مجھ سے خطا ہوئی میں بالکل اعتراف کرتا ہوں، مولانا طارق جمیل

معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے ایک انٹرویو میں کہا ہےکہ مجھ سے خطا ہوئی میں بالکل اعتراف کرتا ہوں ،حامد میر اور دیگر سے معافی چاہتا ہوں ،معاملہ ذاتی ہے میڈیا مالک کا نام نہیں بتاؤں گا، دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو خطا سے پاک ہوبڑے سے بڑا علامہ ہو، زاہد ہو،شیخ ہو ،نبی کے سوا ہر آدمی کی زبان لڑکھڑاتی ہے اور یہ انسانی فطرت ہے اور اس کا اعتراف نہ کرنا یہ شیطانیت ہے میں اتنا بولتا ہوں میں اپنے ان کلمات کاجواز نہیں دے رہا بلکہ معذرت کررہا ہوں حامد میرسے بھی میں معافی چاہتا ہوں آپ سے بھی اور دوسرے بیٹھے ہیں ان سے بھی مولاناطاہر اشرفی بیٹھے ہیں ان سے آپ سب سے جو بھی میڈیا سے متعلق ہیں میں آپ سب سے معافی چاہتا ہوں میری کوئی دلیل نہیں مجھ سے غلطی سرزرد ہوئی ۔

میڈیامالک کے نام کے حوالے سے معلوم کئے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ذاتی ہے ایک آدمی کی غلطی اورغلط بول ہے اس کو میڈیا پر کہنا غیبت ہے میں یہ نہیں بتاؤں گا لیکن میں یہ حلفاً کہتا ہوں کہ ٹاپ ٹین میں سے ایک نے کہااور نام کی معذرت قبول کریں اور جومجھ سے غلطی ہوئی میں اس کا اعتراف کرتا ہوں۔

ایک بات میں کہوں گا کہ حامد میر کا کلپ سنا تھااس وقت سے میں نے ان کا نمبر ڈھونڈنا شروع کیاپھر ملا پھرمیں نے کوئی دس کالز کیں لیکن یہ مصروف تھے تویہ کال لے نہیں سکے میں نے کامران شاہد کو بھی براہ راست فون کرکے معذرت کی ہے معافی مانگی ہے جاوید چوہدری کو کل ہی میں نے معذرت کرلی تھی تو بھائی حامد شکر ہے بیٹھے ہوئے ہیں ان سے بھی اور آپ سے بھی جتنے بھی ہیں میں سب سے اعتراف کرتا ہوں اعتراف کے بعد مطلب ہی یہ ہوتا ہے میرا سرینڈر ہے میں اپنی اس چیز کی کوئی دلیل نہیں پیش کررہا ہوں۔

بے حیائی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تو آپ کا میڈیاخود بتائے گا کہ اشتہاروں میں ہماری بچیوں کے لباس کیسے ہوتے ہیں یہ مجھ سے کیا پوچھتے ہیں کچھ آپ بھی تسلیم کریں۔

ایک سوال کے فلمی صنعت کی کچھ خواتین کو آپ نے بہنیں اور بیٹیاں بنایا ہوا ہے کیا وہ نہیں بے حیائی پھیلارہیں ان پر آپ کی تعلیمات اور کلمات کا اثر کیوں نہیں ہوتا.

جواب میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ اثر تو اللہ ڈالتا ہے انبیا کے ہاتھ میں بھی نہیں ہے میرا کام تو محنت کرنا ہے کوشش کرنا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں میں بندہ ناچیز ہوں خطا کا پتلا ہوں مجھ سے خطا ہوئی میں بالکل اعتراف کرتا ہوں ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تو اب ڈاکٹرزہی بتائیں گے کہ مسجد میں جانے کے حالات ہیں یا نہیں ہیں یا جو بڑے فتوے والے حضرات ہیں وہ بتائیں گے میری اس میں اپنی ذاتی کوئی رائے نہیں ہے ہمارے یہاں کے بڑے علما رائے دیں بس تو ٹھیک ہے یا ڈاکٹر زجو کہیں گے وہ ٹھیک ہے۔

سینئر صحافی تجزیہ کار حامد میر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک بات کی میں وضاحت کردوں کہ پاکستان کے علما کی ایک بہت بڑی تعداد ایسے صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے جو حق و سچ کے لئے آواز بلند کرتے ہیں ہماری جو تاریخ ہے یہ بات ہمیں کرنی چاہئے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں آج کل میڈیا میں ان علما حضرات کو بڑی اہمیت ملتی ہے جو ایوان اقتدار کے قریب ہوتے ہیں ہمارے پاکستان میں اکثریت کن کی ہے حنفیوں کی ہے امام ابوحنیفہ کو ماننے والوں کی ہے تو امام ابو حنیفہ کو جب حاکم وقت نے کہا کہ آپ میرے چیف جسٹس بن جائیں انہوں نے جب انکار کیاتو خلیفہ وقت نے غصے میں آکران کوجیل میں ڈال دیا.

اسی طرح امام مالک ہیں ان کو کوڑے لگائے گئے امام شافعی کو کوڑے لگائے گئے امام جعفر صادق کو گرفتار کیا گیاہم جن علما کو ماننے والے ہیں جن مجتہدین کوماننے والے ہیں وہ حاکم وقت بادشاہوں ، حکمرانوں کے سامنے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے تھے وہ ان کے پاس دربار میں جاکر حاضریاں نہیں دیتے تھے نہ ہی سلام کرتے تھے۔

لاہور سے وقائع نگار خصوصی کے مطابق عاصمہ جہانگیر (اے جی ایچ ایس) لیگل ایڈ سیل نے وزیر اعظم کے ٹیلی تھون کے دوران مولانا طارق جمیل کے خواتین سے متعلق ریمارکس کی مذمت کی ہے ۔

کورونا کی عالمی وبا کے دوران دنیا نےخواتین کو درپیش اضافی بوجھ کا اعتراف کیا ہے۔

خاص طور پر پاکستان میں خواتین پر تشدد سے متعلق جرائم میں انتہائی بغاوت دیکھنے میں آئی ہے جن میں غیرت کے نام پر جرائم ، گھریلو تشدد ، حملہ اور بدسلوکی شامل ہیں۔

حقوق انسانی کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی انداز سے یہ تاثر دینا کہ کورونا وائرس کی وبا خواتین کے چھوٹی آستینیں پہننے یا نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے پھیلی ہے، بے وقوفی ہے۔

اپنے ٹوئٹر بیان میں شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ایسے بیانات سے وبائی امراض کے حوالے سے ہماری کم علمی کی یا پھر زن بیزار (Misogynist) سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

اپنی ٹوئیٹ میں شیرین مزاری نے ایسی سوچ کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے مولانا طارق جمیل کے حالیہ بیان کو خواتین کی شرم و حیا کے معاملے کو کورونا وائرس سے جوڑنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

کمیشن نے اپنے ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں اس عمل کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے الفاظ جب ٹیلی ویژن پر نشر ہوں تو اس سے ہمارے معاشرے میں پیوست زن بیزاری کی سوچ نمایاں ہوتی ہے۔

Jang-report