انسداد ملیریا کا دن: کرونا وائرس ملیریا کے مریضوں کے لیے زیادہ ہلاکت خیز

ملیریا کا دن منانے کا مقصد عوام میں ملیریا سے بچاؤ اور اس کے متعلق پیدا شدہ خدشات اور غلط فہمیوں کے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ ملیریا اینو فلیس نامی مادہ مچھر کے ذریعے پھیلنے والا متعدی مرض ہے جس کا جراثیم انسانی جسم میں داخل ہو کر جگر کے خلیوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

اس مرض کی صحیح تشخیص نہ ہونے سے ہر سال دنیا بھر میں ملیریا کے 20 کروڑ جبکہ پاکستان بھر میں 10 لاکھ کیس رپورٹ ہوتے ہیںاقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملیریا کے 95 فیصد کیسز بھارت اور براعظم افریقہ میں سامنے آتے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ملیریا کی دوا کا استعمال دنیا بھر میں بڑھ گیا ہے جس سے ملیریا کے مریضوں کو دوا کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے یوں اس سال ملیریا سے ہلاکتیں دگنی ہوسکتی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کا شمار آج بھی ملیریا کے حوالے سے دنیا کے حساس ترین ممالک میں کیا جاتا ہے، پاکستان میں ملیریا دوسری عام پھیلنے والی بیماری ہے۔

پاکستان میں گلوبل فنڈ کے تعاون سے ملیریا کی تشخیص کے لیے 3 ہزار 155 سرکاری و نجی سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جن کا مقصد سنہ 2020 تک ملیریا کے مکمل خاتمے کے ہدف کو پورا کرنا تھا تاہم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب اس ہدف کی تکمیل اب مشکل نظر آتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت