پاکستانی میڈیا جھوٹ کیوں بولتا ہے ؟مولانا طارق جمیل کے سچ پر روف کلاسرا کا جوابی سچ

وزیراعظم کے احساس پروگرام کی فنڈ ریزنگ کے دوران وزیراعظم عمران خان اور اینکرز کے سامنے مولانا طارق جمیل نے کہا کہ پاکستانی میڈیا جھوٹ بولتا ہے ایک میڈیا ہاؤس کے مالک نے کہا تھا کہ جھوٹ بند کر دیں گے تو پھر چینل بند ہوجائے گا ۔
پاکستان کے سینئر صحافی اور اینکر رؤف کلاسرا نے مولانا طارق جمیل کے اس سچ کا جواب بھی سچائی سے دیا ہے
ان کا کہنا ہے کہ سوال یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا جھوٹ بولتا ہے ۔جواب ہے ہاں ۔
اگلا سوال ہے جھوٹ کیوں بولتا ہے ؟جواب ہے حکومت سچ برداشت نہیں کرتی ۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ مولانا طارق جمیل نے آدھا سچ بتایا ہے پورا سچ نہیں بولا ۔انہیں اس میڈیا ہاوس اور چینل کے مالک کا نام بھی بتانا چاہیے تھا جس نے یہ کہا کہ جھوٹ بند کردیں گے تو چینل بند کرنا پڑے گا ۔
مولانا طارق جمیل نے چینل کے مالک کا نام نہیں بتایا اس لئے سب مالکان شک کی زد میں آگئے ہیں اگر مولانا طارق جمیل سچائی کے ساتھ نام بتا دیتے تو ہم جیسے صحافیوں کو بھی پتہ چل جاتا کہ کل کو ہم اس چینل میں کام کرنے نہ جائیں کیونکہ وہاں تو جھوٹ ہی جھوٹ بولا جانا ہے ۔
رؤف کلاسرا نے کہا یہ میڈیا ہی تو ہے جس کی بدولت مولانا طارق جمیل اس قدر مشہور ہوئے اور سیاسی لوگوں کے ساتھ ان کے قریبی رابطے ہوئے کمال کی بات ہے نواز شریف کے ساتھ بھی ان کے اچھے تعلقات تھے اور عمران خان کے ساتھ بھی ہیں یا تو نواشریف اچھے تھے یا عمران خان اچھے ہیں پانامہ کے وقت بھی مشورے دیتے رہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ہی وقت میں نواز شریف عمران خان دونوں اچھی ہو مولانا طارق جمیل کو کوئی ایک پوزیشن لے لینی چاہیے ہندوستان میں جو بادشاہ گزرے ہیں ان کے سامنے اپوزیشن علمائےحق ہوتے تھے ۔
یہ کہہ دینے سے کام نہیں چلے گا کہ سب کے ساتھ ہی سب کے مولانا ہیں سب اچھے ہیں ۔

مولانا صاحب کو ایک پوزیشن دینی ہوگی سب کو خوش نہ کریں ۔ایک مرتبہ کوئی اسٹینڈ لے لیں پھر پتہ چلے گا حق اور سچ بولنے کی کیا قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ۔سرائیکی میں کہتے ہیں کہ فلاں پیر صاحب سب کو بیٹا دیتے ہیں یعنی سب کو خوش رکھتے ہیں ۔

رؤف کلاسرا نے کہا جھوٹ بولا کیوں جاتا ہے ؟
کیونکہ کوئی حکومت سچ برداشت نہیں کرتی ۔ہر حکمران اپنی مرضی کا سچ سننا چاہتا ہے ۔
سچ کو چھپاتے چھپاتے مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوگیا ۔جنرل ایوب اور جنرل یہ سچ اپنی مرضی کا سننا چاہتے تھے ۔
بھٹو صاحب کا دور آیا تو وہ بھی سچ نہیں لکھنے دیتے تھے جیل میں ڈال دیتے تھے ۔جنرل ضیاءالحق کے دور میں صحافیوں کو کوڑے لگائے گئے قصور کیا تھا سچ بولتے تھے ناصر زیدی سمیت پانچ صحافیوں کو کوڑے لگے شاہی قلعے میں رکھا گیا کیونکہ وہ سچ بولنا چاہتے تھے سچ لکھنا چاہتے تھے جنرل ضیاءالحق نے اخبارات میں فوجی بھائیوں کو بٹھا دیا تھا مرضی کا سچ کو آتے تھے ورنہ اخبار میں وہ جگہیں خالی رہ جاتی تھی ۔
بے نظیر اور نواز شریف کے دور میں بھی میڈیا پر سختی کی گئی اشتہارات بند کیے گئے نواز شریف کے دور میں لسٹ دی گئی کہ انصافیوں کو نوکری سے نکال دیا جائے اشتہارات بھی بند کرائے گئے ۔
مشرف دور میں شاہین صہبائی نے لکھا تو ڈان پر چھاپے پڑے انہیں بھاگ کر امریکہ جانا پڑا بچوں کی جان بچانا پڑی کیوں کیونکہ وہ سچ بولنا اور لکھنا چاہتے تھے ۔

مشرف اور شوکت عزیز کے دور میں میڈیا مالکان اور صحافی سچ نہیں لکھ سکتے تھے نہ بول سکتے تھے مرضی کا سچ سننا چاہتے تھے مرضی کا سچ چھڑوانا چاہتے تھے صدرزرداری آئے تب بھی پرابلم ہوئی انہوں نے اشتہارات بند کرادیئے اپنے لوگوں کو ٹی وی شوز میں جانا منع کر دیا ۔
آج عمران خان کے دور میں کیا کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے نوکری سے نکلوا دیا جاتا ہے شو بند کرادیا جاتا ہے پیمرا سے نوٹس آجاتا ہے انور محمود جو سابق سیکرٹری انفارمیشن ہے کاش وہ کسی دن اسی طرح کا سچ بول دیں جس طرح آفتاب اقبال نے سچ بولا ہے یہ ان کی مہربانی ہے کہ انہوں نے بتا دیا ورنہ میں اور عامر متین تو ڈھول نہیں پیٹ رہے تھے اپنی ایمانداری کا ۔عامر متین نے بھی جاب چھوڑ دی میں نے بھی چینل چھوڑ دیا کیونکہ جو کام ہمیں کہہ کہا جارہا تھا وہ ہم نہیں کرسکتے ۔سچ کی سزا ملتی ہے نوکری چلی جاتی ہے سات ڈبجٹ کی سیلری چھوڑ کر آئے ہیں سچ بولنے کی قیمت دی ہے ۔اور ہمارے ساتھ یہ سب کچھ کروانے والے کون تھے وہی تھے جن کے سامنے مولانا طارق جمیل صاحب بول رہے تھے انہوں نے کس کس طریقے سے دباؤ نہیں ڈالا ۔ڈان گروپ سے پوچھیں کس کس قسم کا دباؤ برداشت کر رہے ہیں جیو ٹی وی والوں سے پوچھیں کس طرح کا پریشر ہے ۔
کیا مالکان کو حق نہیں کہ وہ بزنس کریں ساری دنیا میں مالکان بزنس کرتے ہیں ۔
ہاں میں اور عامر متین جیسے صحافی جن کا یہ شوق ہے ہمارا یہ بزنس نہیں ہے ۔
انڈیا میں مودی سرکار کے سامنے جو کھڑا ہوتا ہے اس کا حشر نشر ہوجاتا ہے
صدر ٹرمپ روزانہ میڈیا کو جو ذہن میں آتا ہے منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں ۔
لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ صحافیوں نے وزیراعظم سے وہ سوال نہیں پوچھا جو پوچھنے چاہیے تھے اول تو وہاں ایسا موقع نہیں تھا کہ سیاست کی جاتی سیاسی سوال پوچھے جاتے اور جوائن کر وہاں موجود تھے اگر وہ سوال پوچھ بھی لیتے تو پھر انکے ساتھ کیا ہوتا اگلے دن وفاقی وزیر اور اس کی حکومتی مشینری دباؤ ڈالتی سوشل میڈیا پر گالیاں دینے کا سلسلہ شروع ہو جاتا یہ لوگ ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں پوری فیملی کی تصویریں لگاتے ہیں ۔
سوال پوچھنے پر مالک سے جھگڑا ہوجاتا ہے نوکری داؤ پر لگ جاتی ہے ان لوگوں نے ایسا ٹرینڈ بنا دیا ہے کہ جو سوال پوچھے بعد میں اس کو گالیاں پڑتی ہیں اس کا ٹی وی شو بند کرا دیتے ہیں چینل کو جرمانہ کر دیتے ہیں ۔اگر کوئی سر پھرا پھر بھی سچ بولنے سے باز نہ آئے تو سوشل میڈیا پر گالیوں کا سیلاب اور طوفان کھڑا کر دیتے ہیں اس بچارے صحافی کے گھر والے کہتے ہیں آپ نے کیا اکیلے پورے ملک کو ٹھیک کرنے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے آپ کی وجہ سے ہماری تصویریں چھپ رہی ہیں ہمیں گالیاں پڑھ رہی ہیں رؤف کلاسرا نے کہا مولانا صاحب کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جن کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے مولانا طارق جمیل صاحب خود بھی عمران خان کے سامنے کہہ سکتے تھے کہ آپ کے وزیروں کے نام اسکینڈلز میں آرہے ہیں مولانا صاحب ذرا حکمران پر چیک بھی رکھیں کسی وقت وزیراعظم سے ملیں بات کریں پوچھیں کہ آپ کی حکومت میں تین بڑی رپورٹیں آئی ہیں چینی گندم اور بجلی ۔اور تینوں میں آپ کے لوگ آپ کے وزیر شامل ہیں کیوں نہیں نکالا اب تک ؟آپ کو خود پتہ چل جائے گا سچ بولنا کتنا آسان ہے یا نہیں ۔
رؤف کلاسرا نے کہاکہ ٹرم کے کہنے پر سی این این شو بند نہیں کرتا رنگ کے کہنے کے باوجود نیویارک ٹائمز کسی ملازم کو نوکری سے نہیں نکا لتا۔ ایسا صرف پاکستان بھارت اور تھرڈ ورلڈ ملکوں میں ہوتا ہے جہاں کوئی حکمران جو چاہے کسی اینکر کا شو بند کرا دے جب چاہے کسی صحافی کو نوکری سے نکلوا دے جب چاہے سوشل میڈیا اور سیکرٹ ایجنسی کو پیچھے لگا دے کیوں کہ یہاں کے حکمران صرف اپنی مرضی کا سچ سننا چاہتے ہیں یہی سچ ہے ۔