قوم کو اربوں روپے کا چونا لگ گیا ۔مبشر لقمان بڑا اسکینڈل منظر عام پر لے آئے

میڈیا پہلے ہی چیخ چیخ کر کہتا رہا کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے اور اب ہم نے دیکھا کہ چینی اسکینڈل کے بعد پاور سیکٹر کے گردشی قرضے انیس سو1900 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں .یہ وہ خون ہے جو آپ سب سے بجلی کے بلوں کے ذریعے چوسا گیا اور آج تک چوسا جا رہا ہے جب یہ بجلی بنانے والی پرائیویٹ کمپنیاں عوام اور حکومت دونوں کو چونا لگا سکتی ہیں تو پھر ان سے دوبارہ معاہدہ کیوں ؟

یہ وہ سوال ہے جو پاکستان کے مشہور اینکر مبشر لقمان نے سوشل میڈیا پر اپنے پروگرام میں اٹھا دیا ہے ۔

مبشر لقمان نے اربوں روپے کے اسکنڈل کومنظرعام پرلاتے ہوئے بتایا ہے کہ ویکی لیکس ہوں یا پانامہ لیکس۔ان سب میں کچھ بھی ایسا نیا نہیں تھا جس کے بارے میں لوگ باخبر نہیں تھے یہ الگ بات ہے کہ تفصیلات کا شاید علم نہ ہو لیکن جو بھی بتایا گیا وہ دنیا پہلے سے جانتی تھی کے امریکا کیا کیا کرتا ہے دنیا کی اشرافیہ کالے دھن کو سفید کیسے بناتی ہے بس فرق اتنا تھا کے وکی لیکس اور پانامہ لیکس ان باتوں کی تفصیلات سامنے لے آئے ۔
معاملہ چینی مافیہ اور آئی پی پی کا بھی کچھ ایسا ہی ہے میڈیا پہلے ہی چیخ چیخ کر کہتا رہا کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری دال ہی کالی ہے اور کس طرح بجلی اور چینی مافیا کی چاندی ہو رہی ہے پھر ہم نے دیکھا کہ چینی معافیہ پر ایک رپورٹ بھی سامنے آئی اور اب آئی پی پی کا معاملہ بھی سب کے سامنے ہے کہ کیسے عوام کو لوٹا گیا اور حکومت پر گردشی قرضوں کے پہاڑ توڑے گئے اور آئی پی پی نے کیسے پیسے بنائے وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ایندھن کی مد میں ملکی خزانے کو 65 ارب روپے کا ٹیکہ لگایا گیا کیسی عجیب بات ہے ایک طرف آئی پی پی کا منافع کمانے کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری جانب پاور سیکٹر میں گردشی قرضوں کا حجم بڑھتا جارہا ہے سابق صدر زرداری کے دور میں گردشی قرضہ 228 ارب روپے تھا نواز شریف کے دور میں یہ قرضہ 480 ارب روپے تھا جس میں دس ارب روپے ماہانہ اضافہ ہوا جبکہ وزیراعظم عمران خان کے دور میں گردشی قرضوں میں ماہانہ 41 ارب روپے کا اضافہ ہوا ۔آپ تحریک انصاف کے دور میں روزانہ ملکی خزانے کو ایک ارب روپے کا جھٹکا لگایا جارہا ہے اور پاور سیکٹر کے گردشی قرضے انیس سو ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں عوام نے قومی بچت کا نام تو سنا ہوگا لوگ سرمایہ بھی لگاتے ہیں وہاں منافع صرف آٹھ سے دس فیصد ملتا ہے حکمرانوں نے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو 70 فیصد سے زیادہ منافع دے دیا یعنی جس نے سو روپے کا سرمایہ لگایا وہ ستر روپے منافع کما گیا ۔کیا کبھی سنا ہے دنیا میں اتنا منافع بخش کاروبار کوئی ہوں اگر نہیں تو سوچیئے گا ضرور ۔لیکن آپ کا کام تو صرف بجلی کے بھاری بل ادا کرنا رہ گیا ہے یا آپ کے لیے قومی بچت کی اسکیمیں رہ گئی ہیں یا آپ کمیٹیاں ڈال کر اپنا گزارا کریں بڑے منافع تو صرف بڑے مگرمچھوں کے لیے ہیں آئیے دیکھتے ہیں انرجی سیکٹر میں منافقا یہ گورکھ دھندہ شروع کیسے ہوا ۔

آئی پی پی کی کہانی 1994 میں بجلی کے بحران سے شروع ہوتی ہے جب بے نظیر بھٹو کے دور میں ہائیڈل پاور کی قیمت نوروپے نو پیسے فی یونٹ تھی تھرمل سیکٹر سے حاصل ہونے والی بجلی کو مکس کرکے ایک روپیہ فی یونٹ میں دیا جاتا تھا ۔
اس وقت کی حکومت نے بجلی میں سرمایہ کاری کے لیے نجی شعبے کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سیکٹر کو آئی پی پی کا نام دیا گیا نجی شعبہ نے بجلی بنا کر حکومت کو دینی تھی آئی پی پی پی پالیسی بنائی گئی سات روپے فی یونٹ بجلی کے معاہدے نظیر حکومت نے کیے معاہدوں کے مدرجات پڑھی تو تمام شقوں کا فائدہ صرف کمپنیوں کو تھا اس پالیسی کے تحت حکومت ان کمپنیوں کو ایندھن فراہم کرے گی کمپنیاں ایندھن لے کر بجلی بنا کر بڑے منافع کے ساتھ حکومت کو دی گئی مبشر لقمان نے کہا کہ جب آپ کو ٹی وی پر ان آئی پی پی کی کہانیاں سناتا تھا تو کوئی کان نہیں دھرتا تھا آج وزیراعظم کی انکوائری رپورٹ نے سب کے بول کھول دیے ہیں ۔
2002 میں مشرف دور میں ایک اور پاور پالیسی آئی جس کے تحت 58 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی جس پر اب تک دو سو تین ارب روپے منافع کمایا جا چکا ہے انکوائری رپورٹ کے مطابق 2013 کے فریم ورک کے تحت بجلی بنانے کے 8 منصوبے لگائے گئے اور کمپنیوں کو 6ارب سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں اور پھر شریفوں کا دور آگیا 2015 میں نواز شریف حکومت کی پاور پالیسی بنی جس کے تحت قائم کیے گئے بجلی گھروں کے منافع کی شرح 71 فیصد تک پہنچ گئی انکوائری کمیٹی کے مطابق عوام کے لئے صرف بھاری بل تھے اور آئی پی پی کے لئے صرف بھاری منافع ۔
اس رپورٹ کے مطابق آئی پی پی بڑے پیمانے پر ان چوری کرنے میں ملوث پائی گئی یعنی حکومت سے جتنا اندر لیا گیا اتنی بجلی تیار نہیں کی گئی ۔بجلی گھروں کی لاگت بھی حکومت کو غلط بتائی گئی لاگت بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ‏آئی پی پی نے 18 فیصد کی بجائے 60 فیصد منافع کمایا جبکہ حکومت پابند تھی کہ کوئی بجلی گھر بجلی تیار کرے یا نہ کرے اسے منافع دیا جائے گا ۔

اس طرح ایندھن کی چوری کم پیداوار غلط لاگت اور اضافی منافع کے ذریعے آئی پی پی نے قومی خزانے کو 200 ارب سالانہ نقصان پہنچایا ۔

جو بجلی ہمارے ملک میں 14 سینٹ فی یونٹ پیدا کی جاتی ہے وہی بجلی چین انڈیا ویتنام میں آٹھ سینٹ میں پیدا ہوتی ہے بنگلہ دیش میں 9 سینٹ میں بنتی ہے آپ خود اندازہ کر لیں کہ حکومت یا پرائیویٹ بجلی پیدا کرنے والے یہ ادارے آئی پی پی کیسے چونا لگاتے ہیں اور تمام اخراجات ڈال کر عوام کو 23 روپے فی یونٹ بجلی پڑھ رہی ہے انڈیا ویتنام بنگلہ دیش کے مقابلے میں 75 فیصد مہنگی بجلی پاکستان میں بیچی جارہی ہے پاکستان کے عوام کو مبارک ہو وہ اپنے خطے میں سب سے مہنگی بجلی استعمال کر رہے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق دو ہزار تین سے دو ہزار بیس تک 565 ارب روپے کا ٹیکہ لگایا گیا انیس سو چورانوے میں 50 ارب کی لاگت سے لگایا جانے والا بجلی گھر آج تک 415 ارب روپے منافع کما چکا ہے ۔

مبشر لقمان نے آخر میں کہا کہ اب انکوائری کمیٹی کی سفارشات کیا ہیں ۔کہا گیا ہے کہ جائیداد ایک یا واپس لی جائیں منافع ڈالر کی بجائے روپے میں دیا جائے اگر ان سفارشات پر عمل کرلیا جائے تو آنے والے دنوں میں چار ہزار سات سو ارب روپے کی بچت ہوگی اسی طرح ان معاہدوں کو ٹیک اینڈ پے بنا کر 200 ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں ۔
مبشرلقمان حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ حد ہے یعنی جن کمپنیوں نے عوام کو چونا لگایا ان کمپنیوں کے ساتھ دوبارہ معاہدے کئے جائیں ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان سے تمام وصولیاں کی جائیں گردشی قرضے بھی پورے کئے جائیں اور ان کمپنیوں کے مالکان کو جیل میں ڈال دیا جائے جس طرح 1994 سے اب تک عوام کا خون چوسا ہے ان کمپنیوں کو تحویل میں لے کر یہ حکومت عوام کو سستی بجلی فراہم کرے ۔

مبشر لقمان نے کہا کہ یہ پاور کمپنیاں طاقتور ہیں دھمکی دیتی رہتی ہیں کہ واجبات ادا کریں ورنہ بجلی بند کر دی گئی یہ کمپنیاں کروڑوں روپے فیس دے کر بڑے وکیل کرتی ہیں عدالت میں مقدمات کو الجھا دیتے ہیں آئی پی پی لندن کی عدالتوں میں جانے کی دھمکی بھی دیتی رہتی ہے ننگی پوری سکینڈل بھی قوم کے سامنے ہے اربوں روپے جھونکے گئے لیکن کوئی رکوری نہیں ہوئی وزیراعظم عمران خان ہروقت کرپشن کے خلاف شور مچاتے ہیں عوام کو یاد ہے کنٹینر پر کھڑے ہوکر انہوں نے بجلی کا بل جلایا تھا اور کہا تھا کہ نوازشریف آپ کی نااہلی اور کرپشن کے بدلے مہنگی بجلی خرید کر میں بل کیوں دوں لہذا میں بل جلا رہا ہوں ۔

آج وہی عوام وزیراعظم عمران خان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ اب وہ ان بجلی چوروں اور قوم کو چونا لگانے والوں کے خلاف کیا کرتے ہیں