پاور اسکینڈل پر پی ٹی آئی وزراء کا غیر منتخب مشیروں پر غصہ۔ رزاق داود اور ندیم بابر پر کڑی تنقید ۔اجلاس کی اندرونی کہانی

پہلے چینی پھر آٹا اور اب پاور اسکینڈل سامنے آنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے منتخب وزیروں کا غیر منتخب مشیروں پر غصہ بڑھ گیا ہے پی ٹی آئی کے رہنما عہدیدار اور کارکن پریشان ہیں کہ وہ اپنے پارٹی بیانیہ کا دفاع کریں یا ان غیر منتخب مشیروں کا ۔جنہیں وہ اچھی طرح جانتے بھی نہیں ہیں اور جن کی پارٹی کے لیے کوئی خدمات بھی نظر نہیں آتی ۔
محنت کریں فاختہ بی۔ انڈے کھائیں کوے ۔

کس حوالے سے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار رؤف کلاسرہ نے بتایا ہے کہ چینی اسکینڈل رپورٹ آنے پر حکومت نے کہا تھا کہ 25 اپریل کی تاریخ ذہن میں رکھیں پھر فرانزک رپورٹ آجائے گی لیکن اس دوران ایف آئی اے کے اندرونی جھگڑے شروع ہوگئے ایک افسر کے خلاف کارروائی شروع کی گئی برطرفی کی خبریں شروع ہوگیں ۔کابینہ کے ایک گذشتہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں اسد عمر نے بریفنگ دی انرجی کا نیا چیئرمین لگایا گیا ہے پہلے انہوں نے اجلاس کیا اربوں روپے لوگوں نے کمائے اس کی معلومات حاصل کی یہ پہلی مرتبہ رپورٹ کابینہ کے سامنے پیش کی گئی وہاں وزیروں نے کھل کر اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کیا اس اجلاس کے حوالے سے دو چیزیں پتہ چلی ہیں کہ کابینہ میں منتخب وزیروں نے غیر منتخب مشیروں پر غصہ اتارا ہے اور یہ لڑائی بڑھ گئی ہے واضح اختلاف شروع ہو چکا ہے بیس بائیس سال در لوگوں نے جدوجہد کی ماریں کھائیں محنت کرکے اقتدار ملا تو اہم پوسٹوں پر غیر منتخب لوگوں نے قبضہ جما لیا ایسے لوگ جنہیں پارٹی والے جانتے بھی نہیں ہیں اس وقت بھی وزیر اعظم کے 16 ایڈوائزرز ہیں وزیراعظم کہتے ہیں وہ بہت اچھے لوگ ہیں لیکن پارٹی کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے پورے نام بھی شاید وزیراعظم کو یاد نہیں دوسری بات یہ سامنے آئی ہے کہ غیر منتخب لوگوں کے نام رپورٹ میں آگئے ہیں خاص طور پر ندیم بابر اور رزا ق داود ۔ ان ناموں پر منتخب وزیر بہت غصے میں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اربوں روپے ان لوگوں نے بنا لیے ہیں اور کابینہ میں بھی بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ روز ٹی وی پر سٹوریاں چل رہی ہیں کبھی نہ کےاراکین دینا مار رہے ہیں تصویریں دکھائی جا رہی ہیں زیادہ بے چینی ہے کابینہ میں بھی لوگ پریشان ہیں اور پارٹی کے کارکن بھی پریشان ہیں جواب نہیں دے پارہے ۔
اسد عمر نے بریفنگ دی کہ وہ کتنے اچھے لوگ ہیں جب ان کے حوالے سے بحث شروع کرنے لگے تھے تو وہ اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے اجلاس میں ان کی تعریف کی گئی لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے رپورٹ کی تعریف کرنے کے باوجود یہ کہا کی اگر ان لوگوں کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے تو اس کا خیال رکھیں ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں کا دفاع کرتے رہیں اور پارٹی کے بیانیے کو نقصان پہنچے ۔رؤف کلاسرا نے کہاکہ شاہ محمود قریشی اجلاس میں بہت زیادہ بولے ہیں اور اچھا بولے ہیں لیکن باقی وزیر اس وقت چپ ہوگئے جب خود عمران خان نے رزاق داود اور ندیم بابر کا دفاع شروع کیا وزیراعظم نے کہا 20 سال سے جانتا ہوں یہ اچھے اور زبردست لوگ ہیں شوکت خانم کے دور سے وہ دیکھتے آرہے ہیں 9 کلاس میں نے کہا کہ وزیراعظم نے اسد عمر کو ہدایت کی کہ یہ ضرور دیکھے ہیں کہ منافع جائز طریقہ سے کمایا ہے یا ناجائز پالیسی کے مطابق کام کیا ہے یا نہیں اور اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کہیں حقیقی انویسٹر ڈر نہ جائے بھاگ نہ جائے اور چین کا بھی خیال رکھیں ۔
سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ رزاق داود ندیم بابر اگر اچھے لوگ ہیں تو پھر مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے اسد عمر کہتے ہیں کہ پہلے کے معاہدے ہوئے ہوئے ہیں ہم نے نہیں کئے لیکن آپ نے پاورپلانٹ چلانے والوں کو وہی وزارتیں دے رکھی ہیں ندیم بابر جب اقتدار میں نہیں تھے تو انھوں نے حکومت پاکستان پر تیز کردیا تھا آپ کہہ رہے ہیں اچھے آدمی ہیں تو کیا برے لوگ صرف وہی ہیں جو اقتدار میں نہیں ہیں یا کسی دوسری پارٹی میں بیٹھے ہیں اور جو آپ کا حامی ہے وہ آپ کا بندہ ہوگیا اور وہ چاہے کچھ بھی کرے آپ اس کا دفاع ضرور کریں گے 9 کلاس میں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ہم نے یہی دیکھا تھا ان کے جس بندے کے خلاف بھی کوئی اسٹوری آتی تھی تمام وزیر دفاع کرتے تھے نواز شریف کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا لوگ سوچ رہے تھے عمران خان کے دور میں ایسا نہیں ہوگا لیکن یہ سب کچھ ہو رہا ہے اسد عمر نے کاشف عباسی کے پروگرام میں آرام سے کہہ دیا کہ ایکسپورٹ کی اجازت دیدی گئی میں ہوتا تو ضرور پوچھتا اکتوبر میں آپ نے منع کیا دسمبر میں سبسڈی کی اجازت کیسے دے دی ایک مہینے میں ایسا کیا ہوگیا تھا کہ فیصلہ تبدیل کرنا پڑا چینی کی قیمت بھی دسمبر سے جون کے دوران بڑھی اس کا مطلب ہے کہ اقتدار میں آکر آپ کچھ اور کر رہے ہیں اس کے خلاف میں آپ کو چور کہتے تھے ۔
لوکل عزہ نے کہا کہ صاف نظر آرہا ہے کہ آنے والے دنوں میں عمران خان اور رزاق داود پریشر بڑھے گا ان کے مفادات کی وجہ سے پارٹی پر برا اثر پڑ رہا ہے لوگ سمجھ رہے ہیں کیونکے کابینہ کے لوگ پیسہ بنا رہے ہیں وزیر بھی سوچ رہے ہیں وہ کیوں کسی کا دفاع کریں آج شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے سوالات اٹھائے ہیں کل اور وزیر بھی سوال اٹھائیں گے شاہ محمود قریشی نے لمبی چوڑی تقریر کی ہے کل مزید وزیر بھی تقریریں کریں گے ہر کوئی سوچ رہا ہے مال رزاق داود ندیم بابر بنا رہے ہیں دفاع کرنے کے لیے وہ عوام کے سامنے کیوں جائیں ان غیر منتخب مشیروں نے نہ تو عوام کے سامنے جانا ہوتا ہے نہ میڈیا پر جاتے ہیں پولیس یا یہ بناتے ہیں ان کی غلطیوں کا دفاع دوسرے وزیر کرنے کیوں جاتے ہیں کھایا پیا کچھ بھی نہیں گلاس توڑا بارہ آنے ۔