بس جنگ اور جنگ ہی جنگ ہے۔۔! …….. قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

 بس جنگ اور جنگ ہی جنگ ہے۔۔! ……..  قادر خان یوسف زئی کے قلم سے
دنیا نادیدہ دشمن سے لڑنے میں مصروف ہے اور پاکستان میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔اب ایسے کم عقل دشمن کے مقابلے میں نادان دوستوں کو خطرناک سے تشبہہ نہ دیں تو کیا کریں، جو بدترین حالات میں بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ عوام کی بدقسمتی ہے کہ پارلیمنٹ جیسے جمہوریت کا سب سے معتبر و بااختیار ادارہ قرار دیا جاتا ہے، مسلسل خاموش و ناپرساں دکھائی دیتا ہے۔ پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے سے انکار کی بنیادی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ کرونا وائرس کے باعث احتیاط برتی جا رہی ہے، چلیں اس استدلال کو تسلیم کرلیتے ہیں، لیکن اپوزیشن کے ساتھ حکومتی ساجھے داری کا کیا حال ہے، اس کے مظاہر ہمیں روز انہ نیوز چینل پر نظر آتے ہیں۔ صبح سویر ے سے حکومتی مشیر وں کی پریس کانفرنسوں کا نہ رکنے والا سلسلہ  پھر دوپہر سے شام تک ترجمانوں کی لائن کا لگ جانا تو رات گئے تک، ٹاک شوز میں کڑوی کسیلی گفتگو و لا حاصل مباحث کادُورسمجھ سے بالاتر ہے، یہ سلسلہ پروگراموں کے دوبارہ ٹیلی کاسٹ ہونے کے ساتھ اگلے دن تک جاری رہتا ہے،  نیوز چینل کی اکثریت کو دیکھیں تو یہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ کرونا وبا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا متاثر ہے تو لاک ڈاؤن میں گھر بیٹھے افراد، مریضوں کی تعداد میں اضافے اور ہلاکتوں کی خبریں دیکھ دیکھ کر فرسٹریشن کا شکار ہو رہے ہیں، تفریحی پروگراموں ، سینکڑوں فلمیں دیکھنے والوں کا دل اچاٹ ہوچکا، ڈرامے ہوں یا کھیلوں کے چینل سمیت کارٹون پروگرامو ں سے جیسے الرجی ہوگئی ہو۔ دین دار طبقے کا رجحان مذہبی چینلوں کی جانب ہوتا ہے، لیکن جب احتیاطی تدابیر میں مساجد میں جانے،آنے پر عمل پیرا ہونے یا نہ ہونے پر ذہنی خلفشار کا شکار ہوجاتے ہیں، کیونکہ مذہبی چینل کچھ اور بتاتے ہیں او ر حکومت، علما ء مشائخ و آئمہ اکرام کچھ اور،کرونا کو لے کر جس طرح فرقہ واریت و مسالک کے بیشتر پیروکاروں نے شوشل میڈیا میں جو ہنگام برپا کیا، الامان الحفیظ۔۔۔۔!  کرونا نے کچھ ایسا کردیا ہے کہ نہ مشرق وسطیٰ یاد رہتا ہے نہ امریکا وروس اورشام، ایران، افغانستان، یمن، عراق اور ترکی سمیت خانہ جنگیوں و جنگوں پر خبریں اور تجزیئے سب دھرے کے دھرے۔۔۔۔ ایک طرف سے آہ  وبکامچی ہوئی، کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے اورانہیں جنگوں سے فرصت نہیں، دوسری جانب لاک ڈاؤن کے سبب عوام کی بے بسی و معاشی تنگدستی کی المناک داستانیں جنگ سے زیادہ ہولناک مناظر پیش کرتی ہیں، پوری دنیا میں، اب بس جنگ ہے اور جنگ ہی جنگ ہے۔ جنگ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا۔نہ جانے مثبت خبریں کب سے سننے کو ملیں، ایک عام انسان کرونا سے زیادہ موجودہ حالات سے خوف زدہ اور گھبرایا ہوانظر آتا ہے، اُسے کرونا کی دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتوں کا مکمل علم ہے، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ایک معمولی جرثومے نے دنیا کی تمام قوتوں کی ناک، خاک میں رگڑا دی، لیکن اِس کو اَس سے کوئی سروکار نہیں، کیونکہ اِس کی اپنی حالت اَس قدر قابل ترس ہوتی جارہی ہے کہ بیان کے لئے الفاظ نہیں۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ وطن عزیز میں تمام سیاسی و مذہبی رہنما ایک صفحے پر ہوتے، وزیراعظم کو حزب اختلاف سے لاکھ شکایات، موجودہ حالات کے باوجودجو سمجھتے،ملکی حالت کا ذمے دار انہیں قرار دیتے رہتے، لیکن جانی دشمن بھی ایک موقع پر مذاکرات کی میز پر اکھٹے بیٹھ ہی جاتے ہیں، خاص طور پر ان حالات میں بڑے پن کا مظاہرہ کرنے والے ہی لیڈر کہلائے جاتے ہیں، لیکن ایسا احساس نہ جانے کیوں نہیں ہوتاکہ غریب عوام کے رَستے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے کچھ وقت تک دل پر پتھرہی رکھ لیں۔ سیاست، مخالفت وغیرہ کے لئے پوری زندگی پڑی ہے، کرونا وبا کے خاتمے کے ساتھ سب کچھ ختم نہیں ہو گا، بلکہ ٹرک کی نئی سرخ بتی اور ایک دوسرے کے خلاف عدم برداشت کے مظاہرے شدومد کے ساتھ جاری رہیں گے۔ لیکن اس وقت حزب اقتدار و اختلاف دونوں کو ایک صفحے پر موجود رہنا، عوامی فرسٹریشن کو دور کرنے میں معاون و مدگار ثابت ہوگا۔ حیران ہوتا ہوں جب ملک کے ایک کونے سے الزامات کی بوچھاڑ، تو دوسری جانب اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے، کیا قومیں اس طرح ترقی کرتی ہیں، کیا کوئی قوم آنے والے افتاد کا اس طرح مقابلہ کریں گی، شاید یہ من الحیث القوم ہم سب کا رویہ یکساں طرز عمل کی غمازی کرتاہے، کیونکہ حوادث و بحرانوں سے ہم نے کبھی سبق حاصل ہی نہیں کیا۔ مقبوضہ کشمیر پر ہندو شدت پسندوں کے خلاف ہمارا کیا کردار ہے، سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ سقوط ڈھاکہ کے المناک ترین سانحے کے باوجود بھی اغیار و ملک دشمنوں کے تلوے چاٹنے والے مملکت میں انارکی، افراتفری پھیلانے میں پوری قوت کے ساتھ مگن ہیں، غریب عوام کرونا وائرس کے سامنے فرنٹ لائن پر نشانہ بنی ہوئی ہے تو کالعدم جماعتیں و دہشت گرد زِیر زمین محفوظ ہیں، انہیں کرونا وائرس کچھ نہیں کہہ رہا، ان کا جب جی چاہتا ہے، سیکورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔بھارت کی ہٹ دھرمی و فسطائت عروج پر ہے، مودی سرکار کو مسلم نسل کشی کے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا، لیکن یہاں سوچنے کا مقام تو یہ ہے کہ ہمارے قومی رہنما کیا کررہے ہیں؟۔ ان کے سیاسی بلوغت میں سنجیدگی کے لئے مزید کتنی دہائیاں،بحران اور سانحوں کو جھیلنا ہوگا۔ بدقسمتی سے مملکت کا متفقہ بیانیہ موجود نہیں، سیاسی دَم دُورد اور دمَ دَما دم مست قلندر نے عوام کو منقسم کردیا۔رتی بھر شبہ نہیں کہ وطن عزیز پر ناپاک نظر ڈالنے و ارادے رکھنے والوں کے خلاف عوام میں قربانی کا جذبہ ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، نوجوان نسل پرجوش، لیکن انہیں بھیڑ بکریوں کے ریوڑ بنا کر نامعلوم منزل کی جانب ہانک دیا گیا، اذہان کو منتشر و عدم برداشت کا عادی بناکر جو یہ کانٹے دار فصل جو بوئی جا رہی ہے، اس کے مضمرات و نتائج، خدانخواستہ کرونا وبا سے بھی زیادہ خطرناک نکل سکتے ہیں۔ ائیر کنڈشن بنگلوں میں بیٹھ کر جھونپڑیوں میں رہنے والوں کی تکالیف کو دُور اگر نہیں کرسکتے تو زخموں پر نمک ڈالنے کا سلسلہ تو ختم کردیں۔ منفی عوامل نوجوان نسل کے لئے زہر قاتل ہیں، ملی و قومی وحدت کے لئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں، اس کے مخفی نتائج کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا کہ ہر گذرتے لمحوں کے ساتھ شعلوں میں نوجوان نسل کندن کے بجائے یا راکھ کا ڈھیربن سکتی ہے، جو کسی کے حق میں بہتر نہیں۔