کونسے اینکرز پیسے لے کر پروگرام کرتے ہیں عمران خان نے بتادیا صابر شاکر کا دعوی

پاکستان میں ٹی وی چینلز پر کون سے اینکر پیسے لے کر پروگرام کرتے ہیں اس حوالے سے صابر شاکر نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سب بتا دیا ہے سوشل میڈیا پر اپنے پروگرام میں صابر شاکر نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے پاکستان کی صورتحال کو نرم لاک ڈاؤن کے منفی اثرات کی وجہ سے انتہائی گھمبیر قرار دیا گیا ہے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر سماجی فاصلے نہ بڑھائے تو بہت زیادہ خراب صورتحال ہو جائے گی رمضان میں بہت خیال رکھنا ہوگا مارکیٹ منڈیاں عبادات جہاں جہاں اجتماعات ہوتے ہیں وہاں پابندی نہ لگائی میل-ملاپ کم نہ کیا تو مریضوں کی تعداد لاکھوں میں جا سکتی ہے امریکہ میں پانچ لاکھ کے حوالے سے اطلاعات ہیں جبکہ پاکستان میں دو لاکھ کا اندازہ لگایا جا رہا ہے یہ عالمی ادارہ صحت کہہ رہا ہے جبکہ کراچی کے ڈاکٹروں نے اس سے بھی زیادہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے اس لئے لاک ڈاؤن سخت لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ ہوگیا ہے افواج پاکستان بھی لاک ڈاؤن کو کامیاب کرنے کے لئے سختی کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گی ۔جہاں درکار ہوگی وہاں فراہم کی جائے گی وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی ہے کہ وبا پھیل رہی ہے سخت لاک ڈاؤن کرنے کی ضرورت ہے اسلام آباد میں سرکاری خبر رساں ادارے کا دفتر سیل کردیا گیا ہے وہاں پہلے ایک مریض سامنے آیا تھا پھر یہ وبا وہاں مسلسل پھیل رہی ہے نمبر ملٹی پلائی ہو جائیں گے

صابر شاکر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان چوکےچھکے مارتے رہتے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا کے ان نوجوانوں سے ملاقات کی ہے جو یوٹیوب چینل چلاتے ہیں یا جن کا روزگار ہے اور جن کے اچھے فالوورز ہیں سوشل میڈیا پر جو لوگ اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں سوشل میڈیا کے نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اینکر کو آڑے ہاتھوں لیا اور جھوٹ بولنے والے اینکروں کی رینکنگ کا حوالہ دیا اور بتایا کہ 2012 میں بہت سا پیسہ کار ٹل نے پھینکا اور اینکرز نے پیسہ بنایا پیسہ بنانے والے اینکرز نے جھوٹ بولا اس لئے ان کی کریڈیبلٹی خراب ہوچکی ہے انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ خود پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے بڑے حامی تھے پرویز مشرف سے بھی کہا تھا کہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو آنے دیں لیکن پھر ان پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے بہت سے اینکرز راتوں رات امیر ہو گئے ان کو بھاری رشوت دی گئی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا اشارہ سیاسی جماعتوں کی طرف تھا جن میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی طرف اشارہ کر رہے تھے 2012 کا ذکر کیا اور کہا کہ پہلے تو کوئی لفٹ نہیں کراتا تھا پھر ہمارا بڑا جلسہ ہوا تو سب کی توجہ ہمیں ملنا شروع ہوئی لیکن بڑے اینکرز کو رشوت ملی انہوں نے جھوٹ بولنا شروع کر دیا لوگوں کو اندازہ ہوگیا یہ کون کون پیسے لے کر پروگرام کرتا ہے کون کون جھوٹ بولتا ہے ۔
صابر شاکر نے کہا کہ وزیراعظم نے سوشل میڈیا والوں کی حکومت کی سطح پر حوصلہ افزائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ یہ اچھا ذریعہ ہے روزگار کمایا جا سکتا ہے زرِمبادلہ بھی آ سکتا ہے اس حوالے سے وزیر اطلاعات کی خبر آئی تھی کہ اشتہارات دیے جائیں گے اب شاکر نے کہا جب میں نے اپنے طور پر چیک کیا تو پتہ چلا ایسی کوئی بات نہیں ہوئی پروگرام کے آخر میں صابر شاکر نے کہا کہ وزیراعظم اس وقت تمام گیندیں نشانے پر کر رہے ہیں صدر مملکت نے اینٹی سمگلنگ آرڈیننس پر دستخط کردیے ہیں اور یہ آرڈیننس نافذ ہوگیا ہے تین سے پانچ سال اور آٹھ سال تک قید کی سزا ہو سکے گی جو لوگ بیس لاکھ پچاس لاکھ ایکڑ سے زیادہ سمگلنگ کریں گے ان کے لیے سزائیں رکھی گئی ہیں ۔