پنجاب حکومت کی کورونا صورتحال میں ناقص کارکردگی پر چیف سیکرٹری تبدیل

سینئر تجزیہ کار اور صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب کو کورونا صورتحال میں ناقص کارکردگی پر تبدیل کیا گیا، نیشنل کمانڈ سنٹر کے اجلاسوں میں چیف سیکرٹری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کا مئوقف مختلف ہوتا تھا،

جبکہ چیف سیکرٹری کی کارکردگی انتہائی مایوس کن دکھائی دی۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں ڈیڑھ دوسال میں چوتھا چیف سیکرٹری تعینات کیا گیا ہے۔
لیکن اب چیف سیکرٹری کو ناقص کارکردگی پر تبدیل کیا گیا ہے، یہ اچھی بات ہے۔ حامد میر نے کہا کہ میں بھی جمعرات کو نیشنل کمانڈ کنٹرول سنٹر کے اجلاس میں موجود تھا، وہاں پر دوسرے صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز بھی موجود تھے۔

دوسرے صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے تمام سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے لیکن چیف سیکرٹری اعظم سلیمان بس ایک دوجملے بول چپ ہوجاتے تھے۔

مجھے بھی ایسے لگا کہ چیف سیکرٹری کو تبدیل ہوجانا چاہیے۔ میرا خیال ہے اسی بنیاد پر ان کو تبدیل کردیا گیا، ویسے بھی وزیرصحت پنجاب اور چیف سیکرٹری دونوں کا کورونا کی صورتحال پر مئوقف الگ الگ ہوتا تھا۔اسی طرح سینئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ چیف سیکرٹری حکومت ہوتی ہے، اگر باربار دو سال میں چیف سیکرٹری اور آئی جیز تبدیل کردیے جائیں، اس کا مطلب ہے کہ حکومت کی کارکردگی بہتر نہیں ہے،حکومت نہیں چل رہی ہے۔
اس کا مطلب آپ لوگوں کو چیف سیکرٹریز کی ناقص کارکردگی کا ذمہ بھی لینا چاہیے۔ سندھ میں تمام فیصلے وزیراعلیٰ سندھ تمام بورڈ کو اعتماد میں لے کر فیصلے لیتے ہیں۔انہوں نے علماء کو بھی اعتماد میں لیا، اگر سب کہہ رہے ہیں کہ صورتحال سنگین ہورہی ہے تو پھر کیوں خطرہ مول رہے ہیں