سندھ کا مقدمہ

(ندیم مرزا (سندھ کا مقدمہ)
-قسط نمبر تین-

سندھ کا مقدمہ سمجھنے کے لئے پارٹیشن اور ھجرت کا منظرنامہ سمجھنا بہت ضروری ھے پارٹیشن کے بعد دو طرفہ ھجرت کے عمل پر نظر -دوڑاتے ہیں

ھجرت تین طرح سے ھوئی پہلا حصہ آپٹیز (OPPTIES) کا تھا کیونکہ 1942 میں معلوم ھو چکا تھا کہ اب پاکستان ھندوستان بننے والا ھے اس لئے گورا سرکار نے آپشن دیا کہ جو سرکاری ملازمین ممکنہ ھندوستان اور پاکستان ٹرانسفر کروانا چاھتے ہیں وہ آپشن دے کر پورے خاندان سمیت ھجرت کر سکتے ہیں

مہاجروں کا دوسرا طبقہ سیٹلرز (SETLLERS) کہلایا کہ تبادلہ آبادی کے نتیجے میں تبادلہ جائیداد کے فارمولے پر ھجرت کرنے والوں کو کہا گیا
تیسرا طبقہ پاکستان میں مہاجر اور انڈیا میں شر نارتھی کہلایا جس کی اکثریت فسادات کے نتیجے میں ھجرت کرنے پر مجبور ھوئی پنجابی مہاجروں کو پنجاب میں اور ھندو شرنارتھیوں کو ھندوستان میں بہت عزت دی گئی اور بعد ازاں ھندوستان کے تین صوبوں یوپی ، راجھستاں اور مہاراشٹر کے وزیر اعلی شرنارتھی بنے جبکہ ایک شرنارتھی اٹل بہاری واجپائی ڈپٹی پرائم منسٹر بھی بنے
دونوں نو مولود ملکوں کے درمیان تبادلہ آبادی کا پہلا معاہدہ 18-20 اپریل 1947 کی کراچی اور دھلی میں ھونے والی میٹنگز میں ھوا جس کے تحت پاکستان اور ھندوستان میں مسلمانوں ھندؤں اور سکھوں کی چھوڑی ھوئی جائیداد کاروبار سمیت تمام متروکہ املاک صرف اور صرف ہجرت کرنے والوں کو دی جائیں گی کوئی مقامی کو اس میں سے ایک دھیلے کا بھی حقدار نہ ھو گا اور یہ سب املاک اور زمینیں مہاجرین کی ملکیت تصور کی جائیں گی

مولانا ابوالکلام آذاد کی کتاب
INDIA WINS FREEDOM
میں انہوں نے گاندھی جی کے مرن بھرت کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے مندرجہ ذیل چھ مطالبات کی منظوری کے لئے مرن بھرت رکھا
۱-ھندو اور سکھ فی الفور مسلمانوں پر حملے بند کریں
۲-ھندو اور سکھ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جان و مال کی حفاظت کی وجہ سے کوئی مسلمان ھندوستان نہ چھوڑے
۳-مسلمانوں کی ٹرینوں پر حملے بند کئے جائیں
۴-جن ھندؤں اور سکھوں نے حضرت قطب الدین بختیار کاکی سمیت جن مزاروں کو نقصان پہنچایا ھے وھی اس کی مرمت کریں اور مسلمانوں سے معافی مانگیں

۵-دونوں طرف کے جن لوگوں فسادات کی وجہ سے ھجرت کی ھے انہیں فوری طور پر اُن کے گھروں میں واپس بسایا جائے
۶- انڈیا نے جو چھپن کڑور اور دیگر اثاثہ جات کی پاکستان کو ادائیگی کرنی ھے وہ فوری طور پر کی جائے
اس میں مطالبہ نمبر پانچ گاندھی جی نے مولانا ابوالکلام آذاد کے کہنے پر واپس لے لیا تھا جس کے نتیجے میں صرف اور صرف دھلی میں پینتالیس ھزار گھر شرنارتھیوں کو الاٹ کئے گئے اور دھلی کے صرف ایک لال قلعہ کیمپ سے لاکھوں مسلمانوں کو پاکستان بھیج دیا گیا بائیس شہروں کے دیگر کیمپوں کی ھجرت کی تفصیلات علیحدہ ہیں
اب ذرا ایک نظر پاکستان بننے سے پہلے کے پنجاب اور سندھ پر بھی ڈال لیتے ہیں
پنجاب میں بھی اُس وقت ھندؤں اور سکھوں کا راج تھا جو زیادہ تر تجارت اور زمینداری سے وابسطہ تھے پارٹیشن کا اعلان ھوتے ھی سکھ اور ھندو آدھا پنجاب پورا ھریانہ اور پورا چندی گڑھ لے ھندوستان میں شامل ھو گئے جبکہ ریاست بھاولپور پاکستان میں شامل ھو گئی اور تبادلہ جائیداد کا عمل احسن طریقہ سے انجام پا گیا اور سو فیصد مہاجروں کے کلیموں پر اُنہیں جائیدادیں الاٹ ھو گئیں اور اٹک سے صادق آباد تک کسی نے بھی مہاجروں کو مہاجر ھونے کا طعنہ نہیں دیا اور نہ ھی اُن کو مہاجر ھونے کا طعنہ دیا

اب ذرا سندھ کی طرف ایک نظر ڈالتے ہیں سندھ اُس وقت خیر پور ریاست اور صوبہ سندھ پر مشتمل تھا موجودہ سندھ میں %33 خیرپور اور %67 سندھ تھا اُس وقت پورے سندھ پر تقریباً ھندؤں کا راج تھا
لندن گول میز کانفرنس 1931 میں دئیے گئے اعداد و شمار کے مطابق
سندھ کے ھندؤں کے پاس کیا کیا تھا
سو فیصد عدلیہ اور پراسیکیوشن
سو فیصد ٹریڈ اینڈ انڈسریز
ستانوے فیصد سرکاری نوکریاں
ستر فیصد زمین (40 فیصد اپنی اور 30 فیصد مسلمانوں کی گروی رکھی ھوئی )
پچاس فیصد کابینہ
سینتالیس فیصد ممبران اسمبلی
اور سندھ کا بمبئی سے الحاق تھا

یعنی عملی طور پر ھندو سندھ کے مختار کل تھے اور اُن کا سلوک مسلمانوں کے ساتھ اچھا نہیں تھا میں جس کی تفصیل میں جانا نہیں چاھتا اور ھندو یہ سب کچھ سندھ میں چھوڑ کر ھندوستان چلے گئے
جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ھوں کہ سندھ کے مسلمانوں نے بمبئی کے ساتھ الحاق ختم کرنے کیلئے ایک عمرانی معاہدہ سترہ جولائی 1928 کو کراچی میں طے پایا جس کو “ سندھ ھندو مسلم ٹھاہ” کا نام دیا گیا جس کے تحت اسمبلیوں میں 40 فیصد کوٹہ صرف ھندؤں کا چھ فی صد سکھ پارسی عیسائی و دیگر غیر مسلموں کا اور باقی کا چون فی صد میں مسلمان سندھیوں کا جس میں اصل سندھی معاشی پناہ حاصل کرنے والے بلوچ ،حملہ آور عرب و قندھاری نیز دیگر کاروباری کاٹھیاواڑی میمن ، خوجے ,بوہری ،آغا خانی اسماعیلی، گجراتی ،جوناگڑھی ،کچھی وغیرہ سب شامل ہیں
اس “سندھ ہندو مسلم ٹھاہ “ کوسترہ اٹھارہ ہندؤں ،تین پارسیوں اور آٹھ مسلمان معتبر رہنماؤں نے دستخط کرکے قبول کیا تھا جس کے بعدسندھ کا بمبئی سے 30 اپریل 1936 کو الحاق ختم ھو گیا اور کراچی سندھ کا صوبائی دارالحکومت بنا
جبکہ سندھ میں صورتحال پنجاب کے برعکس تھی یہاں مہاجروں کو مکڑ ( ٹڈی دل) تلیر (جھنڈ میں سفر کرنے والی چھوٹی چڑیا) پناہ گیر (عارضی پناہ حاصل کرنے والے ) کہا گیا اور ایک سازش کے تحت انہیں دل سے قبول نہیں کیا گیا یہ کیا سازش تھی اس کا ذکر آگے آئے گا

جاری ھے