر عمل درآمد کی وجہ سے پنجاب یونیورسٹی کافی لمبے عرصہ کے لیے بند کرنا پڑی۔ اس دوران ستمبر 1979 میں لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں امیر جماعت اسلامی اور ممتاز عالم دین اور مفسّر قرآن سیّد ابو الاعلی مودودی کی نماز جنازہ ایک جمّ غفیر کے ساتھ پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ بہرحال ایل۔ایل۔بی کا امتحان اکتوبر 1980 میں ہوا اور اسی ماہ بے شمار خوش گوار یادیں لیے نیوکیمپس کو الوداع کہا اور اگلا پڑاؤ سیالکوٹ میں وکالت کا محاز تھا۔

jeeveypakistan.com