سندھ حکومت چاہتی ہے کہ مساجد و امام بارگاہ جیسے معاملہ میں ایسا فیصلہ کیا جائے جو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہو

۔صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ہم اپنی لیڈرشپ کے ویژن کے مطابق اور چیئر مین بلاول بھٹو کی ہدایات کے مطابق سب کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں اور یہ درخواست کرتے ہیں کہ مساجد و امام بارگاہ جیسے حساس معاملہ میں اس طرح کے فیصلے کریں جو کہ ملک و قوم کی صحت کے وسیع تر مفاد میں ہوں انہوں نے کہا کہ رمضا ن المبارک میں مساجد میں عبادات کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی سندھ میں کورونا وائرس کے کیسز آئے تو ہم نے فوری طور پر لاک ڈاﺅن کیا اور علماءکرام کی مشاورت سے جمعہ اور دیگر با جماعت نمازوں کے سلسلے میں علماءکرام کی مشاورت سے اقدامات اٹھائے انہوں نے کہا کہ باقی صوبوں نے بعد میں سند ھ حکو مت کے اس قدم کی پیروی کی۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ رمضان المبارک میں تراویح اور دیگر عبادات کے معاملے پر بھی ہمارا موقف تھا کہ پورے ملک میں مشاورت کے ساتھ یکساں پالیسی کا نفاذ ہو۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا اصل مسئلہ اونر شپ کا ہے اور سب سے بات کرکے عمل کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ اب بھی ہم علماءکرام سے درخواست کرتے ہیں کہ جو بھی احتیاطی تدابیر ہیں ان پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ علماءکرام کی کثیر تعداد اس بات پر متفق ہے کہ احتیاط کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اصل مسئلہ اونر شپ کا ہے پوری دنیا میں اس وباءسے بچاﺅ کے لئے لاک ڈاﺅن کیا گیا جب ہم نے لاک ڈاﺅن کی بات کی تو مختلف باتیں سامنے آئیں۔ جس وقت ہم نے 15 دن کا لاک ڈاﺅن کیا اس وقت اگر پورے ملک میں لاک ڈاﺅن ہوجاتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ لیکن وفاقی حکومت کسی فیصلے پر نہیں پہنچتی ہے۔جب وہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کاروباری مراکز کھول دئے جائیں تو علماءکرام بھی اس بات میں حق بجانب ہیں کہ جب وہ کہتے ہیں کہ جب ہر چیز کھلنے کی بات وفاقی حکومت کرتی ہے تو ہم مساجد و امام بارگاہ کو کس طرح محدود کر سکتے ہیں۔ اس معاملہ میں سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا۔ اگر لاک ڈاﺅن میں نرمی نہ کی ہوتی تو اس طرح کی صورتحال نہ ہوتی اور اس طرح کے فیصلے نہ ہوتے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پہلے دن سے ہی کہا تھا کہ اس معاملے میں ہم سب کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اور کسی کے ساتھ تنازعہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے کوئی بھی رضا کار ہوں وہ آئیں اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کریں۔ اس فورس کے نام سے اختلاف کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ وہ کام کریں ہم انکو سہولتیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تحفظات موجود ہیں لیکن ہم قوم کے وسیع تر مفاد میں ان کو سہولتیں دینے کے لئے تیار ہیں۔اگر اب بھی وفاقی حکومت اس فورس کا نام بدل دے تو اس سے اچھا تاثر آئے گا اور یہ معاملہ سیاسی ہونے سے محفوظ رہے گا۔ لیکن کسی بھی معاملہ میں تنازعہ نہیں ہونا چاہئے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آٹا ، چینی اور دیگر چیزوں میں انکوائری کے معاملہ میں وہ سرگرمی نظر نہیں آتی جو دوسرے معاملات میں ہیں اوریہ ایک کھلا تضادمحسوس ہوتا ہے۔ ہینڈ آﺅٹ نمبر 350۔۔۔