نظم :‌ مرحبا ، اے شھرالقرآن مرحبا، شاعر کاشف شمیم صدیقی

مرحبا ، ماہِ رمضان مر حبا

مرحبا اے شھرالغفران ، مرحبا
سحر ہے پُرلطف،

افطار بھی کیا خوب ہے

اس ماہ کی ہر ساعت ،

بس نور ہی نور ہے !
رحمتیں، مغفرتیں، آزدیِ جہنم

تین عشرے بکھیرتے ۔۔،

چہروں پہ ہیں تبسم !
روزہ، زکوة، نمازیں

اور تلاوتِ قران

بنا دیتے ہیں یہ سارے عمل ،

زندگی کو آسان!
شب قدر بھی اس میں،

کیا خوب خدا نے رکھی

کاش پا لیں اس کو ،

دعا ہے یہ ہم سب کی
ہو جاتے ہیں بحکمِ خدا ،

سارے گناہ معاف

چاند رات پر ہو واپسی ،

گر بمعہ مقبول اعتکاف
جو دیکھو کسی بے کس کو

تم طالب رمضان ،

کر دینا چُپ چاپ کچھ

سحر و افطار کا سامان
مرحبا ، ماہِ قیام مرحبا

مرحبا اے شھرالقران ، مرحبا!