وزیر اعظم کی مشکلات کا اندازہ ہے، مگر اوؤرسیز پاکستانی بھی توجہ چاہتے ہیں۔

امیر محمد خان –
وزیر اعظم کی مشکلات کا اندازہ ہے، مگر  اوؤرسیز پاکستانی بھی  توجہ چاہتے ہیں۔  حالیہ  کروناوائرس  کے وجہ سے ہونے والی اموات میں  افسوسناک ہی سہی مگر  امریکہ،  اٹلی، اسپین میں  اموات کے نمبر اب  یورپی دنیا، امریکہ  کو یہ سوچنے پر مجبور کررہے ہیں کہ  جنوبی ایشیاء  کی آبادی  جو  ان ممالک کی نو آبادیاتی ، یا غلام  سمجھی جاتی ہے وہاں کی عوام میں تمام تر مسائل  کے باوجود    اتنی زیادہ  قوت مدافعت  کہاں سے آگئی چونکہ  کرونا ء کی وجہ سے ہونے والی  اموات جنکے متعلق کہا جاتا ہے کہ  قوت مدافعت  ہی  انسان کو   اس موذی وباء  اور  موت سے دور  رکھ سکتی ہے ۔  اور الحمداللہ جنوبی ایشیاء میں یہ شرح اموات بہت کم ہے۔اور امید ہے کہ  جنوبی ایشاء سے اس وباء کا خاتمہ بھی جلد متوقع ہے ۔وطن عزیز کے  وزیر اعظم  بے پناء مسائل میں گھرے بیٹھے ہیں ، پاکستان کی معیشت کی  بحالی انکا اولین ٹارگیٹ تھا ، معیشت کچھ استحکام کی طرف رواں ہوئی،  تاخیر  ایک تجربہ  کار ٹیم نہ ہونے کی وجہ سے تھی ، بہرحال  کچھ ماہرین  کو  ورلڈ بنک اور  باہر کے اداروں سے مستعار لیکر کام چلانے کی کوشش کی،  انتخابات سے قبل ہر جماعت  بڑے  سنہری خواب دکھا کر  عوام کو  اپنی طرف راغب کرتی ہے  موجودہ حکومت نے بھی ایسا ہی کیا ،  مگر  معیشت کو  بہتری کی طرف لیجانے کے عمل ،نیز عالمی اداروں کی جانب   پاکستانی  معیشت کی صحیح سمت جانے کی خبروں نے وہ پرانے وعدے  و اعلان اب بھلا دئے ہیں جو  تحریک انصاف نے کئے  تھے۔   مگر ٹیم  ابھی بھی ماشااللہ ہے ،  صرف  وزیر اعظم کی ہی شخصیت ہے جو  کرونا وائرس کے  اس عالمی  مشکل کی وجہ سے  طے شدہ  اور  خیال شدہ  معیشت کی بحالی  کیلئے  IMF   اور  دوست ممالک سے قرض لینے کے باوجود  کرونا وائرس  کی  وجہ  سے عالمی معیشت کی بد  حالی کی وجہ  سے  نہ صرف  قرضوں کی ادائیگی  موخر کرائی بلکہ کرونا  ء وائرس سے مقابلے  کیلئے اضافی اخراجات  حاصل کرنے کی  تمام دنیا کی توجہ دلائی کہ  امیر ممالک  (جو  اب پہلے جیسے امیر  نہیں رہے)  انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کی آواز کو  سنا  ء   اور  کروناء وائرس  سے مقابلے کیلے خاطر خواہ  مالی کمک  حاصل کرلی۔  ناقدین  ایک  بات پر غور کرتے ہیں  جو صحیح بھی ہے ،  کرونا وائرس کے مقابلے میں کوئی واضح، متفقہ پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے  تاخیر ہوئی ،  اور  ابھی تک  لگتا ہے عوام بھی کنفوژ اور حکومت بھی۔  متعلقہ  ادارے  عوام  تک کرونا ء  کی تباہی  اور  اسکے خطرے کو  عوام تک   تو پہنچا نہیں سکے۔ اس سلسلے  میں علماء بھی نہائت اہم رول ادا کرسکتے تھے ،  مگر  فرقوں میں بٹے ہوئے علماء  سنگینی سے واقف ہی نہیں۔  اور  ابھی تک ایسامحسوس ہورہا ہے  پاکستانکی  مساجد،  کا رتبہ  حرم مکہ یا  مسجد نبوی سے زیادہ ہے  نیز  ہمارے فرقوں میں تقسیم علماء کا علم  حرمین کے علماء سے زائد ہے  کہ  نماز با جماعت ہی  پڑھنی ہے،  تراویح  ضرور  مسجد میں ادا  کرنی  ہے،  پاکستان کے وزیر مذہبی امور نے  تمام علماء کو  جمع کرکے  ایک  فیصلہ کرلیا ،  جس پر  عمل درآمد کی امید بہت کم ہے، فاصلہ کون  کرائے گا ؟؟ مطلوبہ تعداد  سے زائد افراد کو مساجد میں جانے سے  کون روکے گا ؟؟؟  وزیر مذہبی امور نے بیس نکات  تو  علماء  اور صدر پاکستان کے ساتھ ملکر طے تو کردئے  اور خود اعلان کردیا  کہ میں تراویح، نماز گھر پر ہی ادا کرونگا۔ شاہراوں پر  ایسا منظر کہیں نظر نہیں آتا کسی بھی شہر میں کہ حکومتی احکامات مطلوبہ   social  destance   ہورہا ہو ،  بازاروں،  دکانوں،  میں وہی رش ہے  جو  عام دنون میٰں ہوتا ہے۔  وزیر اعظم کا  عہدہ ایسے وقت میں  کتنے دباؤ میں ہوتاہے اسکا اندازہ وزیر اعظم کو ہی ہوگا۔  کئی موقع پر  اپنے ہی  دوسری جماعتوں اور اڑتے پنچھی معاونین وہ مشورے دے ڈالتے ہیں جو انکے لئے سوالات جنم دیتے  ہیں۔  مثلاء  حکومت کا  بیانیہ یہ  ہے کہ  نیب ایک  غیر جانبدار  ادارہ ہے ،  حکومت کی مرضی سے یہاں کچھ نہیں ہوتا ، جمہوری ملک میں بیانیہ یہ ہی ہونا چاہئے مگر  تحریک انصاف سے باہر  کے وہ لوگ  یہ  تحریک انصاف کی وجہ سے  وزارتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں  وہ  وزیر اعظم اور حکومت کے اس بیانیہ کو مشکوک کردیتے ہیں  یہ کہہ کر  کہ  ’وزیر اعظم سے بات  کرونگا،  میر شکیل پر  ہاتھ ڈھیلا کردیں “شہباز شریف  کو اب جیل جانا پڑے گا ،  وہ  کسی  قومی حکومت کے سلسلے میں یہاں آئے تھے  وغیرہ وغیرہ،  پھر  اب وہ ایک نئی لائے ہیں  میرے دو موکل ہیں جو مجھے آگاہ کرتے ہیں۔  انکا  ایک واقع یاد آگیا  جو ثابت کرے گا  وہ  بھی  سابق  صدر جنرل پرویز مشرف کے موکل رہ چکے ہیں، اور  پی پی پی  کی اعلی قیادت  بھی جانتی ہے  کہ وہ  زمانہ طالب علمی میں بھی موکل تھے۔  واقع یوں ہے  کہ  جب سابق وزیر اعظم نواز شریف  سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے  اسوقت  پاکستان سے کئی  سیاسی شخصیات یہاں آیا کرتی تھیں میاں نواز شریف کی مہمان ہوتی تھیں یا ان سے ملاقات کرتی تھیں ہمارے  سعودی عرب میں موجود  کچھ مہربان  ان ملاقاتوں پر  نظر  رکھتے تھے   اور پاکستان میٰں حکومت کو  آگاہ کرتے کرتے  تھے  یہ  میاں صاحب کی کیا  مصروفیات ہے  اسوقت  شیخ رشید  جدہ موجود  اپنے دوستوں کو  فون کرکے  معلومات لیتے تھے  اورچونکہ کوئی پوشیدہ عنصر نہیں تھا  ہم اپنے دوستوں سے  میاں صاحب سے ملاقاتوں کوذکر کرتے  تھے کہ کون ملا  اور کیا ہوا ؟  ہمارے اور شیخ صاحب کے مشترکہ دوست  وہ  خبر  شیخ رشید  کو پہنچاتے  تھے  اور  شیخ صاحب فوری ایوا ن صدر کو ۔  متعلقہ  ایجینساں  جب پاکستان میں صدر صاحب کو رپورٹ  پیش کرتیں تو  وہ  تفصیل  بذریعہ  شیخ رشید  پرویز مشرف کو پہنچ چکی ہوتی  تھے۔  اب خیر  سے  شیخ رشید  خود بھی اس قابل ہوگئے ہیں کو  انہوں نے   موکل رکھ  لیئے ہیں ۔ کالم کے آخر میں میرا فرض ہے  کہ  کروناء  کی اس وباء میں  سعودی عرب میں ان پاکستانیوں کا ذکر کروں جو روزگار کے بغیر بیٹھے ہیں ،  قونصل خانہ، سفارت خانہ  کچھ  صاحب حیثیت  پاکستانیوں کے ذریعے  انکی غذا  اور ضروریات  کا  خیال رکھا ہوا ہے ،مگر  طریقہ کار وہی ہے  کی  دوسرے کی جیب میں ہاتھ ڈالنا ،  یا  کسی  ATM  کوتلاش کرنا ،  جبکہ  باعزتی کا تقاضہ یہ ہے کہ  پاکستانیوں کے جمع شدہ ویلفئیر فنڈ کو استعمال کیا جائے جو انکا اپنا پیسہ ہے۔  سعود ی حکام ،  ہلال احمر  کے  تمام پاکستانی شکر گزار ہیں  کہ  وہ خود محلے محلے جاکر بھر پور کوشش کررہی ہے  کہ ضرورت مند  چاہے وہ کسی ملک سے تعلق رکھتا ہو  اسے راشن  پہنچاتے ہیں۔