احمد رشدی کی 86ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے

اسلام آباد: پاکستان میوزک انڈسٹری کے درخشاں ستارے گلوکار احمد رشدی کی 86ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے۔

آواز کے جادوگر کہلانے والے احمد رشدی 24 اپریل 1938 کو بھارتی حیدر آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک قدامت پسند گھرانے سے تھا تاہم انہیں بچپن سے ہی موسیقی کا شوق تھا۔

احمد رشدی نے ریڈیو پر گا کر اپنے فنی سفر کی ابتدا کی۔

انہوں نے اردو کے علاوہ گجراتی، بنگالی، بھوجپوری اور کئی دوسری زبانوں میں گیت گائے اور اپنے کریئر میں کل 583 فلموں کے لیے 5000 گانے گائے۔

احمد رشدی نے 1954 میں بندر روڈ سے کیماڑی گا کر شہرت کا وہ عروج حاصل کیا جو کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے
اس کے بعد احمد رشدی نے کبھی پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا، بڑے بڑے گلوکار ان کے آگے بجھ کر رہ گئے۔ انہیں پاکستان کا پہلا پاپ سنگر بھی کہا جاتا ہے۔

چاکلیٹی ہیرو اداکار وحید مراد کے ساتھ رشدی کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ اس جوڑی کے سارے نغمے ہٹ ہوئے۔

احمد رشدی نے موسیقی کی تربیت باقاعدہ کسی استاد سے حاصل نہیں کی تھی اس کے باوجود ان کو عمدہ گائیگی پر ”ستارہ ا متیاز“ سمیت بے شمار ایوارڈز حاصل ہوئے۔ ان کا نام پاکستان میں سب سے زیادہ گیت گانے والے گلوکار کے طور پر آیا۔

انھوں نے 5000 سے زیادہ نغمے گائے جو آج بھی شوق سے سنے جاتے ہیں۔ احمد رشدی 11 اپریل 1983 کو کراچی میں 48 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے