ثناء میر نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

ثناء میر نے آج اپنے 15 سالہ شاندار کرکٹ کیرئیر کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے کیرئیر میں 226 بین الاقوامی میچوں میں شرکت کی
ثناء میر نے آج اپنے 15 سالہ شاندار کرکٹ کیرئیر کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے کیرئیر میں 226 بین الاقوامی میچوں میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے 2017-2009 تک 137 بین الاقوامی میچوں میں پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی۔
ثناء میر:
ثناء میر کا کہنا ہے کہ وہ تہہ دل سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی مشکور ہیں جس نے انہیں 15 سال ملک کی نمائندگی کرنے کا موقع دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے۔ ثناء میر نے کہا کہ وہ اسپورٹ اسٹاف، کھلاڑیوں، گراوٴنڈ اسٹاف اور ہر اس فرد کا شکریہ ادا کرتی ہیں جنہوں نے پس پردہ رہ کر ان کی کامیابی اور ویمنز کرکٹ کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اہلخانہ اور مینٹورز کا بھی شکریہ ادا کرتی ہیں جن کے غیرمشروط تعاون نے انہیں عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی سے متعلق خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مدد دی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس موقع پر اپنے ڈیپارٹمنٹ، زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کی بھی مشکور ہیں جنہوں نے پورے کیرئیر میں ان کا ساتھ دیا اور اگر ڈیپارٹمنٹل کرکٹ جاری رہتی ہے تو وہ اس کے ساتھ کام کرتی رہیں گی۔
ثناء میر نے کہا کہ گذشتہ چند مہینوں نے انہیں سوچنے کا بھرپور موقع فراہم کیا اور ان کے نزدیک زندگی میں آگے بڑھنے کا یہی بہترین وقت ہے۔
انہیں یقین ہے کہ وہ ملک اور کھیل کے لیے بہترین کردار ادا کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے کرکٹ کیرئیر کے دوران وہ خواتین کرکٹ کی چند بہترین کھلاڑیوں سے ملیں اور ان سے گہری دوستی قائم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کی کہانیاں اور فلسفہ نے نہ صرف انہیں ایک مضبوط ایتھلیٹ بننے میں مدد کی بلکہ انہیں ایسا سبق دیا جو ہار، جیت یا کھیل سے منفرد ہے۔

ثناء میر نے کہا کہ جب وہ اپنے کیرئیر پر نظر ڈالتی ہیں تو انہیں یہ جان کر اطمینان نصیب ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے عمل کا حصہ رہی ہیں جس کے نتیجے میں پہلے لارڈز میں کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2017 کا فائنل کھیلا گیا اور پھر آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2020 کا فائنل 87 ہزار تماشائیوں کی موجودگی میں میلبرن کرکٹ گراوٴنڈ میں کھیلا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ خواتین کرکٹ کی 2 بہترین کامیابیاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ویمنز کرکٹ کے فروغ اور تعاون پر آئی سی سی کی شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی ویمنز چیمپئین شپ جیسے ٹورنامنٹس پاکستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا جیسی ٹیموں کے لیے بہت فائدہ مند ہیں کیونکہ ان ممالک کی خواتین کھلاڑیوں کو ان مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا موقع ملتا ہے۔

ثناء میر نے کہا کہ آخر میں وہ دنیا بھر میں موجود اپنے تمام مداحوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مداحوں نے 15 سالہ طویل کیرئیر میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
ثناء میر نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنا اعزاز اور گرین جرسی زیب تن کرنا قابل فخر لمحہ ہوتا ہے، اب یہ وقت آگے بڑھنے کا ہے۔ انشاء اللہ خدمت کا یہ سلسلہ کسی اور انداز میں جاری رہے گا، پاکستان زندہ باد۔

وسیم خان، چیف ایگزیکٹو پی سی بی:
چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ وہ ایک شاندار کیرئیر پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ثناء میر کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف ایک طویل عرصہ پاکستان کی خواتین کرکٹ کا چہرہ رہیں بلکہ نئی نسل کے لیے ایک قابل تقلید ایتھلیٹ بھی ہیں۔
وسیم خان نے کہا کہ ثناء میر نے اپنے جذبے اور لگن سے ملک میں موجود دیگر خواتین کرکٹرز کے لیے راہ ہموار کی۔
ان کا کہنا ہے کہ ثناء میر نے اپنی کارکردگی سے نہ صرف پاکستان میں خواتین کرکٹرز کی پروفائل بہتر کی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بھی بہتر کیا۔
چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے کہا کہ ثناء میر خواتین کرکٹ کی ایک حقیقی لیجنڈ ہیں جو نئی کھلاڑیوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ کھیل کی طرف راغب بھی کرتی ہیں، انہیں یقین ہے کہ وہ مستقبل میں بھی خواتین کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک مثبت انداز میں اپنا حصہ ڈالتی رہیں گی۔

ثنائمیرکے کیرئیر کی ایک جھلک
اپنے ایک روزہ کرکٹ کیرئیر کا آغاز دسمبر2005، کراچی میں سری لنکا کے خلاف کیا جبکہ آخری ایک روزہ میچ نومبر2019، لاہور میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا۔
120 ایک روزہ میچوں میں 151 وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 1630 رنز بنائے۔
151 ایک روزہ وکٹوں کے ساتھ ثناء میرآل ٹائم لسٹ میں انیسہ محمد کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر موجود ہیں۔
اس فہرست میں بھارت کی جھولان گوسوامی کا پہلا نمبر ہے۔
اکتوبر 2018 میں آئی سی سی ویمنز ایک روزہ باوٴلرز رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
ثناء میر کا شمار ان 9 خواتین کرکٹرز میں ہوتا ہے جنہوں نیایک روزہ کرکٹ میں 100وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 1000 رنز بنائے۔اس فہرست میں آسٹریلیا کی لِسا اسٹالیکر کاپہلا نمبر ہے۔
ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کیرئیر کا آغاز مئی 2019 میں آئرلینڈ کے خلاف کیاجبکہ آخری ٹی ٹونٹی میچ اکتوبر 2019 میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا۔

106 ٹی ٹونٹی میچوں 89 وکٹیں اور 802 رنز بنائے۔
72 ایک روزہ اور 65 ٹی ٹونٹی میچوں میں پاکستان کی قیادت کی، اس دوران 26 ایک روزہ اور 26 ٹی ٹونٹی میچوں میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی۔
2013 اور 2017 کے ورلڈکپس میں پاکستان کی قیادت کرنے کے ساتھ ساتھ 5 آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپس میں بھی کپتانی کا اعزاز حاصل کیا، جس میں 2009، 2010، 2012، 2014 اور 2016 کے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ شامل ہیں۔

وِزڈن ویمنز ٹیم آف ڈیکیڈ کی کپتان نامزد کیا گیا۔
متھالی راج کے ہمراہ بطور کھلاڑی آئی سی سی ویمنز کمیٹی میں شامل کیا گیا۔
اس وقت آئی سی سی ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی باوٴلرز رینکنگ میں بالترتیب9 اور 41ویں نمبر پر موجود ہیں۔
2010 اور 2014 میں ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا حصہ تھیں