کرونا عذاب نہیں آزمائش ہے حوصلہ رکھیں اللہ نے ہمیں اپنی یاد دلائی ہے کثرت سے اس کا ذکر کریں راستہ ضرور نکلے گا

رمضان المبارک کے حوالے سے پاکستان کی سرکردہ میڈیا شخصیت اور سیاستدان عامر لیاقت حسین سے نصرت حارث نے خصوصی گفتگو کی جسے جیوے پاکستان کے لئے یہاں پیش کیا جا رہا ہے

۔نصرت حارث کا کہنا ہے کہ ادب آداب پڑھائی لکھائی لفظوں میں پرو کر عنوان کو اس انداز سے پیش کرنا کہ سننے والا بآسانی سمجھ لے یہ سب صلاحیت اور قابلیت اللہ تعالی نے ہمارے دور کے مشہور اینکر پرسن اور سیاست میں سرگرم شخصیت اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے عامر لیاقت حسین کو بخشی ہے جنہیں میں عامر بھائی کہتی ہو ں۔


عامر لیاقت نے بھی نصرت حارث سے آن لائن انٹرویو کے دوران اہم سوالات کے جواب دیتے ہوئے سب سے پہلے یہ کہا کہ مجھے آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے بالکل آپ میری بہن ہے آج سے نہیں بہت پہلے سے

۔میں بہن بھائی کے اس رشتے کے تقاضے نبھا نہیں پاتا مجھے آپ کے گھر آنا چاہیے آپ کا خیال رکھنا چاہیے لیکن پھر بھی میں کوشش کرتا رہوں گا کہ بہن بھائی کی محبت اور احترام کے رشتے کو برقرار رکھ سکوں ۔
نصرت حارث کے سوالات پر عامر لیاقت نے کہا کہ جو بھی حالات ہیں اللہ کی رضا میں راضی رہنا ضروری ہے بندہ مومن کبھی شکوہ نہیں کرتا آسمان کی طرف نم آنکھوں سے دیکھ کر کہنا چاہیے کہ اللہ اگر تو مجھے اس حال میں رکھنا چاہتا ہے تو میں راضی ہوں

۔عامر لیاقت نے کہا کرونا عذاب نہیں آزمائش ہے عذاب ہوتا تو رمضان کے مہینے میں نہ آتا رمضان کا مہینہ تو رحمتوں کا مہینہ ہے یہ ایک آزمائش ہے گزر جائے گی کیوں کہ میرے رب کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے میرے آقا کے صدقے جو اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں یہ وقت بھی گزر جائے گا کرونا کی بدولت یہ اچھی بات ہوئی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کا احساس ہونے لگا ہے ایک دوسرے کی خیریت کے لیے فکرمند ہونے لگے ہیں ورنہ ہم اپنی زندگیوں میں اتنے مصروف تھے ایک دوسرے کا خیال نہیں تھا ایک دوسرے کے لئے سوچنے کا وقت نہیں تھا ۔
رمضان نشریات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہاں نصرت اس مرتبہ رمضان ٹرانسمیشن مختلف ہوگی لیکن یہ میرے دل کے قریب ہوگی لوگوں سے میرا ایک رشتہ ہے کچھ لوگوں سے نفرت کی بنیاد پر ہے کچھ لوگوں سے محبت کی بنیاد پر ہے لیکن رشتہ تو ہے میں دلوں کو جوڑنے کی پوری کوشش کروں گا ۔
میڈیا انڈسٹری کی مشکلات اور بے روزگار صحافیوں کیمرہ مینوں کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں تیرا 14 گھنٹے ٹی وی اسکرین پر رہوں گا صرف اس لئے کہ کیمرہ مینوں اور ٹیکنیکل اسٹاف اسٹوڈیو ورکرز کی نوکریاں بچی رہیں جب نشریات چلے گی تو سب کا کام چلے گا جو لوگ مشکل صورتحال میں ملازمت سے فارغ ہوئے اور دنیا سے چلے گئے ان کے لئے دعا کرتے رہنا چاہیے جو لوگ موجود ہیں مشکلات میں ہیں ان کے لیے اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ رازق تو اللہ کی ذات ہے چڑیوں کی طرح بے فکر ہو کر زندگی گزاریں۔ صبح صبح رزق کی تلاش میں نکلے اللہ تعالی رزق دینے والا ہے ۔
عامر لیاقت نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ بتایا ایک مرتبہ حضور نے حضرت بلال سے تمام کھجوریں تقسیم کرنے کے لیے کہا انہوں نے ایک کھجور بچالی تو سوال کیا یہ کس لیے جواب ملا آپ کے لیے ۔آپ نے فرمایا مجھے کھلانے والا میرا پروردگار ہے یہ بھی تقسیم کر دو ۔
اس لئے میں اپنے تمام بیروزگار دوستوں ساتھیوں سے کہنا چاہتا ہوں پریشان نہ ہوں یہ وقت بھی گزر جائے گا اللہ کہتا ہے کہ میری طرف آؤ ہم ادھر ادھر نوکریاں مانگتے پھرتے ہیں اللہ سے مانگو جس نے ایک چھوٹے سے وائرس کے ذریعے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اسے ہر شے پر قدرت حاصل ہے وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے چومنا ہے تو اللہ کا نام چومو ذکر کرنا ہے تو اللہ کا ذکر کرو حوصلہ مضبوط رکھو راستہ ضرور نکلے گا جب اللہ نے حضرت موسی کے لئے پانی سے راستہ نکال دیا تو وہ ہمارے لیے بھی راستہ نکال دے گا ۔
گفتگو کے دوران نصرت حارث نے کہا کہ عامر بھائی اللہ نے آپ پر بڑی نوازش کی ہے اللہ نے آپ کو بڑی دانائی دی ہے بہترین الفاظ کا استعمال کرکے آپ ایسے لوگوں کے سوالات کا جواب دیتے ہیں جو مضطرب ہوتے ہیں اور انکی آپ تسلی کرا دیتے ہیں اس پر عامر لیاقت نے کہا دیکھیں مضطرب ہونا بھی ضروری ہے مضطرب ہوں گے تو جواب ملے گا سمندر میں گرنے کے لیے دریا کا ہونا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ آنکھیں نم ہوتی ہیں تر ہوتی ہیں عشق رسول میں ۔جب میرے آقا کا نام آتا ہے تو آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں ۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں میں لوگوں کی شرائط پر کام کرتا تھا اب میں اپنی شرائط پر کام کرتا ہوں مجھے نہیں معلوم میری کتنی زندگی باقی ہے کتنا وقت باقی ہے لیکن میں مایوس لوگوں کو رب کی طرف مائل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں ۔
آخر میں عامر لیاقت نے نصرت حارث ان کے شوہر اور بچوں کے لئے دعا کی اور ان کے مرحوم والد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی آپ کو دیکھ رہے ہوں گے انہوں نے آپ کی کامیابی کیلئے محنت کی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ ان کی بچی اپنی صلاحیتوں سے اپنے آپ کو منوائے اور اس بچی نے اپنا نام منوایا ہے اللہ آپ کو حفظ و امان میں رکھے ۔